خود سے دھاندلی - انیس اکرم

اتفاق ایسا ہے کہ نواز شریف کی ریلی کو لاہور آتے ہوئے اور سراج الحق کی ریلی کی لاہور جاتے ہوئے کور کرنے کا موقع ملا اور اس طرح کے پورے راستے ان دونوں لیڈران کرام کے ساتھ سائے کی طرح رہنا پڑا۔ ایک ہی راستے پر ایک بار مخالف سمت میں قائدین اور ان کے ساتھ چلتے اور استقبال کرتے عوام اور ان کا ردعمل! بہت کچھ ہے کہنے کو لیکن سچی بات ہے ہم لوگ پروپیگنڈے کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ سچ تو بعض اوقات آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود مشکوک ہوجاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی خاکسار کے ساتھ ہو رہا ہے کہ میں چاہنے کے باوجود بھی اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہا کہ میاں نواز شریف اور سراج الحق کے ساتھ کون کون تھا؟

میاں نواز شریف کی ریلی اور اس کی شان شوکت بلاشبہ بڑی تھی۔ ہاتھیوں جیسی ہیبت والی گاڑیاں جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصار میں جدھر سے گزرتے عوام دیوانہ وار ان پر ٹوٹ پڑتے۔ لوگ ایک قانونی طور پر نا اہل وزیر اعظم کی گاڑی کو بوسے دیتے، ٹائر چومتے اور آگے کا راستہ دیتے۔ اس میں سرکاری مشینری بھی استعمال ہوئی ہوگی لیکن عوام کا دیوانہ پن خوب دیکھا، جس کی انتہا گوجرنوالہ میں تھی۔ جہاں کے عوام میاں صاحب کے انقلاب کی باتوں کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے تھے اور اس ہجوم کو میاں صاحب جب چاہے، جیسے چاہے اور جہاں کا چاہے رخ کروا سکتے تھے۔ ہو سکتا ہے کچھ یہی معاملہ لاہور کے داتا دربار اور اس کے گردونواح کی آبادی میں ہو۔ بہرحال، میاں صاحب کا استقبال ایسے کیا جا رہا تھا جیسے کسی جنگ سے لوٹنے والے غازی ہوں۔

اب اس ریلی کا موازنہ اگر جناب سراج الحق کے احتساب مارچ سے کیا جائے تو بالکل نئے ماڈل کی پراڈو میں سوار ہونے کے باوجود سراج صاحب کی کی ریلی میں وہ شان اور تمکنت نہیں تھی اور نہ ہی عوام کی بڑی تعداد دیکھنے آئی۔ ہر جگہ وہی لگے بندھے جماعت کے کارکن بلکہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جماعت کے کارکنان کی بھی آدھی تعداد نہ پہنچ سکی۔ نواز شریف کی ریلی میں تماشہ دیکھنے والے بڑی تعداد میں تھے، ادھر وہ بھی نہیں تھے۔ بس نعرے تھے، پورا زور لگا لگا کر گلا پھاڑ پھاڑ کر لگائے گئے نعرے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بندوں کی کمی اونچی آواز میں زور زور سے نعرے لگا کر پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لاہور کا انتخابی دنگل - پروفیسر جمیل چودھری

ہر جگہ وہی چند سو افراد سراج صاحب کی انتہائی معقول باتیں، مثلاً غربت کی وجہ حکمران اشرافیہ ہے ، ا حتساب صرف نواز شریف کا نہیں سب کا ہونا چاہیے وغیرہ، سنتے دکھائی دیے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے کان دھرا ہوگا۔ مجھے تو یہ خدشہ ہے اس بار کہیں جماعت کے اپنے کارکنان بھی ہمدردی اور نعرے اپنی جماعت کےلیے لگائیں، لیکن ووٹ کسی اور کو ہی نہ دے دیں۔

ہم اگر کوریج کے حوالے سے اپنی مشقت اور لوگوں کی رویّے کی بات کریں تو یقین جانیں جس قدر بد تہذیبی کا نواز شریف کی ریلی کے دوران ہمیں لوگوں کی طرف سے سامنا کرنا پڑا، مجھے تو ہجوم سے ہی گھن آنے لگ گئی تھی۔ کسی سے بھی بات کرتے تو وہ کاٹنے کو دوڑتا، نہ کھڑے ہونے کا سلیقہ، نہ بات کرنے کا، بات بات پر موٹی موٹی گالیاں، بدتمیزی و بد اخلاقی۔ دوسری جانب جماعت کے لوگوں میں تنظیم بھی اور تعظیم بھی نظر آئی۔ جس سے بھی پیچھے ہٹنے کا اصرار کیا، اس نے برا ا نہ منایا۔ ایک ایسے ہجوم سے واسطہ پڑا جو نواز شریف کی ریلی سے بالکل مختلف تھا بلکہ متضاد تھا۔

سوچنے کی بات ہے کہ عوام کسی کو اپنا لیڈر کیوں مانتے ہیں؟ اور بڑا اور چھوٹا لیڈر کیا ہوتا ہے؟ سچی بات کہوں تو جی ٹی روڈ پر مجھے ایک بہت بڑے بڑے مجمع سے چھوٹا شخص خطاب کرتا نظر آیا اور ایک چھوٹے سے مجمع سے ایک بڑا لیڈر اور مخلص انسان دل لگتی بات کرتا ملا۔ عوام کے اس حسن انتخاب پر میرے پاس کوئی الفاظ نہیں۔ میں نہیں سمجھ پا رہا کہ لیڈر کا منتخب کرنے کے حوالے سے ایک آدمی کس طرح کیا سوچ کر فیصلہ کرتا ہے؟ پھر وہ اجتماعی رائے کیسے بنتی ہے؟ کیا ہم دھاندلی تو نہیں کر رہے ہیں؟ وہ بھی خود سےہی؟

یہ بھی پڑھیں:   قائد اعظم ؒ اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین - میر افسر امان

آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان ہمارے مرکزی رہنما ہیں، تینوں کا دعویٰ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے اور یہ سچ بھی ہے۔ آنے والے انتخابات میں انہی تینوں میں ایک دو اور تین نمبر کی پوزیشن کا تعین ہوگا۔ اور مستقبل میں سراج الحق نئے ترانوں، نئی لگن اور خلوص کے ساتھ ایک بار پھر ان تینوں میں سے کسی کے خلاف پہلے سپریم کورٹ جائیں گے، پھر جی ٹی روڈ پر احتساب مارچ ہوگا اور نعرے لگیں گے۔۔۔۔۔!