علاقائی زبانوں اور فنکاروں کا نوحہ - نسرین غوری

ونس اپون اے ٹائم ایک اکلوتا پی ٹی وی ہوتا تھا جسے گھر یا اکثر اوقات محلّے کے اکلوتے ٹی وی سیٹ پر دیکھا جاتا تھا۔ وہ جہاں اردو نشریات دیتا تھا وہیں 6 بجے سے پہلے پہلے علاقائی زبانوں میں بھی نشریات ہوتی تھیں۔ روشن تارا، ناٹک رنگ اور اسی قسم کے علاقائی زبانوں کے پروگرام پورے پاکستان میں نشر ہوتے تھے۔ پی ٹی وی ہی ہفتے یا مہینے میں ایک اردو اور باقی وقت سٹر ڈے نائٹ سینما یا ویک اینڈ سینما کے نام سے انگریزی موویز بھی دیتا تھا۔

پھر سردیوں میں اکثر لیٹ نائٹ اکلوتا نیشنل جیوگرافک کا پروگرام جسے سب مل کر دیکھتے تھے۔ لوک میلہ جو ساری نشریات اور پروگرامز پر چیری آن دا ٹاپ ہوتا تھا۔ سارے پاکستان سے لوک گلوکاروں کا ایک گلدستہ، پٹھانے خان، ریشماں، مائی بھاگی، سلیمان شاہ، طفیل نیازی، استاد محمد جمن، مہ جبین قزلباش،معشوق سلطان، عاشق جٹ، اللہ دتہ لونے والا،عارف لوہار، شوکت علی، منصور ملنگی، پروانہ مستانہ، شاہدہ پروین، ثریا خانم، زرسانگہ، خیال محمد، علن فقیر ۔۔۔۔ ناموں اور چہروں کی ایک کہکشاں ہے جو نظروں کے سامنےبچھی جاتی ہے۔ آوازوں اور لوک گیتوں کا ایک گیت مالا کانوں میں رس گھولنے لگتاہے:

یار ڈاڈھی عشق آتش

میڈا عشق وی توں، میڈا یار وی توں

چیناں ایں چھڑیندا یار

زما جاناناں مڑبہ می کے

چٹی میری ویڑی کالیاں ونگاں شڑنگ کتیاں

شاہ رانجھا البیلا جوگی

کیوں دور دور رہندے او حضور میرے کولوں

اک پھل موتیے کا مار کے جگا سوہنیے

لعل میری پت رکھیو بلا

آپے پاناں اے کنڈیاں، تے آپے کھچناں اے ڈور

میڈا چن مساٹا

کتھے نین نہ جوڑیں

کھڑی نیم کے نیچے

ساڈاں چڑیاں دا چنبہ وے

اینڈ دی لسٹ گوز آن اینڈ آن اینڈ آن۔۔ ۔

پی ٹی وی کی سنسر پالیسی کو ہم جتنا بھی براکہیں لیکن یہ پی ٹی وی ہی تھا جس نے ہم عام لوگوں کو ہر زبان سے، ہر زبان کے فنکاروں سے ان آوازوں کے ذریعے باندھ رکھا تھا۔ ہم جس ذوق و شوق سے رنگ ترنگ دیکھتے تھے اسی ذوق و شوق سے ناٹک رنگ، روشن تارا اور سوجھرو بھی دیکھا کرتے تھے۔

خاص کر ناٹک رنگ جس میں اکثر و بیشتر سندھی شادیوں سے متعلق ڈرامے پیش کیے جاتےتھے اور ہم وہ ساری رسومات بہت شوق سے دیکھا کرتے تھے کہ وہ ہماری شادیوں کی رسومات سے مختلف اور دل چسپ ہوا کرتی تھیں۔ یا پھر سندھ کے ہیروز اور لوک داستانوں پر مشتمل کہانیاں ڈرامائی شکل میں پیش کی جاتی تھیں۔ ان ڈراموں میں موسیقی اور گیت لازمی جز ہوتےتھے۔ بعد میں سندھی اور دیگر زبانوں کے لانگ پلے بھی سب ٹائٹلز کے ساتھ قومی نیٹ ورک پر نشر کیے گئے۔

آج سپیشلائزیشن کا دور ہے ٹی وی چینلز کی بہتات ہے۔ ہر چینل کی کوئی مخصوص فیلڈ ہے مخصوص زبان ہے۔ آج نیوز چینل الگ ہیں، تفریحی چینل الگ، ڈرامہ چینل الگ، مووی چینل الگ، موسیقی چینل الگ۔ اسی طرح اردو کے علاوہ بلوچی، سندھی، پنجابی، سرائیکی پشتو اور ہندکو چینلز سر فہرست ہیں۔ جن پر دن رات کے 24 گھنٹے کچھ نہ کچھ آرہا ہوتا ہے۔

