دھرنا دہشت گردوں کے خلاف - عثمان آفریدی

ہم کب ایک ہوں گے؟ کیا اس پرچم کے سائے تلے ہم میں کبھی ایک ہونے کی تھوڑی سی بھی خواہش ہے؟ امت مسلمہ کی باتیں کرنے والے تو ہم ہیں، لیکن کیا اس سرزمین پر رہنے والوں کو کبھی ایک وجود سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے؟ میری زندگی میں وہ دن کب آئے گا جب ہم سب اپنے لوگوں کی خودکش حملوں میں شہادت پر بھی کچھ کریں گے، جیسے ہم باقی دنیا کے لیے کرتے ہیں۔ یہ نہ دیکھیں کہ ہندو قتل ہوا ہے یا سکھ، عیسائی یا مسلمان ۔ اگر ہم یہی سوچتے رہیں کہ چھوڑو یار، یہ امام بارگاہ پر حملہ ہوا تو کیا؟ یہ تو شیعوں کی ہے، یہ مندر میں مرنے والے ہندو ہیں، چرچ پر حملہ تو ثواب کا کام ہے اور یہ دربار میں حاضری دینے والے تو ہیں ہی بدعتی، ان پر حملہ ہونا چاہیے تھا اور تبلیغی جماعت والے، جماعت اسلامی والے اور اہل حدیث اور دیوبندیو ں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ان کو مارنا چاہیے۔

اسی طرح پختونخوا والے پنجابیوں کو اپنے سب مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے رہیں اور پنجاب والے بلوچ، مہاجر، سندھیوں اور پختونوں کو غدار کہتے رہیں۔ داڑھی والے باقی سب کو گمراہ سمجھتے رہیں اور باقی لوگ داڑھی والوں کو دہشت گرد کہتے رہیں تو یقین کریں کہ آپ لوگ اپنے اصلی دشمن کو کھبی نہیں پہچان پائیں گے اور مٹ جائیں گے، دشمن ایک، ایک کو مارے گا، آج میری باری ہے تو کل آپ کی!

پاکستان کو بچانا ہے تو پھر ہم کو وعدہ کرنا پڑے گا کہ کوئی بھی شخص قتل ہو جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو ہم اس کے لیے غمگین ہوں گے۔ تو کیوں نا دہشت گردوں کے خلاف بھی ایک دھرنا ہو جائے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */