کبھی طالع آزما، کبھی صالح آزما - مظہر چودھری

مقام ہے مانچسٹر اور تقریب کا عنوان تھا 'جشنِ پاکستان'۔ موجود تھے چند اعلیٰ دماغ او رکچھ ارفع نام، جن میں معروف شاعرو کالم نگار منصور آفاق،سہیل وڑائچ،پیر سید لخت حسنین،بیرسٹر امجد ملک،انعام الرحمٰن سحری، ڈاکٹر اکبر ملک اور طاہر چودھری نمایاں تھے۔ ہم بھی وہاں موجود تھے، ہم سے تو کسی نے پوچھا نہ کیا، سو ہم چپ رہے۔ لیکن آخر کب تک چپ رہتے کہ چپ رہتے تو مر نہ جاتے؟ کیونکہ بات جب وطن کی ہو، سٹیج بھی سج چکا ہو اور دانشور تالیوں کی گونج میں عوام کالانعام پر علمی رعب بھی جھاڑے، مگر سچ نہ بولے تو روح تڑپ اٹھتی ہے۔ سو دل ہی دل میں بڑ بڑانے میں عافیت سمجھی۔

پاکستان میرا وطن، کہ بحران جس کے دیوار و در میں رہتے ہیں۔میرا دیس کہ تجربہ گاہ بن چکا، طالع آزماؤں کی تو کبھی صالح آزماؤں کی۔ سہیل وڑائچ ہوں اور ان سے حالات حاضرہ کے کھلے تضاد پر بات نہ ہو؟ عوام ہوں اور سوالات نہ ہوں؟ سب سے پہلے جناب منصور آفاق گویا ہوئے کہ ایک سابق وزیر اعظم پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ اس پر چند قہقہے تو برسے، داد تو مل ہی گئی لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے کمپیوٹرکی سکرین کے زوم اِن اور زوم آؤٹ کی طرح"اگر مجھے قتل کر دیا گیا" نامی کتاب کا ٹائٹل یوں آنے لگا گویا ہمیں ماتھے سے پکڑ پکڑ کر جھنجوڑ رہا ہے۔ ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا تو کوئی ہمدم و ہمنوا نہ تھا۔ سوچنے لگا کہ ابھی تو "اگر مجھے قتل کر دیا گیا " نامی کتاب کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی اور اس کے ذوالفقار علی بھٹو نامی مصننف کی یاد بھی دل سے محو نہ ہوئی تھی، ایک "اگر " کے بعد ایک "کیوں" نے دل میں ایک گرہ سی لگا دی ہے۔اسی لیے ہمارے محترم جناب منصور آفاق بھی طنزیہ لہجے میں"مجھے کیوں نکالا" کی گردان کر رہے تھے کیونکہ ہم سب لوگوں کو"اگر مجھے قتل کر دیا گیا" جیسی کتابوں پر نوحے پڑھنے کی عادت ہے، زندوں کی "کیوں " سے ہمیں کیا سروکار؟ کہ ماتمی قوم ہیں، ہم تو میت چاہتے ہیں میت! جیتا جاگتا انسان کس کھیت کی مولی ہے؟ جنازے کے احترام میں تو گاڑی روکتے ہیں مگر جیتے جاگتے انسان کا تو اللہ نبی وارث!

کیا پاکستان کسی جنگ کا نتیجہ تھا؟ تحریک پاکستان کے دوران کسی لبریشن آرمی کا وجود تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے؟ کسی گوریلا وار کا کوئی ذکر وکر؟ کوئی وار لارڈ؟ کوئی امیر المومنیں یا امیر المجاہدین؟

بات یہاں تک رہتی تو خیر تھی مگر ستم یہ ہوا کہ فرمانے لگے، وزیر اعظم کو نکالنے سے کچھ بہتری کی امید پیدا ہو چلی ہے کہ ایک نیا پاکستان ہمارا مقدر ہے۔ ہم دل ہی دل میں بڑ بڑائے۔ جناب اگر وزیر اعظموں کو نکالنے سے نیا پاکستان پیدا ہو سکتا تو بادشاہو! ہم تو 17 وزیراعظم نکال چکے ہیں پھر کدھر ہے وہ پاکستان؟ وہ پاکستان پٹاری سے نکالتے کیوں نہیں ؟ سانپ اور نیولے کی لڑائی کا جھانسہ دے کر ہر بار اپنی پھکی بیچ جاتے ہو اور ہم پرانے پاکستان پر ہی گزارہ کرتے رہتے ہیں۔ ارے بھائی! کتنے وزیر اعظم تمہیں چاہئیں؟ لے لو ہم سے! 17 لے چکے ہو، بخدا! اگلے 17 بھی اسی ایک سال میں لے لو! مگر وہ پاکستان جس کے خواب ہمیں دکھلاتے ہو وہ پٹاری سے نکال دو! نہ لڑاؤ سانپو ں سے نیولوں کو، نہ بیچو پھکیاں اور چورن، لے لو لے لو وزیر اعظم لے لو، ایک نہیں دو چار ملیں گے اور سو بار ملیں گے۔ لیکن یاد رکھو ہم اپنے آئیڈیل پاکستان کے لیے 17 وزیر اعظم دے چکے اور مزید دینے کو تیار بیٹھے ہیں مگر تم اپنا ایک بندہ نہ دے سکے، اور نہ دے سکو گے، اتنی نہ بڑھاؤ پاکی داماں کی حکایت، درحقیقت تم دے ہی نہیں سکتے!

