زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے - عبد الباسط بلوچ

کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے لیے نہیں دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ ان کو مالک ایسا شرف قبولیت بخشتا ہے کہ جب وہ ہوتے ہیں تو فخر ہوتے ہیں اور جب چلے جاتے ہیں تو یاد گار زمانہ بن جاتے ہیں۔ ہر دل اُن کی جدائی کو محسوس کرتا ہے۔اس کی وجہ ان کا وہ زہد و تقویٰ اور للہیت ہوتی ہے جس کو ماپنے کے لیے پیمانے نہیں ہوتے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو مالک نے ہزاروں عہدوں، وزاتوں اور عزتوں سے بھی زیادہ نوازا ہوتا ہے۔یہ مل جائیں تو سعادت کی علامت، دعا دے دیں تو رفعت کا مقام، ساتھ چل دیں تو عزت میں اضافہ۔یہ کر ّو فر والے نہیں تقویٰ اور ایمان والے ہوتے ہیں۔ ہر دل کی آواز،درد کی دوا اور ہرخیر کے داعی۔ آج جس ہستی کو میں سلام عقیدت پیش کرنے لگا ہوں وہ ایک زمانے کے استاد،حدیث رسول کے سفیر،علم کا مینار، ہزاروں علما کے روحانی باپ، لاکھوں افراد تک فیض بخار ی پہنچانے والے گوہر نایاب ۔ ۱۹۵۸ء سے مسند تدریس پر متمکن ہوئے اور آج ۱۵ اگست ۲۰۱۷ کو ۵۹ سالہ عہد استادی کو چھوڑ کر بارگاہ لم یزل میں پہنچے۔مجھے امید ہے جب یہ روح سعید آسمان پر پہنچی ہو گی تو آسمان بھی معطر ہو گیا ہو گا اور وہ بہت سوں کو روتا چھوڑ کر آقائے نامدارﷺ کے پاس بیٹھے مسکرا رہے ہوں گے۔

آپ نے جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں ۱۸ سال پڑھایا، پھر مختلف جامعات میں یہ فیض جاری رہا۔ ۱۹۹۳ سے جامعہ الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ میں تا دم سفر عدم مسند شیخ الحدیث پر متمکن رہے۔سادگی،حلم،بردباری،وفا شعاری،اخلاص کا یہ روشن مینار آج نہیں رہا۔ مجھے آج بھی اس دوست کی بات نہیں بھولی،محقق العصر مولانا ارشاد الحق عصری فرماتے ہیں علما اٹھ رہے ہیں، ان کی وجہ علم بھی اٹھ رہا ہے اس دور میں صرف دو شخصیات باقی ہیں جن میں ایک مولانا عبداللہ امجد چھتوی ہیں۔ علم حدیث سے محبت دیکھیے، اپنی بیٹی کی وفات پر بھی حدیث کے سبق کو نہیں چھوڑا۔ بھلا ایسے جوہر کہاں ملتے اب؟ میرے سامنے نبی محترمﷺ کی وہ حدیث ہے کہ علم اٹھ جائے گا۔ اب احساس ہوتا جا رہا ہے، جو پہلے تھے بعد میں ان جیسے نہیں آ سکتے۔ ہمارے جنازے بتائیں گے کہ ہم کون ہیں؟

اساتذہ میں وقت کے محدث پائے اور شاگردوں میں وقت کے محقق پائے آپ کہہ سکتے ہیں اس وقت اہل حدیث مدارس کے جتنے بھی شیوخ الحدیث ہیں وہ ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ مالک ان کے درجات کو بلند فرمائے