کوئی ہے جو خواب چھین لے گا؟ - احمد حسین بدر

ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جنہوں نے گورے کے تسلط کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جو تمام تر بے سرو سامانی کے باوجود پانی پت میں اتر گئے تھے۔ جنہیں علمِ آزادی بلند کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر بلند کیا گیا۔ جن کے جسموں کو پابندِ سلاسل کیا گیا۔ جن کی روحوں پر پہرے بٹھائے گئے۔ جن کے جنازے مالٹا کی جیل سے اٹھائے گئے۔ جن کے لیے فقط پیامِ موت ہی پیامِ آزادی ٹہرا اورجنہوں نے جدا ریاست کا خواب دیکھا۔ جنہیں اپنوں اور غیروں نے یکساں ہدفِ تنقید بنایا۔ جن کے خوابوں کو "دیوانے کا خواب" کہا گیا۔ اور جنہوں نے خواب حقیقت کر دکھائے۔ جنہوں نے ثابت کردیا کہ معجزہ انیسویں صدی میں رونما ہوسکتے ہیں۔جن کے نزدیک چلتے رہنے کا نام کامیابی ٹہرا اور پھر کامیابی ان سے ہمکنار ہوئی۔

میرا سوال ہے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ آزادی کی تحریک میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ گھر بار کی قربانیاں دیں۔ مال و اسباب وار دئیے۔ آباء و اجداد کی قبریں چھوڑدیں۔ مِلّی مفادات پر ذاتی مفادات قربان کر دئیے۔ اپنے تمام حسب نسب، تمام پہچانیں، اور تمام تعارف چھوڑ دئیے۔ پھر ایک ہی تعارف ٹہرا لا الہ الا اللہ۔ پھر ایک ہی نعرہ ٹہرا لا الہ الا اللہ۔ پھر ایک ہی رشتہ ٹہرا لا الہ الا اللہ۔ زمانہ ان لوگوں پر گواہ ہے جنہوں نے 'مواخاۃَ مدینہ' کی یاد تازہ کردی۔ تاریخ شاہد ہے ان پر جنہوں نے اسلام کے سوا کوئی تعارف برداشت نہ کیا۔

میں پوچھتا ہوں کیا ان عظیم لوگوں کی اولاد کے بارے میں آپ یہ تصور کرتے ہیں کہ اِن سے خواب چھین لیے جائیں گے؟ واللہ! ایسا ہو نہیں سکتا۔ غبار آلود ماحول میں شاید میری اور آپ کی بصارت دھوکا کھاجائے کہ اِن سے خواب چھین لیے جائیں گے۔ لیکن! ایسا ہو نہیں سکتا۔ کیوں؟

ماضی میں یہاں ایسے بے پناہ تجربے کیے گئےجنہیں عالمی استعماری طاقتیں اپنا مضبوط ترین ہتھیار سمجھتی تھی۔ یہ ایسے خوفناک ہتھیار تھے جن کے نتائج کے بارے میں سوچ کر ہی بدن میں تھرتھری مچ جاتی ہے۔ لیکن! کیا ان میں سے کوئی ایک ہتھیار بھی کامیاب ہوا؟

آئیے جائزہ لیتے ہیں:

