خوشی کے راز - روبینہ شاہین

مولانا رومی ؒ کہتے ہیں ایک دنیا ہمارے باہر آباد ہے اورویسی ہی دنیا ہمارے اندر بھی آباد ہے۔ خوشی کا تعلق بھی اندر کی دنیا سے ہے۔ باہر کی سج دھج جتنی بھی شاندار کیوں نہ ہو اگر اندر مطمئن نہیں تو سب بے کار اور بے فائدہ ہے۔ چین کی ایک پرانی کہاوت میں سوال کیا گیا کہ سب سے زیادہ کامیاب کون ہے؟کہا گیا جو سب سے زیادہ خوش ہے۔ چین کی ترقی کا راز شاید اسی جواب میں پنہاں ہے۔ اور یہ سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے۔ " The World Book of Happiness" کے مطابق خوشی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنی ذاتی زندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس کی قدر کی جائے۔

ایک فرانسیسی مصنف آندری ژید ( Andre Gide) لکھتا ہے کہ خوش رہنا ایک طبعی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی ضرورت بھی ہے۔ خود افسردہ اور پریشان ہو کر دوسروں کو پریشان مت کریں کیونکہ ہماری ایک حالت کا اثر دوسرے انسان پر بھی پڑتا ہے، یہ ایک متعدی کیفیت ہے جو ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ مثلا ایک بندہ ہنس رہا ہے مسکرا رہا ہے تو اس کا لازمی اثر اردگرد کے لوگوں پر پڑے گا۔

قاسم علی شاہ اپنی کتاب "اونچی اڑان"میں لکھتے ہیں کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت خوشی کے موضوع پر 56700 کتابیں موجود ہیں۔ دنیا جہاں کے ذہین، دانشور اور ٹرینرز اس پر مزید تحقیق کر رہے ہیں کہ انسان خوش کیسے رہ سکتا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی سے وابستہ ماہر نفسیات پروفیسر سونیالیوبومرسکی کہتی ہیں کہ "آیا ہم خوش باش رہنے والی شخصیت ہیں یا نہیں، اس کا 50 فیصد ہمیں پیدائشی طور پر ہی مل جاتا ہے۔ 10 فیصد کا تعلق ہمارے حالات زندگی سے جبکہ خوش رہنے کا باقی 40 فیصد دار و مدار ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ "

وہ کون سی طریقے اور مہارتیں ہیں جنہیں سیکھ کر ہم اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھر کر مزید کامیاب ہو سکتے ہیں؟ زیر نظر مضمون میں اسی پر گفتگو کی جائے گی۔

سکون اللہ کی یاد میں

مذہب نے جہاں انسان کو زندگی کی مقصدیت سے روشناس کروایا وہی اسے خوشی کا راز بھی بتایا۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں جو لوگ جتنے زیادہ مذہبی ہوتے،خدا سے جڑے ہوتے اتنے ہی پرسکون ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان چونکہ جسم اور روح سے مل کر بنا ہے تو جب تک ہم اسے 'بیلنسڈ ڈائیٹ' نہیں دیں گے، یہ بے چین رہے گا۔ جیسے جسم کے لیے خوراک ہے ویسے روح کے لیے اللہ کا ذکر ہے۔ ایک ایسی ہستی پر ایمان اور یقین ہے جو اسے ہر خطرے سے بچا سکتی،ہر بلا سے محفوظ رکھ سکتی بہت ضروری ہے۔ ہندوازم کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہندومت میں 35 کروڑ خدا ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ جس چیز سے خوف یا ضرورت ہوتی اس کو پوجنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا انسان کی سرشت میں یہ چیز رکھ دی گئی ہے کہ وہ اپنے سے بالاتر ہستی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسی سے پناہ مانگتا ہے اور یہ اللہ کے علاوہ کون دے سکتا ہے؟

نماز کے بارے میں ایک حیران کن تجربہ یہ کہ یہ انسان کو کسی بھی حال میں معاف نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان پانچ مرتبہ اپنے ان دیکھے خدا سے رازو نیاز کرتا ہے اپنی حاجت روائی کرتا ہے اس سے مدد مانگتا ہے۔ ۔ یہ چیز اس کو دل کی گہرائیوں سے سکون بخشتی ہے۔ یہی نماز کا مقصد ہے مالک کائنات جس نے انسان نام کی مشینری بنائی اسے نے 'بائے ڈیفالٹ' اس کے اندر یہ کیفیت رکھ دی ہے۔ جبھی لوگ خدا کو پانے کے لیے تخت چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن ایک فقیر کو کبھی تخت کے لیے اپنا سکون و آرام چھوڑتے نہیں دیکھا گیا۔

