مسجد اور ہم - راجہ محمد احسان یونس

تاریخِ اسلام میں مسجدِ نبوی ہی وہ جگہ ہے جہاں سے پھوٹنے والی توحید کی کرنیں پوری دنیا کو منور کر رہی ہیں۔ مسجدِ نبوی ہی سے ہمیں مسجد و منبر کے اسلامی معاشرے کردار کا صحیح تعین ہو سکتا ہے۔

آج مسجد کو ہم صرف ایک عبادت گاہ کا درجہ دے دیا ہے اور وہاں جا کر عبادت کرنا بھی ضروری خیال نہیں کرتے اور یہ فریضہ گھر، دفتر، کھیت کھلیان جہاں چاہتے ہیں وہیں ادا کر لیتے ہیں اور مجھے یہ کہتے ہوئے ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ مذہب و عبادت کو ہم نے شخصی و انفرادی مسئلہ سمجھ کر فرد کی پسند و مرضی تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ خیر! بات ہو رہی تھی مسجد کی، تو ہم دیکھتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں مسجد درس گاہ تھی جہاں سے طالبانِ علم اپنی پیاس بجھا رہے ہیں، وہیں مسجد پارلیمنٹ بھی ہے جہاں سربراہِ مملکت اور اس کے مشیر مشاورت کر رہے ہیں اور پالیسیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ وہی مسجد ایک عدالت بھی ہے جہاں لوگوں کے حقوق اور واجبات کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ پھر وہی مسجد ایک فوجی ہیڈ کوارٹر ہے جہاں جرنیل لشکر ترتیب دے رہے ہیں اور بڑی بڑی مہمات بھیج رہے ہیں۔ وہی مسجد معاشرتی روابط کا مرکز جہاں لوگوں میں میل جول اور روابط بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مسائل سن رہے ہیں اور ان کے حل کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ اگر کفار حملہ آور ہو رہے ہیں تو خبر پانے والا مسجد آ رہا ہے، اگر کسی پر ظلم ہو گیا تو وہ انصاف مانگنے مسجد چلا آ رہا ہے، کسی نے شادی کرنی ہے تو وہ اپنی خواہش کا اظہار مسجد میں کر رہا ہے، اگر کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو وہ بھی بھاگا دارالافتاء یعنی مسجد میں آ رہا ہے، اگر کفار کی یا عیسائیوں کی کوئی سفارت آئی ہے تو سفیروں سے ملاقات مسجد میں ہو رہی ہے، کوئی مسکین ہے، بھوکا ہے تو مسجد میں آ کر اپنا دکھ بیان کر رہا اور اسے کھانا مل جاتا ہے۔

کیا تھی وہ مسجد؟ کھجور کے پتوں کی چھت، کھجور کے تنوں کے ستون اور کچی مٹی کی دیواریں؟ مگر کام وہ کر رہی تھی جو آج کئی ادارے مل کر بھی نہیں کر سکتے۔ بات مسجد کی عمارت نہیں بلکہ مسجد میں موجود ان ہستیوں کی قابلیت اور سوچ کی ہے جنھوں نے پارلیمنٹ کے لیے ایک الگ سے عمارت بنا کر باہر پہرے دار کھڑے نہیں کر دیے جنھوں نے الگ سے عدالت بنا کر ایف آئی آر اور وکیلوں کے بکھیڑے نہیں ڈالے، جنھوں نے وزیروں اور مشیروں کی فوجوں کی فوجیں نہیں بنا ڈالی تھیں۔ ۔۔۔۔ ہر شخص کی بلا واسطہ رسائی حاکمِ وقت تک تھی، ہر شخص کی بلا واسطہ رسائی قاضی الوقت تک تھی، ہر شخص کی رسائی مفتئ اعظم تک تھی۔ پھر ہم نے ادارے بنانے شروع کیے۔ اب الگ سے ایک عدالت اور پھر اس کے اوپر ایک عدالت اور پھر عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ اور پھر تین رکنی، پانچ رکنی اور فل بینچ۔ وکیل ہیں، ہر عدالت کے الگ وکیل، الگ فیسیں۔ تھانیدار، تفتیشی، منشی، محرر، آئی جی اور پھر سپاہی جی جتنے لوگ اتنے پیسے، انصاف ملتے ملتے انسان کا سب کچھ بک جاتا ہے اور پتہ نہیں انصاف پھر بھی ملتا ہے کہ نہیں۔ اب روزہ ٹوٹ جائے تو پہلے تو ۔۔۔۔۔ شاید کفر کا فتویٰ ہی نہ لگ جائے۔ چلیں چھوڑیں سب سے زیادہ پیسوں والا مسئلہ، طلاق، ایک مفتی کے پاس جائیں تو وہ ایک طلاق کو بھی تین بنا ڈالے گا، دوسرے کو تھوڑے پیسے دیں وہ ہزار طلاق کو بھی ایک شمار کرائے گا۔ اب ایسے مولوی کو بھی ہزار جوتے مار کر بندہ کہے کہ ہزار کی ایک شمار کرو اور کل مارنی ہزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی کے متلاشی - سید مصعب غزنوی

