خون مسلم کیوں ہے ارزاں وادیٔ اراکان میں؟ - صائمہ تسمیر

روہنگیا مسلمان دراصل بنگلہ دیش کے لوگ ہیں، بنگلہ دیش اصل ذمہ دار ہے ان حالات کا!

یہ ان کا داخلی معاملہ ہے، ہمیں آواز اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں!

یہ کفر و اسلام کا معاملہ نہیں بلکہ ایک لسانی لڑائی ہے!

یہ ساری مصیبت ان 'اسلامی جہادیوں'کی کارروائی کا نتیجہ ہے!

بدھ تو بڑی امن پسندقوم ہیں، آخر اس ظلم وستم کی کیا وجہ ہے؟

یہ لوگ مزاحمت کیوں نہیں کرتے، اتنی آسانی سے کیوں کٹ جاتے ہیں؟

آخر اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

یہ اشکالات اور اس جیسے دیگر سوالات آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔ جن میں سے کچھ باتیں حقائق سے لاعلمی کی بنیاد پرکی جارہی ہیں، جبکہ کچھ باتیں جان بوجھ کر انجان بننے والے، عوام الناس کو گمراہ کرنے والے "دانش وروں" کی جانب سے اڑائی جارہی ہیں۔

مسئلہ اراکان کو سمجھنے کے لیے تاریخ اراکان سے واقفیت انتہائی ضروری ہے۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ اراکان میں صدیوں سے آباد روہنگیا مسلمانوں کوبرمی حکومت بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دے کراپنا شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ آئیے !تاریخ کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں کہ اس الزام میں کتنی صداقت ہے اور اراکان کے روہنگیا مسلمان اس خطے میں کب سے آباد ہیں؟

اراکان سے پہلے ایک نظر برما کی تاریخ پر ڈالتے ہیں۔ موجودہ چینی ریاست یونان اور اس کے پڑوسی ملک تبت پرمشتمل ایک شاہی سلسلہ تھا۔ جہاں ایک ظالم چینی بادشاہ کی حکومت تھی۔ یہ ظالم بادشاہ اپنی جان کی حفاظت کے لیے ہرسال ایک مخصوص قوم کے انسانوں کی قربانی کیا کرتا تھا۔ اس ظلم سے تنگ آکر چھٹی یاساتویں صدی میں وہاں سے کچھ لوگ موجودہ برما کی طرف آگئے۔ اس وقت برماآنے والے افراد میں دونسلی گروہ کے لوگ تھے، ایک پیو اور دوسرے موگ۔ انہوں نے مل کر سو ڈیڑھ سو سال کے اندراندرچھوٹے چھوٹے ٹاؤن بناکر برماکے نام سے ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالی۔ ٹی بیٹو برمن نے آہستہ آہستہ مختلف طریقوں سے پیو قوم کو مارا۔ نویں صدی میں ان میں سے کچھ لوگ بہت تھوڑی تعداد میں موجودہ اراکان کی طرف چلے گئے۔ یہاں اراکان کا تذکرہ موخر کرکے ہم آگے چلتے ہیں۔ نویں صدی میں چھوٹے چھوٹے ٹاؤن بناتے بناتے آخرکارسوڈیڑھ سوسال کے بعد 1044ء میں ایک باقاعدہ شاہی سلسلہ وجود میں آیا، جس کا نام پاگن خاندان تھا۔ ہندو مہاراجا 'انورکھا 'نے اس کی بنیاد رکھی، بعد میں وہ بدھ بن گیا۔ کچھ عرصہ چل کر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد1600ء میں 'بائی نونگ' نامی بادشاہ نے توانگو خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس کے ختم ہونے کے بعد 1700 میں 'بوڈھافیا ' نے کونبوانگ خاندان کے نا م سے ایک شاہی سلسلہ بنایا۔