سب سے پہلے علاقائی اور لسانی بنیادوں پر انتشار کا بیج بویا گیا۔ یہ انتہائی خطرناک ہتھیار تھا۔ماضی میں اس ہتھیار کا شکار قومیں اپنے انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر صفحہ ہستی سے یوں مٹ گئیں جیسے تاریخ میں کبھی گزری ہی نہیں۔ ہمارے ساتھ بھی عالمی طاقتوں نے یہ کھیل رچانے کی بھرپور کوشش کی۔ قبل اس کے کہ ہم مسئلہ کو جڑ سے پکڑتے اور اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرتے دشمن ہمارا ایک بازو کاٹ چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم سنبھل گئے۔ اور ہم نے قوم کو ایک بار پھر اسلام کے جھنڈے تلے یکجا کرنے کی کوشش کی۔ عیار دشمن نے اس بار مخالف سمت سے چال چلی۔ انہوں نے اپنے چیلوں کے ذریعہ سوال اٹھایا کہ اسلام کون سا؟ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی یا اہلِ حدیث کا اسلام؟ ہم ایک بار پھر ان کے پراپیگنڈے کا شکار ہوئے۔ ہم ایک بار پھر انتشار کا شکار ہوگئے۔ دشمن کا یہ وار شاید کامیاب ہوجاتا لیکن اس بار ہمارے سنجیدہ لوگ محتاط تھے۔ اس بار کسی نے" اِدھر ہم، اُدھر تم" والی غلطی نہیں دھرائی۔ اس کے باوجود ہم اپنا بہت سا قیمتی سرمایہ ایک غلط راہ میں جھونک چکے۔ ازلی دشمن تو خیر ہمارا خیر خواہ ہو نہیں سکتا لیکن اس حمام میں بیرونی ہمدرد بھی ہمارے اپنے نہ رہے۔ انہوں نے بھی مذہب کے نام پر اپنے اُلو سیدھے کئے۔ یہ سب چلتا رہا۔ اس آگ نے ہمارے تین صوبوں کو علاقائی، نسلی اور لسانی تعصب کی بنیاد پر خاکستر کر رکھا تھا۔ اور جو علاقے نسلی تعصب کی آگ میں جلنے سے بچ گئے وہاں مسلکی بنیادوں پر آگ بھڑکائی گئی۔ دشمن سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ گیا ہے لیکن شاید وہ بھول گیا تھا کہ یہ اقبال کی قوم ہے۔ جس کا پیغام ہے ؎

دلِ مردہ دِل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ

یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ

تیرا بحر پُر سکوں ہے، یہ سکوں ہے یا فسوں ہے

نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابئ کنارہ

یہ بُھلے شاہ کی قوم ہے۔ جس نے کہا تھا ؎

اب تو جاگ مسافر پیارے

وہ جو خوابوں کو سُلادیتے ہوں۔ جو انہیں رُلا دیتے ہوں۔ جو انہیں بھگا دیتے ہوں۔ جو ان کے پورا نہ ہوسکنے سے ڈرتے ہوں۔ ایسے لوگ ساری زندگی روتے ہیں اور ایسوں کا روزگار بھی مرثیوں سے جڑجاتا ہے۔ انہیں خوشی بھی خوشی نہیں دے پاتی۔ یہ خوشی میں بھی غم ڈھونڈتے ہیں۔ یہ زندگی میں بھی موت کے بیوپاری ہوتے ہیں۔

