تاریخ کی غلط سائیڈ پر کون ہے؟ سید معظم معین

صاحب یوں تو کبھی احتساب نہ ہو سکے گا۔

اگر سب اپنے اپنے لیڈر کو یونہی کلین چٹ دیتے رہے تو پھر ناں ہی سمجھیں احتساب سے!

اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی مرضی سے ماننا ہے اور مرضی سے مسترد کرنا ہے تو پھر دنیا کی کوئی عدالت کوئی ادارہ کام نہیں کر سکتا۔

سب اپنے اپنے بچھڑے کی پوجا میں لگے ہیں!

سخت مقام حیرت تھا جب دیکھا کہ اچھی خاصی اللہ رسول کی بات کرنے والے اور دلائل و منطق کے آدمی بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے اپنے تعصبات کے اسیر ثابت ہوئے۔ صالح ظافر اور عطا الحق قاسمی وغیرہم تو خوامخواہ بدنام ہیں۔ کڑوا گھونٹ نگلنا مشکل تو ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہم احتساب تو چاہتے ہیں مگر اپنے لیڈر کا نہیں دوسرے لیڈر کا ، اپنی جماعت کا نہیں دوسری جماعت کا۔ بلکہ دوسری جماعت کو سیدھا سزا ہی دلوانا چاہتے ہیں۔

ہمارے یہاں سب دلائل کی ایک دلیل سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے سر ڈال دینا اور خود ہر چیز سے بری الذمہ ہو جانا ہے۔ کون جانے کیسے اس دعوے کو پرکھا جائے۔ "جو کرا رہا ہے امریکہ کرا رہا ہے" والی اپروچ اپناؤ اور جو چاہو ثابت کر دو یہ بھی کہ سپریم کورٹ بھی دراصل کٹھ پتلی ہے اصل میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ پڑھنے والوں کو یہ باور کراؤ کہ جیسے لکھاری بہت باخبر اور اندر کی خبروں تک رسائی رکھنے والا ہے چاہے گھر میں بیوی بھی آلو ٹینڈے پکانے سے پہلے پوچھتی تک نہ ہو، اور پڑھنے والے بھی سبحان اللہ !!

سوشل میڈیا پر بظاہر عالم فاضل کا روپ دھارے دانشوران جب تعصبات اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں اول فُول بکنے لگتے ہیں تو سخت قابل رحم لگتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے بعد نزلہ گر رہا ہے تو ان سب جماعتوں پر جن جن نے احتساب کا نعرہ لگایا تھا۔ ایک ایسے "صاحب علم" جنھوں نے فیس بک پر استاد کا روپ دھار رکھا ہے اور لوگ کمال عقیدت سے سر جی سر جی کرتے نہیں تھکتے ایک بحث کے دوران کہتے پائے گئے کہ ہر معاملے میں میں فلاں جماعت کی پالیسی دیکھ لیتا ہوں اور اس کے الٹ اختیار کر لیتا ہوں کہ وہی درست ہو گی۔ اب یہ بد ترین تعصب ہر مبنی بات ہے جو "صاحبان علم" اپنے پڑھنے والوں کے ذہنوں میں انڈیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کرونا وائرس، ذمہ دار کون - شہزاد حسین بھٹی

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کوئی اپنے زمانے کے حساب سے پرکھا جاتا ہے۔ آج یہ فیصلہ کرنے والے کے تاریخ کے غلط رخ پر کون کھڑا ہے یہ فیصلہ تاریخ کو ہی کرنے دیں تو بہتر ہو گا۔ حقیقی تاریخ تب لکھی جائے گی جب تاریخ کے کرداروں کا مورخ کے قلم پر اثر و رسوخ نہ ہو گا۔ جو مورخ لفافے اور بریانی کی پلیٹ یا کسی عہدے کے دام سے آزاد ہو گا۔ وہ مورخ بھٹو کو بھی قاتل لکھے گا اور نواز شریف کو بھی نااہل۔ اور یہ بھی لکھے گا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جماعت پر شخصی یا خاندانی اجارہ داری قائم رکھی اور اسے قائم رکھنے کے لئے ہر حد سے گزرے اپنی جماعت کے بھی کسی کارکن کو اوپر نہ آنے دیا مستقبل کی قیادت اپنے خاندان سے باہر تیار نہ کی ۔ یہ بھی لکھے گا کہ ملک کی وفاداری کا دم بھرنے والے لیڈروں کے اثاثے اور کاروبار ملک سے باہر ہوتے تھے۔

چلتے چلتے ایک واقعہ سن لیں۔ حضرات مقداد بن اسود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ ایک بار چند نوجوان ان کے پاس آئے اور کہا کہ کیا خوب ہیں یہ آنکھیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا ہے۔ اے کاش ہمیں بھی نصیب ہوتا۔ مقداد بن اسود کے ہاتھ میں اس وقت ایک کوڑا تھا یہ سن کر فرمایا میرا جی چاہتا ہے اس کوڑے سے تمہاری پٹائی کروں۔ نبی پاک کے دور کی تمنا کرنے والے برخوردار تمہیں کیا معلوم اس وقت تم کہاں ہوتے نبی پاک کے دور میں تو ابو جہل اور ابو لہب بھی تھے۔۔۔ ایسے لوگوں نے بھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے جنھیں ﷲ نے منہ کے بل دوزخ میں جھونک دیا، کیونکہ انھوں نے آپ کو مانا نہ تصدیق کی۔ تم اﷲ کا شکر ادا نہیں کرتے کہ تمھاری آزمائش پہلوں نے جھیل لی ، تم اﷲ ہی کو مانتے ہو اور اس کے انبیا کو سچا جانتے ہو۔آپ کے زمانے کا حال یہ تھا کہ آپ کے لائے ہوئے ،حق و باطل کو ممیز کرنے والے فرقان نے باپ بیٹے میں تفریق پیدا کر دی تھی۔ایک شخص کا دل اﷲ نے ایمان کے لیے کشادہ کر دیا ہوتا تھا، لیکن وہ دیکھتا تھا کہ اس کا باپ ، بیٹا یا بھائی کفر میں مبتلا ہیں۔ اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک کیسے مل سکتی تھی جب اس کے پیارے جہنم میں جانے والے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس ، پاکستان نے دنیاسے کیا سیکھا - شیخ خالد زاہد

تو آدمی اپنے زمانے کے حساب سے پرکھا جاتا کے۔ اپنے زمانے کے سچ کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ دیکھ لینے کے بعد حق کی حمایت میں ربط اللسان ہونا کوئی کمال نہیں اور اپنے زمانے کے سچ کا ساتھ دینا ہی مشکل ہوتا ہے کہ سچ اپنے زمانے میں اکثر غیر مقبول ہی ہوتا ہے۔

آپ ہی کا قول ہے،’’ میں کسی شخص کے بارے میں اچھا یا برا کچھ نہیں کہتا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کا ارشاد سن رکھا ہے کہ ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹتا پلٹتا ہے جو خوب جوش کھا رہی ہوتی ہے۔‘‘

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.