دوسروں پر خرچ کیجیے

دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ لوگ عموماً دو چیزوں میں خوشی میں محسوس کرتے،ناموری یعنی شہرت یا پھر پیسہ۔ ۔ ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کے پاس مادّی وسائل ہوں وہ زیاد خوش حال بھی ہو؟ مثلاً ناروے جو مادی دولت سے مالا مال ہے لیکن خوشی میں 7.9 پوائنٹس ہی حاصل کر پایا۔ اسی طرح جاپان جو ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیا جاتا ہے مگر خودکشی میں پہلے نمبر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسکراتی نظر - رومانہ گوندل

مگر کچھ دہائیوں سے ایک عجیب چیز سامنے آ رہی ہے دنیا کے امیرترین لوگ اپنی دولت کو بانٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں سمجھ آگئی ہے کہ جو مزہ اور سکون بانٹنے میں ہے وہ جمع کرنے میں نہیں۔ اور یہ سب دنیا کے مامور ترین لوگ کر رہے ہیں بل گیٹس،فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اور کئی بہت سے افراد جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔ بانٹنے والا چونکہ اللہ سے تجارت کر رہا ہوتا ہے جو اسے کئی گناہ زیادہ دینے پر قادر ہے وہ تو وہ بادشاہ ہے جو کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ ایک نیکی کا بدلہ سات سو تک دینے پر قادر ہے۔

متحرک طرز زندگی اختیار کیجیے

روٹرڈیم کی پراسس یونیورسٹی میں ایک ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متحرک اور فعال زندگی والے افراد زیادہ خوش اور مطمئن زندگی بسر کرتےہیں۔ نفسیاتی نقط نگاہ سے دیکھیے تو یکسانیت خود سب سے بڑی رکاوٹ ہے زندگی کے راستے کی۔ تبدیلی زندگی کی سب سے بڑی لذت ہے۔ غور کریں تو یکسانیت میں ٹہراؤ ہے سکون ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں فطرت کا یہ ہنگامہ رنگ و بو ہی اس کا اصل حسن اور خوبصورتی ہے۔ جو انسان کو کبھی اکتاہٹ نہیں ہونے دیتا۔

ناخوشی کی وجہ تلاش کیجیے

مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتا ب "غبار خاطر" میں لکھتے ہیں کہ مصیبت ساری یہ ہے ہے کہ خود ہمارا دل و دماغ ہی گم ہو جاتا ہے ہم اپنے سے باہر ساری چیزیں ڈھونڈتے رہتے رہیں گے مگر اپنے کھوئے ہوئے دل کو کبھی نہیں ڈھونڈیں گے حالانکہ اگر اسے ڈھونڈ نکالیں تو عیش و عشرت کا سارا سامان اسی کوٹھڑی کے اندر سمٹا ہوا مل جائے گا۔ نا خوشی کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم ایسی جگہ سے خوشی تلاش کر رہے ہوتے ہیں جہاں پر وہ ہوتی ہی نہیں۔

اپنے آپ کے ساتھ جینا سیکھیے

موجودہ دور کا المیہ ہے کہ انسان انسان سے تو دور ہوا ہی ہے بلکہ اپنے آپ سے زیادہ دور ہو گیا ہے۔ کسی صوفی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر انسان آج اپنے آپ کے ساتھ وقت نہیں گزارتا تو کل قبر میں صدیوں سال کیسے گزارے گا؟ بڑا فکری نکتہ ہے۔ ہم نے خوشی کو دوسروں کے ساتھ وابستہ کر لیا ہے۔ جبکہ خوشی ہمارے اندر ہوتی ہے۔ بس ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

موازنے سے بچیں

دوسروں کی خوشی میں خوشی رہیے۔ کمزور لوگ کبھی خوش نہیں رہ سکتے کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ خوش رہیں گے تو اس کی خوشی جاتی رہے گی۔ یہ حسد اسے ہمیشہ کے لیے خوشی سے محروم کر دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خوشی کا ایک اور اہم راز ہے، خود کا دوسرے سے تقابل نہ کرنا۔ یونیورسٹی آف آئیووا کے پروفیسر ڈیوڈ واٹسن کہتے ہیں کہ اگر خوش رہنا ہے تو خود کو حسد اور جلن سے آزاد رکھیں۔ اسی طرح پیرس کی سوبورن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی پروفیسر کلاڈیا سینک کہتی ہیں کہ اپنی زندگی کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں بلکہ اپنے ٹارگٹس اور مسائل کے حل پر توجہ مرکوز رکھیں۔ اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھنا سیکھیے۔ یہ چیز آپ کو مطمئن رکھے گی۔