آج اتنی چوائس ہے کہ کچھ بھی پسند نہیں آتا، ڈراموں کی اتنی بھر مار ہے کہ بھیڑ چال کے ڈراموں کے درمیان سنجیدہ اور اچھے موضوعات پر بنے ڈرامے بھی نظر نہیں آپاتے۔ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا ہے کہ ہم اپنی علاقائی زبانوں اور فنکاروں سے دور ہوگئے ہیں ۔۔ آج ہمیں فرصت ہی نہیں کہ ہم سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی یا پنجابی چینلز پر چند سیکنڈ توقف کرلیں۔ ہمیں تو درجہ اول کے چینلز پر جاری جنگ ہائے عظیم سوئم دیکھنی ہوتی ہیں یا پھر انٹرٹینمنٹ کے نام پر ایکسٹرا میریٹل افئیرز۔ اس سے بھی بڑاغضب یہ ہے کہ علاقائی چینلز بھی ترقی اور بقا کی جنگ میں یہی کچھ دکھانے میں مصروف ہیں۔

آج مقامی زبانوں کے فنکاروں کے پاس پورے چینلز موجود ہیں جن پر وہ اپنے فن کا مظاہرہ یقیناً پہلے سے زیادہ کرتے ہوں گے لیکن چینلوں کی بہتات نے ان سے نیشن وائڈ ایکسپوژر چھین لیا ہے۔ خواہ وہ کسی چینل پر 24 گھنٹے آتے رہیں لیکن ان کی ویورشپ محدود لوگوں تک رہ گئی ہے۔

پی ٹی وی کے زمانے میں ہر سہ ماہی میں ڈراموں کا شیڈیول جاری ہوتا تھا، جن میں کراچی اور لاہور کے علاہ پنڈی، پشاور اور کوئٹہ سینٹرز کے ڈرامے بھی قومی سطح پر دکھائے جاتے تھے جن کے موضوعات اور معیار کسی بھی طرح کراچی اور لاہور سے کم نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض ڈراموں نے تو کراچی اور لاہور کے ڈراموں کو کھلا چیلنج بھی دیا۔ کوئٹہ سینڑ کے چھاؤں، کردار اور دھواں نے جو دھومیں مچائیں ان کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے اور ویڈیو چینلز پر اب تک دکھائی دیتی ہے۔ پنڈی سینڑ کا گیسٹ ہاؤس، بندھن اور ایک تھی گڑیا جسے سیاسی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں بند ہونا پڑا، آغوش، پشاور سینٹر کا گل لالہ۔

پرائیوٹ پروڈکشن، چینلوں کی بہتات اور ڈرامہ انڈسٹری کا کراچی اور لاہور میں محدود ہوجانا ان تینوں عوامل نے ایک طرف ہمیں ان فنکاروں اور ان کے فن سے محروم کردیا دوسری طرف مقامی فنکاروں پر بڑا ظلم کیا۔ ان پر روزگار کے دروازے بند ہوگئے۔ کچھ فنکاروں نے کراچی اور لاہور کا رخ کیا لیکن فنکاروں کی اکثریت لاہور اور کراچی منتقل ہونا افورڈ نہیں کرسکتی تھی، ان کا ایکسپوژر اور پھر رفتہ رفتہ روزگار کم سے کم اور ختم ہوتا گیا۔

آج عبدالقادر، محمد نواز، جمیل احمد، نجیب اللہ انجم، شارقہ فاطمہ، نوشابہ، سجاد کشور کے نام کسی کو یاد بھی نہیں ہوں گے۔ ڈرامہ سیریل گیسٹ ہاؤس کے اسٹاک کیریکٹرز یاد کریں آج ان میں سے کسی کا چہرہ کہیں نظر نہیں آتا، دھواں ڈرامے کے ہیرو اور نبیل کے علاوہ پوری کاسٹ کا کچھ پتا نہیں۔ ابھی حال ہی میں "اب میں بولوں کہ نہ بولوں" فیم حرفیاں سنانے والے افتخار قیصر کا کس کسمپرسی میں انتقال ہوا ہے۔

"ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں"

Comments

نسرین غوری

نسرین غوری

نسرین غوری ایک بلاگر ہیں۔ خود کو زمانے سے الگ سمجھتی ہیں۔ ہر معاملے پر ان کی رائے بھی زمانے سے الگ ہی ہوتی ہے۔ جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ آؤٹ اسپوکن کے نام سے ان کے بلاگز یہاں موجود ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.