چنیوٹ واقعے کا اصل مجرم کون؟ یوسف ابوالخیر

27 ذی القعدہ بمطابق 20 اگست کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب چنیوٹ کے گاؤں عاصیاں پنڈ کی مسجد میں ایک ایسا اندوہ ناک واقعہ پیش آیا جس نے ہر دردمند دل شخص کے دل پر لرزہ طاری کر دیا۔ واقعہ یوں تھا کہ کراچی سے تبلیغ کی سال والی ایک جماعت (جس میں تیرہ لوگ شامل تھے اور زیادہ تر پختون تھے) کی تشکیل ہوئی جو لوگوں کو ایمان یقین کی باتیں بتانے اور ان کے عقائد کی درستگی کے لیے پنجاب کے دور دراز علاقوں میں پہنچے۔ یہاں پر ازراہ تمہید بتاتا چلوں کہ تبلیغی جماعت بنیادی طور پر تو دیوبند مکتبہ فکر سے ہے، مگر یہ دیوبند کی لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور دیگر شدت پسند و متشدد جماعتوں سے بہت مختلف ہے، یہ انتہائی بے ضرر اور معصوم طبعیت کے لوگ ہوتے ہیں جن سے کسی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا، یوں سمجھ لیں کہ یہ پوری طرح گاندھی گیری پر عمل پیرا نظر آتے ہیں کہ کوئی اگر ایک گال پر طمانچہ مارے تو آپ بدلہ لینے کے بجائے اپنی دوسری گال آگے کر دو۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں امریکہ برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ویزے باآسانی مل جاتے ہیں۔

اب واپس واقعے کی طرف آتے ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں، اور نہ ہی یہ کسی سے ڈھکی چھپی ہے، دونوں مکتب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف فتوے بازی اور مناظرے کا چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں جو کسی طور بھی مستحسن اقدام نہیں۔ جب کراچی سے یہ جماعت تبلیغ کے لیے چنیوٹ پہنچی تو چنیوٹ کا ایک نوجوان جس کا نام اکرم چنیوٹی ہے، نے اس جماعت سے ان کے عقائد کو غلط ثابت کرنے اور بحث و مباحثہ یا مناظرہ کرنا چاہا۔ تاکہ ان تبلیغیوں کو اکرم کی فکر کے مطابق راہ راست پر لایا جاسکے۔ اکرم 18، 19 برس کا ایک کم عمر نوجوان ہے جس نے پنجاب کے ہی علاقے بھیرہ کے ایک بریلوی مدرسے کرم علی شاہ سے حفظ قرآن کیا ہے۔ اکرم کی عمر میں ویسے ہی خون جوش مار رہا ہوتا ہے، ایسے میں ناپختہ خیالات اور سوچ و فکر کو مسلک پرستی کی بھٹی میں جھونک دیا جائے تو اکرم جیسے نوجوان معاشرے کے لیے انتہائی مہلک صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اکرم صاحب کو جماعت سے جب مناظرے کا موقع نہیں ملا تو اس وقت تو وہ وہاں سے چلے گئے، لیکن پھر رات کی تاریکی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور گہری نیند میں مشغول تبلیغی حضرات پر کلہاڑی وغیرہ سے حملہ کر دیا۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ جب تک لوگ اٹھتے اور کچھ سمجھتے تب تک کلہاڑی کے پے در پے وار سے ایک بزرگ شہید اور دوسرے شدید زخمی ہوچکے تھے۔ بہرحال سارے ساتھیوں نے مل کر مجرم اکرم اور اس کے ساتھی کو پکڑا، لیکن چونکہ ان کی زیادہ توجہ اپنے شدید زخمی ساتھیوں کی جان بچانا تھی تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکرم کا ساتھی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اکرم اس موقع پر “حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے” کہ نعرے لگا رہا تھا۔

واقعے کے اگلے روز شہید بزرگ کی نماز جنازہ اسی مسجد میں ادا کر دی گئی، شہید کا رہائشی تعلق کراچی سے تھا لیکن بنیادی طور پر وہ کے پی کے سے تھے، جنازے میں شہید کے جوان بیٹے آئے اور جسد خاکی کو اپنے ساتھ گاؤں لے گئے، اللہ پاک بزرگ کو شہادت کے مرتبے پر سرفراز فرمائے۔ جنازہ پڑھانے کے لیے رائیونڈ سے تبلیغ جماعت کے بزرگ مولانا عباداللہ تشریف لائے تھے، انہوں نے جنازے کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، ہماری دشمنی نفس اور شیطان کے ساتھ ہے۔ ہم کسی سے بدلہ نہیں لینا چاہتے۔ اس موقع پر انہوں نے حاضرین سے تبلیغ میں وقت لگانے کا وعدہ بھی لیا۔ مجرم اکرم ماچھی اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر ذی شعور کا یہی مطالبہ ہوگا کہ مجرم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