اب اراکان کی طرف آتے ہیں۔ اراکان اس وقت ایک آزاد ریاست تھی، جس کو وشالی خاندان کی ریاست کہاجاتا تھا۔ اراکان کا پرانا نام روہنگ تھا جس کی وجہ سے یہاں کے رہنے والے روہنگیا کہلاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ نویں صدی میں کچھ لوگ برما سے اراکان کی طرف آئے تھے، یہ واقعہ 950ء میں پیش آیا، جب کہ اس سے دوتین سو سال قبل سے مسلمان اس خطے میں موجود تھے۔ 788ء کا مشہور واقعہ ہے کہ کچھ عرب تاجر سامان تجارت لے کر جارہے تھے کہ ان کی کشتی ٹوٹ گئی اور وہ اراکان کی طرف بہہ گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹی بیٹس برما اور موگ کے پہنچنے سے دوسوسال قبل عرب اس سرزمین پر پہنچ چکے تھے۔ وہاں پہنچ کر عربوں نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا، اس وقت اراکان کی سرزمین میں دو مذاہب کے پیروکار آباد تھے، بدھ مت اور ہندومت۔ دعوت کے نتیجے میں رفتہ رفتہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور وہ مضبوط ہونے لگے، جب کہ ہندو اور بدھ ختم ہونا شروع ہوگئے۔ یہ صورت حال ان کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ مسلمانوں کے غلبے کو ختم کرکے بدھ ازم کی بقا و برتری کے لیے 950ء میں ٹی بیٹوبرمن (موگ)اس خطے میں پہنچ گئے۔ انہوں نے وشالی خاندان کو ختم کردیا، نتیجتاًاراکان کے حالات غیرمستحکم ہوگئے۔ مسلمانوں کو ختم کرکے بدھ حکومت لانے کے خواب کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 1431ء میں اراکان میں مراکو خاندان وجود میں آیا، جہاں موگ بدھ کی حکومت تھی۔ بعدازاں 1700ء صدی تک مسلم بادشاہوں نے اراکان میں حکمرانی کی۔ 1784ء میں برمی بادشاہ 'بوڈھا فیا ' نے اراکان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا، یہاں سے روہنگیا مسلمانوں کی ذلت بھری دورغلامی کی ابتداء ہوتی ہے۔ برما اور اراکان کی اس مختصر تاریخ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بدھ کے اس خطے میں پہنچنے سے دو سوسال قبل مسلما ن پہنچ چکے تھے، روہنگیا مسلمان باہر سے آنے والی قوم نہیں ہے بلکہ اسی زمین کے حقیقی بیٹے ہیں، جو ہندوازم سے اسلام قبول کرکے روہنگیا مسلمان کہلائے۔

یہ بھی پڑھیں:   روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟ خالد ارشاد صوفی

