چاند پراذان کی آواز، خلاباز کے قبول اسلام کی حقیقت - نور ولی شاہ

نیل آرم سٹرانگ امریکی سائنسدان اور خلاز باز ہیں۔ آپ سب سے پہلے انسان ہیں جس نے چاند پر قدم رکھا۔ یہ اعزاز آپ کو 21 جولائی 1969ء کو حاصل ہوا۔

کیا آرم سٹرانگ نے اسلام قبول کیا تھا؟
آرام سٹرانگ کے بارے میں یہ بات کافی مشہور ہوگئی کہ اس نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بارے میں کسی نے مشہور کیا کہ واپسی پر جب مصر گئے تو وہاں پر ایک آواز سنی ؟ استفسار پر اسے بتایا گیا کہ یہ اذان ہے،اس نے کہا کہ یہی آواز میں نے چاند پر سنی تھی۔ چنانچہ وہ اسلام لے آیا۔
یہ بات صرف ہمارے ہاں مشہور نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا میں عوام میں کافی شہرت حاصل کرچکی ہے۔

افواہ کا آغاز
اس افواہ کا آغاز 1983ء میں ہوا جب ایک موسیقار "سوہیمی" نے ایک گانا لکھا جس میں چاند پر اذان کی آواز کو سننے اور آرم سٹرانگ کے اسلام قبول کرنے کو بیان کیا گیا تھا۔اس گانے کو جکارتہ سے شائع ہونے والے اخبارات میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد مصر میں اس کے اسلام لانے کی جھوٹی خبر سامنے آئی۔

ان غلط خبروں کو اس قدر شہرت حاصل ہوئی کہ امریکی حکومت کو سرکاری طور پر اس کی تردید کرنی پڑی۔ مارچ 1983ءکو سٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف امریکہ نے ایک عالمی پیغام جاری کیا کہ آرم سٹرانگ مسلمان نہیں ہوئے ہیں۔

اس جھوٹ کو مزید تقویت اس اشتباہ سے مل گئی کہ آرم سٹرانگ ریاست اوہائیو کے لبنان نامی علاقے میں رہائش پذیر تھے اور بعض لوگ اسے لبنان ملک میں رہائش پذیر خیال کرنے لگے جو کہ ایک اسلامی ملک ہے۔

آرم سٹرانگ کا اپنا مذہب
آرم سٹرانگ خود عیسائی تھے۔ اس کی والدہ کافی مذہبی خاتون تھیں،تاہم وہ خود کو ڈیسٹ(Deiast) قرار دیتے تھے۔ڈیسٹ جدت پسند عیسائیوں کا ایک فرقہ ہے۔ ان کے مطابق کائنات اور اس میں موجود اشیاء بذات خود وجودباری تعالیٰ پر دلالت کرتی ہیں، تاہم وہ کسی بھی قسم کی روحانیت اور وحی کے منکر ہوتے ہیں۔ اس کی والدہ اس کے ان خیالات کے بارے میں پریشان رہتی تھی۔

آرم سٹرانگ کی زندگی پر جیمز آر ہینسس نے "فرسٹ مین: دی لائف آف نیل اے آرم سٹرانگ " کے نام سے کتاب لکھی ہے، اس میں بھی اسے ڈیسٹ قرار دیا گیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ اس کی رفتا ر سچ سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔باوجود اس بات کے کہ یہ افواہ 1983 ء میں اڑائی گئی لیکن اسی سال امریکی حکومت کی جانب سے اس کی تردید کئی گئی، آج تک اچھے بھلے لوگ اس افواہ کا شکار نظر آتے ہیں۔

اسلام ایک حق اور سچا دین ہے جو انسانیت کی بھلائی کے لیے آیا ہے اور جس پر عمل پیرا ہوکر ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کی ترویج و اشاعت کے لیے ہمیں کسی بھی قسم کی غلط خبروں اور جھوٹ پھیلانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ اجازت ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے نقل کرتا پھیرے۔

میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے تحقیق کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کوئی بات کرنے اور اسے آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو دین اسلام کی اشاعت اور خدمت کے جذبے کو لے کر الٹا گناہ سمیٹ لیں۔