یہاں پر ایک غیر معمولی بات یہ بھی ہے کہ مجرم کا تعلق زبردستی تحریک لبیک یارسول اللہ اور اس کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ گو کہ خادم رضوی کی شعلہ بیانی اور طرز سیاست سے میں ذاتی طور پر متفق نہیں ہوں، لیکن بہرحال وہ پاکستان میں ناموس رسالت کے قانون کے محافظین کی پہلی صف میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ میں نے جب معاملے کی تہہ میں پہنچنے کے لیے تحریک کے متعلقہ افراد سے رابطے کا آغاز کیا تو یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ اکثر لوگوں کو تو اس واقعے کا علم ہی نہیں تھا۔ تحقیق اور رابطے کا سلسلہ وسیع کرتا ہوا جب میں رضوی صاحب کے ترجمان تک پہنچا تو انہوں نے پہلے تو واضح تردید کی کہ اس افسوسناک واقعے سے تحریک لبیک یارسول اللہ یا علامہ رضوی کا ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ دوسرا انہوں نے کہا کہ چونکہ واقعہ انتہائی تحقیق طلب ہے کہ آیا یہ توہین کا ہی معاملہ ہے یا ذاتی رنجش یا کوئی اور سبب، تو پہلے معاملہ واضح ہوکر سامنے آجائے تو ہم اپنا مؤقف جاری کریں گے۔ میں نے اصرار کیا کہ واقعے کو تین روز گزر چکے، اب تک کم از کم علامہ صاحب کی جانب سے اس سنگین اور اندوہناک سانحے کی مذمت تو آجانی چاہیے تھی؟ اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ مرکزی مشاورت جاری ہے، جیسے ہی کچھ طے پایا، آپ کو ضرور آگاہ کریں گے۔

میں نے ذاتی طور پر دیگر ذرائع سے بھی جب تصدیق و تحقیق کی کوشش کی تو یہی بات سامنے آئی کہ مجرم اکرم چنیوٹی کا یہ ذاتی عمل ہے جو کہ قابل مذمت اور لائق سزا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس سارے واقعے میں اکرم ماچھی اصل مجرم نہیں بلکہ محض ایک مہرا ہے۔ اصل مجرم دین کے وہ ٹھیکیدار ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مسلک کی الگ الگ دکان لگا رکھی ہے، جہاں وہ اکرم جیسے نوعمر جوانوں کو مسلک پرستی کی آگ میں جلا کر کندن بناتے ہیں اور پھر ایسے دلدوز واقعات رونما ہوتے ہیں جو چنیوٹ میں ہوا۔ ہم جب تک مسلک پرستی اور فرقہ واریت کے اس دلدل سے نکل کر ایک امت نہیں بنیں گے، اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے، اسلام کی آفاقیت اور جامعیت تک نہیں آئیں گے تب تک ایسے واقعات کا تھم جانا ایک ایسا خواب ہی ہوسکتا ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔ دوسرا مجرم کے ذاتی فعل کو جس طرح بریلوی مکتب فکر سے جوڑا گیا اس کے بھی انتہائی خطرناک نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ آگ چنیوٹ سے نکل کر پاکستان کے گلی محلوں تک میں پہنچ سکتی ہے، ہم پہلے ہی شیعہ سنی تنازعات کی آگ میں جھلس رہے ہیں، ایسے میں فرقہ واریت کا ایک نیا شعلہ بھڑکانا ملک و قوم کے لیے زہرِ قاتل ہوسکتا ہے۔ ہر ذمہ دار فرد کو اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ضرور ادا کرنا ہوگا۔

Comments

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کے طالب علم ہیں۔ اخبارات اور چینلز کے ساتھ کام کا تجربہ ہے۔ حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں اور گاہے لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔ روایتی اور مروجہ انداز و اصالیب سے ہٹ کر کچھ منفرد لکھنے کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */