ڈاکٹر رُتھ فاؤ اور سیکولرز کی پریشانی - عصمت اللہ خان

بات کسی کو جنت یا جہنم پہنچانے کی نہیں اور نہ کسی ملّا یا مولوی کے پاس ایسا کوئي صوابدیدی اختیار ہے ۔ دراصل اس بحث کا آغاز کسی مُلّا نے کسی کافر کو جہنم بھیجنے سے نہیں کیا بلکہ اصل مدعا "اُدھر" سے شروع ہوا جب ایک سیکولر کالم نگار نے اپنے ایک مضمون کا عنوان یہ باندھا کہ "مجھے ایسی جنت نہیں جانا جہاں ڈاکٹر روتھ فاؤ نہ ہو۔۔۔"

لہٰذا یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ بحث کسی ملّا کی شعلہ بیانی سے وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ سب کچھ سیکولر ملحدین کی چِکنی چُپڑی پلاننگ کے تحت ہورہا ہے جو ہر ایسے موقع کی تلاش میں اپنی چورن پھکی بیچنے آٹپکتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کل تک یہی سیکولرز جس جنت کے وجود تک کے انکاری تھے آج ان کے پیٹ میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ’’ان کی منشاء اور مرضی‘‘ کے خلاف زبردستی گھسیٹ کے ان کو جنت میں ڈالنے کا مروڑ اٹھ رہا ہے۔کل تک یہ اسی جنت کو "A Pie in the sky" کہہ رہے تھے۔

اللہ کے دین اور رسالت کو بائی پاس کرکے جنت کا ٹکٹ بانٹنے والے یہ بھینسے،کوڈے،گورائے اور موم بتی مافیا کے قبیل کے باقی اداکار بتانا یہ چاہتے ہیں کہ گلی کے نُکڑ پر فالودے کی ریڑھی لگا کر ’’انسانیت‘‘ کی خدمت کرو اور جنت چلے جاؤ۔کلمہ،رسالت، نماز،روزے،زکواۃ دینا تو کُجا آپ کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں۔ بھلے آپ دہریے، عیسائی،یہودی یا ہندو سکھ ہوں۔۔۔آپ بس جنتی ہیں! یہ ہے تھیم اس ساری سٹوری کے پیچھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نبیﷺ نے جس دین کو ابدی کامیابی کا ذریعہ بتایا، خود اس پر عمل کرکے دکھایا اور اسی دین کے ذریعے انسانیت کا سبق دے کے گئے، آج یہ سیکولرز و ملحد اسی دین کے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ پیچھے لٹھ لے کے پڑگئے ہیں۔۔

بھینسا،روشنی،موچی،پلاٹون نامی پیجز نے پہلے تو مولوی کی تضحیک کی، بات نہ بنی تو اسلامی شعائر اور عقائد کا مذاق اُڑایا۔ مزا نہ آیا تو ہمارے پیارے نبیﷺ کی ذات پر حملے شروع کردیے اور اس بار منہ کی کھانی پڑی۔۔پچھلے کچھ عرصے سے یہ بھینسے سُور کا بھیس بدل بدل کے انسانیت جیسے موضوع کی آڑ میں دین پر چڑھائی کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جہاں یہ سیکولرز انسانیت کی آڑ میں کھلم کھلا ہمارے ایمان و عقائد پر حملہ آور ہیں، وہیں رینڈ کارپوریشن اور مغربی این جی اوز کی مدد سے پچھلے کچھ عرصے سے ایک نئے فتنے کو مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ہے جو دین کا لبادہ اوڑھے ان سیکولر ملحدیں اور بھینسوں کی خوب دلالی کرتا نظر آتا ہے۔ جی ہاں انہیں عرف عام میں فرقہ غامدیہ کہتے ہیں، جو اسلام پر کیچڑ اُچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ہماری صفوں میں گُھس بیٹھے ان بھیڑیوں کو خدارا پہچانیں اور ان کی باتوں میں آنے کی بجائے ان کو ان کی باتوں کا جواب دینا سیکھیں۔