ہمارے ایک جاننے والے نے بیوی کو کسی وجہ سے ایک طلاق دینی تھی۔ ان کی محبت کی شادی تھی، زیادہ سیانے تھے اس لیے مولوی کی بجائے وکیل کے پاس چلے گئے۔ وکیل صاحب نے کہا مسئلہ ہی کوئی نہیں اور سٹمپ پیپر پر تحریر لکھ کر ان سے اور گواہان سے دستخط کروا کر ان کی زوجہ کو بھجوا دیا۔ وہ تو جب صاحب رجوع کرنے گئے تو سالے سے مار پڑنے اور سٹمپ پیپر عالم سے پڑھوانے پر معلوم ہوا کہ تحریر میں درج ہے کہ میں مسماة کو طلاقِ ثلاثہ دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے بے دخل کرتا ہوں۔ اب وہ بھی کسی ایسے مفتی کی تلاش میں ہیں جو کمان سے نکلے تیر کو واپس کمان میں پہنچانے کا فن جانتا ہو۔

ہم نے ایک ادارہ بنا ڈالا پارلیمنٹ کا، صادق اور امین کا منتظر ادارہ۔ مقروض کو قرض سے نجات دلانے کے لیے آسان سود پر قرض فراہم کرنے والا ادارہ بینک بھی ہم نے بنا ڈالا اور ہم نے گھر سے بھاگی لڑکیوں کی پناہ گاہیں 'دارالامان' بھی بنا ڈالے۔ اب تو ہم اجتماعی شادیاں بھی کروانے لگے، اجتماعی شادی سے مجھے پتہ نہیں کیوں اجتماعی قربانی یاد آ جاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ قربانی کے دن بھی قریب ہیں اور ویسے بھی اجتماعی شادی اور اجتماعی قربانی میں کچھ قدریں تو مشترک ہوں گی ہی۔

اجتماعی قربانی کا جو طریقہ میں نے دیکھا، اللہ ہی جانے وہ کس مفتی نے جائز اور حلال قرار دیا ہے؟ سب کے پیسے ایک جیسے اور جانوروں کی قیمتیں الگ الگ۔ ایک عجیب قربانی بھی دیکھنے میں آئی، آپ یوں سمجھ لیں کہ گاؤں کے سرکاری فنڈ میں سے ایک عدد بیل لے کر پورے گاؤں کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کس مسجد اور کس مفتی اور فقہ کا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی کے متلاشی - سید مصعب غزنوی

بات چلی تھی ہم نے مسجد بہت سے پیچیدہ ادارے کشید کیے اور مسجد کو "خالصتاً" اللہ کی عبادت کے لیے باقی رکھا۔ یہ الگ بات ہے بریلویوں کا خدا اور ہے تو دیوبندیوں کا خدا اور، اہلِ حدیث کسی اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور شیعہ کسی اور رب کو مانتے ہیں۔ اگر بریلوی دیوبندیوں کی مسجد میں نماز پڑھ لیں تو دیوبندیوں کا خدا اور بریلویوں کے مولوی ناراض ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی باقی مسالک اور مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ اب مسجد کے منبروں پر ایسی گراں قدر شخصیات تشریف فرما نظر آ رہی ہیں جن کے روحانی اور جسمانی بوجھ سے منبر بھی لرزاں ہیں۔ ہمارا بھی کوئی حال نہیں نکاح پڑھوانا ہے تو مولوی، بچے کے کان میں اذان دینی ہے تو مولوی اور ابّا کا جنازہ پڑھوانا ہے تو مولوی! مولوی ازم تو اب باقاعدہ انڈسٹری بنا کر رکھ دی گئی ہے۔ سیرتِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریر کرانی ہو تو مولویوں کی بکنگ اور اپنے بجٹ اور مولویوں کے ریٹ کے مطابق چناؤ بھی ایک مشکل مرحلہ۔ بالکل ایسے ہی کم پیسوں پر مجلسِ عزاء کے لیے کسی ذاکر کو کم پیسوں پر راضی کرنا بھی تو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مترادف ہے۔ کچھ لوگوں نے کاروباری پن کی انتہا کر دی، سندھ کے دیہاتوں میں جو صاحب مجلس پڑھ رہے ہیں وہی صاحب دوسرے کسی دیہات میں شانِ صحابہ بیان کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہ موسمی قسم کے مولوی سامعین کے مطابق اپنا عقیدہ اور مسلک بدلتے رہتے ہیں۔

کاش کہ مسجد سے نکلے کثیر اداروں کو ہم مسجد میں ضم کر کے اس کے معاشرتی، مذہبی، انفرادی، ملّی، ظاہری و باطنی فوائد حاصل کر سکیں۔ ان فوائد کے بغیر مسجدیں محلّات کا منظر پیش کرتی نظر آ رہی ہیں لیکن اس روح اور اس کردار سے محروم ہیں جو کھجور کے پتوں، تنوں اور کچی دیواروں کی مسجد کا خاصہ تھا۔

ٹیگز