یہ قوم کیسے سو سکتی ہے؟ اسے تو جگانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ قطار میں "پچھے لگّن" والی قوم نہیں ہے۔ اس نے تو ان شاء اللہ آگے بڑھ کر امامت کرنی ہے۔ اس نے تو دنیا کو صداقت، امانت اور شجاعت کا سبق پڑھانا ہے۔ لہذٰا یہ قوم جاگ گئی۔ اللہ نے سبب بھی اس قوم کے بچوں کے لہو کو بنایا۔ یعنی اس قوم کے احیائے ثانی کی بنیاد معصوم لہو کی بوندوں سے پڑی۔ دشمن نے ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا۔ شاید قوم کی بیداری کے لیے رب نے یہی وقت منتخب کیا تھا۔ یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب اسلام آباد میں چند شرپسند عناصر قوم کو مزید خوابِ غفلت میں ڈالے رکھنا چاہتے تھے لیکن العلیم ذات نے فیصلہ کرلیا تھا اور اس کے فیصلوں پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ اس واقعہ کے بعد اس قوم نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ اب ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ ہر میدان میں آگے بڑھناہے۔ ہر طوفان سے ٹکرانا ہے۔ ہر مشکل سے نبٹنا ہے۔ اب دنیا کوعملی طور پر بتانا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ پوری قوم کی دعائیں رنگ لائیں۔ اللہ سے کیے عہد وپیمان نبھانے کے وعدے کئےلیکن ایک فریق پھر اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اس نے پھر ملک میں انتشار پیدا کرنے کوشش کی۔ رب تعالٰی کو شاید ایک اور آزمائش منظور تھی۔ اور یہ آزمائش شاید ماقبل میں گزری تمام آزمائشوں سے بڑی نکلے۔ کیوں کہ اب لڑائی افکار کی ہوگی۔ آپ کی زبان کیا ہے؟ آپ کا دسترخوان کیسے بچھتا ہے؟ اور آپ رہتے کہاں ہے؟ ان بحثوں سے کوئی سروکار نہیں۔ لسانی جنگ زبان پر تھی۔ نسلی جنگ خاندانی بنیادوں پر تھی۔ مسلکی جنگ فقہی اختلافات پر تھی۔ یہ تینوں بنیادیں ایسی تھیں کہ ان پر موجودہ نسل کا اختیار نہیں تھا۔ جو قوم ان کے والد کی تھی وہی ان کی ٹہری۔ جو زبان ان کی ماں کی تھی وہی ان کی زبان ٹہری۔ مسلک وہی تھا جو ان کی مسجد کا امام بیان کرتا۔ لیکن آج جو جنگ ہونے جارہی ہے یہ فکروں اور نظریات کی جنگ ہے۔ اس میں آپ کو دشمن کا بھی نہیں پتہ اور اس کے طریقہ واردات سے بھی آپ نا آشنا ہیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ ہمارا سب سے بڑا امتحان لینے جارہی ہے۔ جس میں آپ کا اپنے بھائی سےصرف اس بنیاد پر جھگڑا ہوگا کہ تو فلاں پارٹی کا ہے اور میں فلاں پارٹی کا۔ مزے کی بات یہ ہو گی کہ مذہبی، لسانی اور علاقائی جماعتیں بھی اس جنگ میں کسی ایک فریق کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور ہوں گی۔ یہ نہایت ہی سطحی سوچ کہلائی گی کہ آپ مذہبی ہیں اور آپ کے دائیں بائیں سیکولر یا لبرل کھڑا ہے۔ آپ کو ایک ایسے 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' پر پہنچا دیا جائے گا کہ آپ خود کسی گمنام سہارے کا ہاتھ تھام لیں گے۔ آپ سے کہا جائے گا کہ ہمارے ساتھ کھڑے رہو ہمارے سامنے "یس باس" کرتے رہو ورنہ عزت سمیت ہر دولت سے محروم کردئیے جاؤ گے۔ سیاست جو آج گالی بن چکی ہے عنقریب وہ خونی بن جائے گی۔

آج کے منظر نامے میں آپ یہ کہنے کا جواز کھو چکے ہیں کہ نواز شریف یا عمران خان خواب چھین لیں گے۔ ان دونوں نے تو اپنے اپنے حلقہ اثر کو خواب دئیے ہیں، چھینے تو نہیں۔ یہ خواب چھیننے والے نہیں، خواب پورے کرنے کی سعی میں لگے ہیں۔ لیکن جب یہ لیڈران بھی استعمال ہوں گے اور بھرپور استعمال ہوں گے تو پھر آپ کسے کہیں گے کہ"کیا خواب بھی چھین لیں گے؟" پھر آپ کا یہ کہنا بنے گا نہیں۔ پھرخواب چھیننے والے آپ کے سامنے ہوں گے لیکن آپ نعرہ ہائے گریہ بلند نہیں کرسکو گے۔ اگر کرو گے تو ہٹا دئیے جاؤ گے۔