چھوٹی چھوٹی باتوں کو انجوائے کریں

خوشی کے لیے وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہر حال میں خوش رہنا سیکھو،چھوٹی چھوٹی چیزوں کو انجوائے کرو اگر آج تم چائے کے کپ کو انجوائے نہیں کر سکتے تو کل کو ہیلی کاپٹر بھی مل جائے تو نہیں کر سکو گے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی پسند کی شادی ہو جاتی تو وہ زیادہ خوش رہ سکتے تھے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اپنے اندر خوش نہیں ہے تو وہ کسی کے ساتھ بھی خوشی نہیں رہ سکتے۔ خوشی تو اندر ہے مگر ہم اسے باہر تلاش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اے غُربت! تیرا شکریہ - امجد طفیل بھٹی

سادہ زندگی زیادہ خوشیوں کا باعث

فی زمانہ وہ لوگ زیادہ پریشان حال دکھائی دیتے ہیں جن کے پاس وسائل کی کمی ہے مگر سچ تو یہ ہے جو جسم کی جگہ دماغ کی زندگی بسر کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں ان کو جسمانی آسائشوں کا فقدان پریشان نہیں کرتا۔ "شاباش تم کر سکتے ہو" کے مصنف لکھتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے شہر کی زندگی سے دور کہیں پڑاؤ ڈالا اور چند دن گزارے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ مطمئن اور خوشحال تھے حالانکہ ان کے پاس سامان آسائش فریج ٹی وی وغیرہ نہیں تھا۔

شکر گزاری کا رویہ اختیار کیجیے

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کیجیے۔ یہ احساس آپ کو مزید نعمتوں سے نوازے گا اور آپ کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اگر تم شکر کرو گے تو اور زیادہ دوں گا، ناشکری کروگے تو جو ہے وہ بھی چھین لوں گا۔ "

شکر گزار لوگ زیادہ مطمئن اور خوش حال ہوتے ہیں۔

سفر کیجیے

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ سفر خوشی لاتا ہے۔ قرآن مجید جا بجا تدبر اور کائنات میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ 2004 ء میں جرمنی میں سفر کر نے والے لوگوں پر تحقیق ہوئی،نتائج سے سامنے آیا کہ وہ لوگ جو کام پر جاتے وقت ایک گھنٹہ سفر میں گزارتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خوش ہیں جو یہ وقت نہیں گزارتے۔

سماجی تعلقات بہتر بنایئے

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر تم چاہتے ہو تمہارا رزق بڑھے اور عمر زیادہ ہو تو تم رشتے داروں سے حسن سلو ک کرو"انسان کے سکون اور خوشی کے لیے رشتے بنیادی اکائی ہیں۔ ان کے بغیر زندگی کے سارے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ اگر آب حیات کا پیالہ مل بھی جائے تو ہم وہ لوگ کہاں سے لائیں گے جن کے دم سے زندگی ہے۔ والدین،بہن بھائی،اولاد، قریبی دوست سب زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ یہ سب انسان کو حقیقی خوشی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے جو لوگ جتنے زیادہ سوشل ہوتے ہیں، اتنے ہی ترقی کرتے ہیں۔

آرگینک فوڈ کا استعمال

کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ فی زمانہ مصنوعی غذا اور مصنوعی طرز زندگی نے انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ جتنی زیادہ سادہ اور فطری زندگی کو اختیار کیا جائے گا اتنا ہی پر سکون رہے گا۔ جنک فوڈ انسان کو دماغی طور پر کمزور کر دیتے ہیں۔ یہ چیز عدم برداشت کا باعث بنتی ہے۔ مگرمغرب اب ماڈرن لائف اسٹائل کو چھوڑ کر دوبارہ سادہ طرز زندگی اختیار کر رہے ہیں۔ جبکہ ہم ان کی دیکھا دیکھی اسی لائف سٹائل کو اختیار کر رہے ہیں۔ آرگینک فارمنگ کا مقصد بھی یہی ہے کہ کھاد اور کیمیکل سے پاک سبزیاں اور پھل اگائے جائیں۔ اس مقصد کے لیے کچن گارڈننگ بہت اہم ہے کردار ادا کر سکتی ہے۔ گملوں میں سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ جو کچن کی ضرورت بھی پوری کریں گی اور صحت کے لیے بھی مفید تر ہوں گی۔

زندگی کے حقائق کو تسلیم کیجیے

مسائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کا حل ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ایک وہ جن کا حل ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا،ان کو بدلنے کی بجائے تسلیم کرنا سیکھیے۔ پسند کی نوکری ہو یا پسند کی شادی اگر نہیں ہو سکی تو تسلیم کر لیجیے کہ یہی مقدر تھا۔

تحقیق سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ دکھ ہی اصل میں خوشی کا سبب ہے۔ مولانا آزاد کہتے ہیں موج جب تک مضطرب ہے زندہ ہے۔ اسی طرح حقیقی خوشی تب تک محسوس نہیں کی جا سکتی جب تک دل دکھی نہ ہو۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ تغیر ہی اس دنیا کی رونق و راحت کا سبب ہے اور سکون موت کا دوسرا نام!

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں