7 ستمبر اور ختم ِنبوت - محمد زید عثمان

طلبہ یونین انتخابات میں جیت کی خوشی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے پروگرام بنایا کہ شمالی علاقہ جات کی سیر کرنی چاہیے۔ 22 مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج، ملتان کے یہ طلبہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق رواں دواں تھے کہ ٹرین ربوہ (چناب نگر) کے ریلوے اسٹیشن پر رُکی تو حسب معمول قادیانی مبلغین نے اپنے پمفلٹس اور 'الفضل' اخبارتقسیم کیے، پھر اپنی تبلیغ اور مرزاقادیانی کے حق میں تعریفی کلمات اداکرناشروع کر دیے۔ جب طلبہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے پمفلٹس پھاڑے اور مرزا قادیانی کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ قادیانیوں نے یہ منظر دیکھا تو معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔ بہرحال، ٹرین سفر پر چل پڑی اور طلبہ بے فکر ہوکر دوبارہ سفر میں مگن ہوگئے۔ قادیانیوں نے طے کیا کہ واپسی پر ان طلبہ کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھیں۔

پھر ایک مرتبہ پھر وہی طلبہ پشاور سے واپس منزل کی طرف روانہ ہوئی۔ چناب ایکسپریس پشاور سے ملتان جا رہی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ راستے میں بدلے کی آگ میں جلتے قادیانی بڑی تعداد میں موجود ہوں گے۔ ٹرین 29 مئی کو ربوہ سے پہلے نشتر آباد کے اسٹیشن پر رکی تو سٹیشن ماسٹر نے چپکے سے طلبہ کے ڈبے پر کراس کا نشان لگا دیا تاکہ قادیانیوں کو پتہ چل جائے کہ طلبہ اس ڈبے میں سوار ہیں۔ جب ٹرین ربوہ پہنچی تو پہلے سے تیار قادیانیوں نے دھاوا بول دیا۔ نشتر میڈیکل کالج کے درجنوں طلبہ زخمی ہوئے۔

یہ خبر جہاں جہاں پہنچی، وہاں ان طلبہ کے استقبال اور امداد کے لیے مسلمانوں کی بڑی تعداد پہنچی لیکن اشتعال بھی بہت زیادہ تھا۔ فیصل آباد میں مولاناتاج محمودؒصاحب نے اسٹیشن پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور وہاں تقریر کے دوران اعلان کیا کہ جب تک ان طلبہ کا بدلہ نہیں لیا جائے گا، وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہاں زخمی طلبہ کو اتار کر فیصل آباد کے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا اور جو ٹھیک تھے، انہیں ملتان بھیج دیا گیا۔ پھر 14 جون کو علماء نے ایک ملک گیر تحریک کا اعلان کیا اور قادیانیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

واقعے کی خبر جب قومی اخبارات میں چھپی تو سخت ردعمل سامنے آیا اور تمام مکاتب فکر پر مشتمل ایک تحریک ابھری، جسے مجلس تحفظ ختم نبوّت کا نام دیا گیا۔ اس کی قیادت کا سہرا علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشید محدث العصرحضرت مولانا سیدیوسف بنوریؒ کے حصے میں آیا۔پارلیمنٹ کے اندرتحریک کی قیادت قائد حزب اختلاف مفتی محمودؒنے کی۔

بالآخر 30جون 1974ء کوقومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمدنورانی نے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردینے کا بل 28 ارکان کے دستخطوں پر پیش کیا۔قائدایوان ذوالفقارعلی بھٹونے سانحہ ربوہ پرغورکرنے اور قادیانی مسئلے پر سفاشات مرتب کرنے کے لیے پوری قومی اسمبلی کوخصوصی کمیٹی قرار دیا۔ سرکاری طور پر بل وزیرقانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کیا۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پرغوروفکرکرنے کے لیے دو ماہ میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ 5اگست 1974ء میں ایوان کی پہلی کارروائی ہوئی جس کی صدارت چیئرمین سینٹ صاحبزادہ فاروق علی خان نے کی۔6 سے 10 اور 20 سے 23 اگست کو قادیانیوں پر جرح ہوئی اور 27اگست کولاہوری گروپ پرجرح ہوئی۔لاہوری اور قادیانی گروپ نے اپنے اپنے محضر نامے پیش کیے اور جھوٹے ثابت ہوئ۔یہاں تک کہ پاکستان کے قومی اسمبلی میں یہ بل 7 ستمبر 1974ء کو4بج کر35منٹ پرمنظورہوا اور پوری قوم کے اتحاواتفاق سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیاگیا۔

ذوالفقارعلی بھٹونے قائد ایوان کی حیثیت سے 27منٹ تک وضاحتی تقریرکی اور بتایاکہ قادیانی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے بھی انکاری ہیں اور پاکستان کے بھی دشمن۔ یوں 7ستمبرکوایک تاریخی فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہوا۔اس فیصلے پر ملک بھر میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس فیصلے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان باور کرانے کی بارہا کوشش کی، جس پر علماء نے احتجاج کیااور صدر ضیاء الحق سے مطالبہ کیا، جس پر انہوں نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرکے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ مرزا طاہر برطانیہ فرارہوگیا یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کاخمیرتھا ، مگرختم نبوت کے پروانوں اور دیوانوں نے اِن کا پیچھا کہیں بھی نہیں چھوڑا۔

آج بھی دینی جماعتیں اور پاکستان کے تمام مکاتب فکر اپنے اپنے انداز میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ قادیانیوں سمیت اسلام اور وطن دشمن فتنوں کے تعاقب کے لیے تعلیم وتربیت، میڈیا اور لابنگ جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر کام کیا جائے، خصوصاََ قادیانی تیکنیک کو بھی سمجھا جائے۔