اب آئیے تصویر کے دوسرے رُخ کی طرف۔

میری خوش گمانی کہیے یا خدا امیدی کہ میں کل کے پاکستان کو آج کہ پاکستان سے بہتر دیکھتا ہوں۔ اور شاید اس لیے کہ ماضی نے مجھے دکھایا ہے کہ اس قوم کے اعصاب کبھی نہیں چٹخے۔شاید یہ ملک ہی نہیں یہ قوم بھی صالح ؐ کی اونٹنی ہے۔کوئی امید کی کرن نہیں تھی کہ پاکستان بن جاتا۔ 1947 میں یہ بن گیا۔ پھر پیشن گوئی ہوئی کہ یہ بن تو گیا ہے لیکن اس کا بچنا ناممکن ہے۔ پوری قوم اس دھرتی کی محافظ بن گئی۔ دنیا میں ہم ایٹمی طاقت بن کر ابھرے۔ پھر تحقیق آئی کہ بیرونی خطرات سے تو تم نے امان حاصل کرلی ہےلیکن اندرونی خطرات تمہیں نگل لیں گے۔ ہم نے اندرونی سازشوں کا پردہ بھی فاش کر ڈالا۔ پھر ارشاد ہوا کہ دفاع ہی سب کچھ نہیں ہوتا معیشت بھی مضبوط ہونی چاہئے۔ آج دنیا نےدیکھ لیا کہ معیشت کے نجومی روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں۔ تو پھر میرا یہ کہنا بنتا ہے کہ کوئی خواب چھین نہ پائے گا۔ کوئی یہاں لہلہاتی کھیتیوں کو اجاڑ نہ سکے گا۔ کوئی گلشن کی مہک چُرا نہ سکے گا۔ کوئی ہمیں خریدنے کی جسارت نہ کرپائے گا۔

اس آج میں ہم نے بہت مصائب برداشت کیے ہیں۔ ہم سے سب کچھ کروانے کے بعد بھی ڈومور کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ہمارے بچے شہید ہورہے ہیں۔ ہمارے جوان یرغمال کیے جارہے ہیں۔ ہمارے کلچر کو بدلنے کی سازش بھی اپنے عروج پر ہیں۔ لیکن پھر بھی مستقبل ہمارا روشن ہے۔ کیونکہ ہم نے روشن مستقبل کا خواب دیکھا ہے۔ اور قوموں کے اجتماعی خواب عموماً جھوٹے ثابت نہیں ہوتے۔ مستقبل خواب دیکھنے والوں کا ہے۔ خوابوں کو سینچنے والوں کا ہے۔ مستقبل تو ان کا ہے جو خوابوں کے بجھتے دِیوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ اور وہ جو خوابوں کو سُلادیتے ہوں، جو انہیں رُلا دیتے ہوں، جو انہیں بھگا دیتے ہوں، جو ان کے پورا نہ ہوسکنے سے ڈرتے ہوں۔ ایسے لوگ ساری زندگی روتے ہیں اور ایسوں کا روزگار بھی مرثیوں سے جڑجاتا ہے۔ انہیں خوشی بھی خوشی نہیں دے پاتی۔ یہ خوشی میں بھی غم ڈھونڈتے ہیں۔ یہ زندگی میں بھی موت کے بیوپاری ہوتے ہیں۔ یہ نفرتوں کے بیج بونے والے، محبتوں کی جڑیں کاٹنے والے، ہمیشہ تباہی کی داستان بن جاتے ہیں۔ تباہی ان کی اور ان کے مقربین کا مقدر ٹہرتی ہے۔ میں اپنے سوہنے رب کے حضور دعا گو ہوں کے اے پاک پرورگار! میرے محبوب وطن کو مضبوط بنادے۔ اے میرے اللہ! یہ وہی خطہ ارضی ہے جس کے کوچوں سے تیرے محبوبﷺ کو ہوائیں آتی تھی۔ جس کے درودیوار تیرے حبیبﷺ کو محبوب تھے۔ یہیں سے اُن سرفروشوں کے آنے کی خبر تیرے رسولﷺ نے دی جس کے ہاتھوں اسلام کی نشاۃ ثانیہ ممکن ہوگی۔ اے میرے اللہ! یہ تیرے محبوب کی باتیں ہیں جو اس مشکل اور کٹھن وقت میں ہمارے ٹوٹے دلوں کو سہارے دیتی ہیں، ہمارے بجھے چہروں پر امید کے عرق کا "ترونکا" لگا دیتی ہیں۔ اے اللہ! تو ہماری امیدوں کو اب مزید طول نہ دے۔ اب انہیں پورا کردے۔ اب ہم پر اپنی نعمتیں تامّ کردے۔ ہمارے مصائب کو آسان کردے۔ اے ہمارے رب!