1784ء میں آزادمسلم مملکت اراکان پرحملے اورقبضے کے نتیجے میں لاکھوں روہنگیا مسلمان دربدر کردیے گئے، نام نہاد "امن پسند" بدھوں نے مسلمانوں کا بے دردی سے قتل عام کیا۔ بعدازاں 1824ء میں اراکان سمیت برما پر فرنگیوں نے قبضہ کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں قدرے امن ہوگیا اور بدھوں کے لیے مسلمانوں کا قتل عام کرنازیادہ آسان نہ رہا۔ 1942ءمیں دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کو برمااور اراکان سے بھاگنا پڑا تھا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا تے ہوئے برمی بدھوں نے اپنے جاپانی حلیفوں کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں کا دوبارہ قتل عام شروع کردیا، پھر وہی کہانی دہرائی گئی، وہی ہجرت اور دربدری کی المناک داستانیں، بے گوروکفن لاشیں، جابجا مسخ شدہ انسانی ڈھانچے، اغواء اور آبروریزی، سمندروں میں بہتی نعشیں، تعفن کے مارے درندے تک جنگلوں سے بھاگ گئے تھے۔ 4جنوری1948ء میں برطانیہ نے برما کو آزادی دے دی اور اراکان کو پاکستان کا حصہ بنانے یا اس کی سابقہ آزاد حیثیت کو بحال کرنے کے بجائے گوتم بدھ کے پجاری برمی بدھوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا۔ اس وقت سے لے کر تاحال 1784ء اور1942ء والا سلوک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف دو درجن سے زائد فوجی آپریشن ہوچکے ہیں، گزشتہ چند برسوں میں ان میں مزید تیزی آگئی ہے، ان آپریشنز میں ہزاروں تہہ تیغ، بے شمار زخمی ومعذور اورلاتعداد زندہ و مردہ سمندر برد کردیے گئے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کو شہریت، تعلیم، ملازمت و تجارت کے حق سے محروم کردیا گیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ برمی حکومت، ملٹری، پولیس اورمقامی بدھ انہیں جینے کیوں نہیں دیتی؟ سب مل کر ان کا خاتمہ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا محض روہنگیا ہونا یا مسلمان ہونا ان کا جرم ہے ؟نہیں، بلکہ مذہبی ونسلی تعصب کے ساتھ ساتھ درپردہ حقائق اور وجوہات کچھ اور بھی ہیں، جن کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔ ان کا مسلمان ہونا اس ظلم وستم اورسفاکیت وبربریت کی واحدوجہ نہیں، بلکہ اراکان کی سونا اگلتی زمینیں اور اس کی قدرتی ومعدنی وسائل بھی ان مظالم کی بہت بڑی وجہ ہے۔ سرزمین اراکان میں چھپے ان خزانوں کے بارے کچھ تفصیلات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اراکان ایک قدرتی وسائل سے مالامال خطہ ہے۔ قدرتی گیس، تیل، کوئلہ، قیمتی پتھر، ہیرے جواہرات اور دیگر وسائل کے حصول کے لیے عالمی طاقتوں کی نظریں اراکان پر لگی ہیں۔ یہ 14200 مربع میل پرمشتمل خطہ ہے، جو رقبے اور وسائل کے اعتبار سے پانچ ممالک(قطر، بحرین، برونائی، سنگاپوراور کویت )کے برابر ہے۔ اراکان میں چار بڑے بڑے دریا ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق ان دریاؤں سے تقریباًًایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیداکی جاسکتی ہے، جو اراکان کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ چٹاگانگ اور برما کے تین سے چار اسٹیٹ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اراکان کے ٹاؤن بوتھی دونگ کے علاقے فوئی مالی کے ایک آبشار سے ان چار دریاؤ ں کے برابر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اب بات کرتے ہیں دوسرے اہم ذریعے کوئلے کی، دریا کی مانند کوئلہ بھی بجلی کی پیداوار کا ذریعہ ہے، یہ ریل اور بھاری مشینری میں بطور ایندھن بھی استعمال کیا جاتا ہے، پورے برما میں کل دو بلین ٹن کوئلہ پایا جاتا ہے، جس کا چوتھائی حصہ اراکان سے حاصل ہوتا ہے۔ اراکان کا نصف حصہ جنگلات اور نصف حصہ دریاؤں پر مشتمل ہے، چاول اور دیگر اجناس کی کاشت کرکے اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد کرنے کے لیے جنگلات والا حصہ انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق برما میں چاول کی کل پیداوار 19ملین ٹن ہے، جب کہ 4سے5ملین ٹن صرف اراکان کی پیداوار ہے۔ اراکان کا آبی حصہ تقریباًً350اسکوائر میل پر مشتمل ہے، فی الوقت اراکان کے ٹاؤن اکیاب میں ایک پورٹ(بندرگاہ)موجود ہے، جب کہ چار مختلف مقامات پر مزید چار پورٹ بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اراکان کے دریاؤں میں ایسے 15بلاک دریافت کیے گئے ہیں جن سے تیل اورگیس نکالاجاتا ہے۔ ایسے مزید بلاک منگڈو اور بوتھی دونگ کی زمین میں بھی دریافت ہوئے ہیں۔ بلاک A1اورA3کو تیل اور گیس نکالنے کے لیے چین کے حوالے کیا گیا ہے، جب کہ مزید13بلاک کو اب تک منظر عام پر نہیں لایاگیا۔ چینی حکومت دونوں بلاک کے لیے برمی حکومت کو سالانہ ایک بلین ڈالر ادا کرتی ہے، یہ سلسلہ اگلے تیس سال تک جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   معصوم تصاویر - جویریہ ذاکر