یہ بھی پڑھیں:   عمران حکومت کے 100 دن - ڈاکٹر مجاہد منصوری

سہیل وڑائچ کہ ایک شائستگی، تجربے اورتدبر کا نام، بولے، نہ نہ نہ! کسی سیاسی شخصیت کی تضحیک نہ اچھی لگتی ہے نہ وارا کھاتی ہے۔ پھر اس کا منصب جو پاکستان کا سب سے بڑا منصب، بھئی اس کی حرمت کا خیال ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ یہ عوامی منصب ہے اور اس عوام کی ملکیت ہے جس کی تالیوں کی گونج میں ہم ابھی ابھی سٹیج پر آئے ہیں، یہ نہ ہوں تو ہم کس کام کے؟ بس کسی گوبھی کے کھیت کے خطیب کی مانند فرمایا کہ دعا کرو کیونکہ جب بھی اپنے خطے میں کسی جنگ کا طبل بجانا مقصود ہو تو بڑی طاقتیں پہلے پاکستان میں تبدیلی لاتی ہیں۔ خدا کرے کہ اب ایسا نہ ہو۔ ہم ایک بار پھر دل ہی دل میں بڑ بڑائےکہ ماضی میں کب ایسا نہیں ہوا جو اب ایسا نہیں ہوگا؟

پھر انعام الرحمٰن سحری آتے ہیں کہ دو چار کتابوں کے مصننف، ایف آئی اے کے سابق ملازم، ججز اور جنرلز کی پاکستان میں چیرہ دستیوں پر لکھی جانے والی کتاب کے خالق، مگر آجکل"مجھے کیوں نکالا" کا رونا رونے والوں کے خلاف گواہی دینے کو تیار بیٹھے، ججز اور جنرلز کا دست وبازو بننے کے آرزو مند! لگتا ہے تھک گئے ہیں کہ پردیس کے دکھ ڈاہڈے۔ وطن کی یاد ستانے لگی ہوگی، کیا خواب مرتے بھی ہیں؟ جی ہاں! ہم نے خواب اور نظریات مرتے بھی دیکھے اور بکھرتے بھی، مگر خواب پامال ہوتے ہوئے ہم نے اس وقت دیکھے جب انعام الرحمٰن سحری فرما رہے تھے کہ پاکستان کی قوم کو جمہوریت کی کوئی خواہش نہیں، بس وہ روٹی چاہتے ہیں۔ جی ہاں! دماغ کی جگہ پیٹ سے سوچنے کی ترغیب ایسی ہی ہوتی ہے۔ ڈالیے، ڈالیے صاحب! دانہ ڈالیے۔ مگر یاد رہے کہ پیٹ کی بھوک کا نتیجہ بول وبراز ہے تو دماغ کی بھوک ارفع و اعلیٰ مقاصد کی آبیاری کرتی ہے۔ نہ کریں براہ کرم نہ کریں، قوم کو گمراہ نہ کریں۔ کانوں کی تپش اور بھنوؤں کی پھڑپھڑاہٹ بڑھنے لگی تھی کہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند، ایک بیرسٹر کہ جناح بھی ایک وکیل تھے، آتے ہیں اور زخم سہلاتے ہیں، نمک پاشی نہیں مرہم رکھتے ہوئے بیرسٹر امجد ملک گویا ہوئے۔ کیا پاکستان کسی جنگ کا نتیجہ تھا؟ تحریک پاکستان کے دوران کسی لبریشن آرمی کا وجود تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے؟ کسی گوریلا وار کا کوئی ذکر وکر؟ کوئی وار لارڈ؟ کوئی امیر المومنیں یا امیر المجاہدین؟ ہمیں ترکی کی فوج کی مثال دی جاتی ہے، بھئی جدید ترکی کی معمار ترک افواج تھیں۔ ہمارے پاکستان کی تشکیل میں کسی قسم کی فوج کا کوئی کردار نہ تھا۔ جس فوج کا پاکستان کی تشکیل میں کوئی کردار نہ تھا وہ آج ہمارے مائی باپ اور جن صالحین نے پاکستان کی مخالفت کی تھی وہ اس پاکستان کے فکری وارث بنے بیٹھے ہیں۔ کیا بات ہے! تووہ کیا تھا کہ جس کی بدولت ایک ہندو وں کی اکثریت رکھنے والے ہندوستان میں سے ایک جیتا جاگتا پاکستان ہم نے اپنا مقدر کر لیا۔ خدائے بزرگ و برتر کے فضل کے بعد وہ تھی ووٹ کی طاقت۔ جی ہاں، ایک جمہوری شعور! جس کا مظاہرہ ہمارے اجداد نے کیا۔ جس شعور کے نہ ہونے کے طعنہ آج ہمارے دانشور دے رہے تھے جس کا مظاہرہ ہم 70 برس قبل کر چکے اور جس شعور کی آبیاری کے لیے 17 وزیراعظم قربان کرچکے، وہ کہتے ہیں کہ شعور سے عاری ہیں۔ صاحب! اگر شعور سے عاری ہوتے تو پہلے وزیر اعظم کی قربانی کے بعد خاموشی سے بیٹھ جاتے۔ نہیں بیٹھے، جی ہاں بیٹھیں گے بھی نہیں! کیا کریں کہ صدیوں سے ہماری مٹی میں گندھا ہوا شعور ہمیں بیٹھنے ہی نہیں دیتا اور آپ کہتے ہو کہ شعور ہے ہی نہیں؟ ایں چہ بو العجبی است!