اپنی قدر و قیمت کی پہچان - بشریٰ تسنیم

اس کائنات کی ہر شے کی ایک خاص قیمت مقرر ہے.ہر مخلوق، جمادات و نباتات سمیت، اپنے آپ کو کسی قیمت کسی کے ہاتھ پر بیچ رہی ہے۔ اس کائنات کی سب سے قیمتی تخلیق انسان ہے اور اس کی قدروقیمت اس کے خالق نے تو متعین کردی ہے کہ اس کو میں نے ہی خرید لیا ہے ابدی ولازوال جنت کے بدلے میں

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۂ توبہ، 111)

باقی ساری کائنات کی تخلیق کا مقصد انسان کو اس سودے کی کامیابی کے لیے معاونت فراہم کر نا ہے۔ گویا انسان جمادات و نباتات کی قدروقیمت متعین کرنے کا بھی ذمہ دار ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنا معیاری مرتبہ بلند رکھنے کے لیے اپنے خالقِ حقیقی کے متعین کردہ مقام پر قائم رہنا ہوگا اور اپنی توجہ اسی خرید و فروخت کے معاہدے پر مرکوز رکھنی ہوگی جو طے ہو چکا ہے۔

الله الخالق نے جنس بازار میں انسان کو اختیار و انتخاب کی کھلی چھوٹ کے ساتھ لا بٹھایا ہے۔ اس میں انسان کی زندگی کا ہر لمحہ کرنسی ہے۔ اس سے اس نے جنت کی قسطیں ادا کرنی ہیں۔ وہ جنت، جس کو خریدنے کے لیے معاہدہ کیا جا چکا ہے اور وہ مال جو زندگی کے ہر لمحہ کی کرنسی کے بدلے میں کمایا ہے، وہ بھی ان قسطوں کی ادائیگی کے لیے ہی کمایا جاتا ہے۔

انسان کا وہ عقیدہ جس کے تحت وہ جنت کی خرید کے معاہدے کو یاد رکھتا ہے وہ "لا اله الا الله" ہے .اور اس معاہدے کی فائل کے مندرجات کے مطابق تجارت کرنا وہ "محمد رسول اللہ" ہے۔ اس انسان کو مومن ومسلم کہتے ہیں۔ اس سےانسان کی قدروقیمت میں گراں قدر تبدیلی آجاتی ہے۔ اس تبدیلی کا فہم و شعور اس تبدیلی کو لازوال کردار کرتا ہے۔ اس کردار کے ساتھ تجارت میں جو عمل کامیابی کی بنیاد ہے۔ وہ ہمہ وقت کاروبار کے نفع نقصان پر دھیان رکھنا ہے اور جنس مال کو بر وقت ان قسطوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا ہے، جس کا سودا ہو چکا ہے اور اس تجارت میں ایک thrill یہ بھی ہے کہ نہ جانے کب اس بازار دنیا سے رخصت ہونے کا حکم آجائے؟ جتنا ہے اور جیسا ہے اور جب تک ہے کی شرط پر یہ معاہدہ طے پایا ہے. ۔

یہ بھی پڑھیں:   ائمہ مساجد اور اصلاح معاشرہ،اہمیت ،ضرورت اور لائحہ عمل - مولانا عبدالمتین

توجہ اور دھیان ہی دراصل تاجر کے کاروبار کی اساس ہے۔ دوسرا کام ایسے بازار میں دوکان لینا جہاں اس کے مال کی ضرورت ہو اور مسابقت کا میدان موجود ہو۔ محنت، دیانت داری اس کے کاروبار کو اعلیٰ مقام تک پہنچاتی ہے۔

خواہشات نفس وہ کچرا ہے جو قدرتی طور پر اس مال میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا اصول جنت کے مالک نے یہ بتایا ہے

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا

چن چن کر، تلاش کرکے کچرا مال نکالا تو باقی مال حسن اعمال کی شکل میں باقی رہ جائے گا اور جس نے یہ کچرا مال چھپانے اصلی مال کے اندر دبانے کی کوشش کی وہ اپنے کاروبار میں ناکام ہوا

وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا

مال و اعمال کی چھان پھٹک کے لیے دن میں پانچ مرتبہ الخالق نے اپنے دربار میں بلایا اور سالانہ جانچ پڑتال کے لیے رمضان المبارک کے دن مقرر کر دیے تاکہ مؤمن ومسلم آخری قسط کی ادائیگی سے ہر نماز اور رمضان کے وقت سرخروئی کا احساس رکھے، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی دوکان کب اس منڈی سے ہٹا دی جائے۔

اس کاروبارِ حیات و ممات میں ہر معاملے کا سردار مومن کا دل ہے۔ دل ہی کے بدلے جنت کا حصول ممکن ہے۔ دل ہی ساری خواہشوں و تمناؤں کی آماجگاہ ہے۔

اللہ جب کسی کے دل میں ہو گا تو اپنے پیارے بھی ساتھ ہی لے آئے گا یا پھر اللہ وہیں رہے گا جہاں صحبتِ اہل صفا ہوگی اور رب کے پیارے ہوں گے۔ جس طرح ہر شے کی قیمت ہوتی ہے، انسان کی قدرو قیمت اس کا دل ہے۔ دل میں کس کو رکھتا ہے؟ کس کے دل میں رہتا ہے؟ دل میں کیا رکھتا ہے؟ وہ دل ہی ہے جو الله کو مطلوب ہے، قلب سلیم، تندرست، سالم، پاک، خوب صورت، پر نور۔ دل کے چراغ قبر میں چراغاں کریں گے، محبت کے چراغ، کس کی محبت کے اور کس قسم کے چراغ تیار ہورہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ائمہ مساجد اور اصلاح معاشرہ،اہمیت ،ضرورت اور لائحہ عمل - مولانا عبدالمتین

انسان جس قسم کے دل میں بسنے کی کوشش کرتا ہے وہی اس کی اصل شخصیت ہے۔ جس قسم کے دل میں گھر کرنا چاہتا ہے وہی اس کا مقام ہے۔ انسان اپنے دل میں جس قسم کے مقام کو جگہ دیتا ہے وہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ انسان کا دل جس مقام پر لگتا ہے وہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ جس کام میں دل لگتا ہے وہی اس کا انجام ہے۔

اپنے رب کی نظر میں اپنا مقام و مرتبہ اپنی زندگی میں ہی دیکھنا ہو تو ہر کوئی یہ غور کرے کہ اس کے رب نے اسے کن کاموں،خواہشوں تمناؤں کا اسیر بنا رکھا ہے اور اس کے دل میں کن لوگوں کو بسانے کی تگ و دو ہے اور وہ کن لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ بنانا چاہتا ہے۔

وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