گیس اور تیل کے ساتھ ساتھ سرزمین اراکان میں قیمتی پتھر اور ہیرے جواہرات بھی بکثرت پائے جاتے ہیں، جن میں موتی، ہیرے، لعل، جیڈ، زمرد، یاقوت اور مرجان شامل ہیں۔ جیڈنامی پتھر انگلی کے پور کے برابر بھی ہو تواس کی مالیت ایک ملین ڈالر ہے۔ منگڈو اور اکیاب میں پائے جانے والے پرل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت مانگ ہے۔ اعلیٰ معیار کی مچھلیاں اور سی فوڈز اراکان کی دریاؤں میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اراکان ایک نہایت خوب صورت اور جنت نظیر خطہ ہے، جہاں ایک طرف گھنے باغات، ہریالی اور تاریخی مقامات ہیں تو دوسری طرف قدرتی جزیرے او ر آبشار ہیں، جو دیکھنے والوں کو مبہوت کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس طرح سیاحت کے ذریعے بھی کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔

اراکان کی قدرتی ومعدنی وسائل کے حوالے سے یہ چند حقائق ہیں جن سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی نظریں کیوں سرزمین اراکان پر ہیں۔ روہنگیا مسلمان ان وسائل کے اصل وارث اور برابرکے حق دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برمی حکومت، ملٹری، پولیس اور مقامی بدھ سب مل کر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں، ایسے ناقابل برداشت حالات پیداکرتے ہیں کہ مسلمان مجبوراًًاپنی سرزمین چھوڑ کرچلے جائیں، اس طرح وہ ان وسائل پر قابض ہوسکے اور ان وسائل کا کوئی شراکت دار یا دعوے دار باقی نہ رہے۔

جہاں تک بات کی جاتی ہے کہ روہنگیا مسلمان مزاحمت کیوں نہیں کرتے ؟اتنی آسانی سے بلا چوں چراں گاجر مولی کی طرح کیوں کاٹ دیے جاتے ہیں؟ اس حوالے سے عرض یہ ہے کہ 233سال کی محکومی، غلامی اور ساتھ ساتھ بد ترین قسم کی نسل کشی کے مسلسل عذاب نے روہنگیا مسلمانوں کی غیرت، حمیت، خودی اور جذبہ حریت سمیت بہت کچھ ختم کردیا ہے۔ ایسے لوگ کہ جنہیں عرصہ دراز سے گھرمیں ایک بڑی چھری یا ڈنڈا تک رکھنے کی اجازت نہیں، جن پر حصول تعلیم کے دروازے بند کرکے حصول شعور کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کردی گئی، ایسے لاچار، بے بس اور نہتے لوگ مزاحمت کرے بھی تو آخر کیسے کرے ؟ حالیہ جاری سفاکیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ برمی حکومت مسلمانوں کے خاتمے کے اس مشن کو جلد ازجلد مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم برادری مداخلت کرکے یہ قتل عام فوری طور پر رکوائے اور انڈونیشیا کے مشرقی تیمور کی مانند اراکان کو آزادی دلوائے۔ یہی اس مسئلے کا مؤثر اور پائے دار حل ہے۔ اگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی تو خاکم بدہن ڈرہے کہ اس خطے میں کوئی کلمہ گو باقی نہ رہے گا اور بدھوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے اثرات سے کوئی مسلم ملک نہیں بچ پائے گا۔ خدارا ! اس آگ کو وہیں قابوکرلیجیے بصورت دیگر یہ آگ ایک دن آپ کے گھر کو بھی جھلساکررکھ دے گی۔

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں