اپنا ملک تو پھر اپنا ہی ہوتا ہے - رمانہ عمر

یہ غالباً 1990ء کا زمانہ تھا جب ہماری والدہ کو کسی محلے دار کی زبانی پتہ چلا کہ برابر والے گھر میں ایک پاکستانی فیملی کویت سے آئی ہے۔ انہوں نے میٹھا بنا کر پیالے میں ڈالا اور ہمیں ساتھ لے کر پڑوسن کے گھر پہنچ گئیں۔ جی ہاں ! یہ 1990ء کا کراچی تھا اور تب نئے آنے والے پڑوسیوں کا اسی طرح کھلے دل سے استقبال کیا جاتا تھا۔ اجلے اجلے سے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ لیے ہمارا استقبال کرنے والی خاتون آج تلک یاد ہیں، جنہوں نے بھیگی پلکوں کے ساتھ ہمیں بتایا تھا کہ جنگ کی خوفناک خبر ملنے کے بعد ان کا خاندان چند دن کا سامان اور پاسپورٹ لے کر خشکی کے راستے پاکستان پہنچا، وہ بچوں کے ساتھ صحرا میں راتوں کو ٹھہرنا ۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی سناتے ہوئے ان کی آنکھوں میں لفظ پاکستان کے ساتھ ہی ایک چمک سی اتر آتی تھی۔ انہوں نے بھی سرزمین وطن پر پہنچ کر مٹی کو چوما تھا اور یوں تاریخ نے خود کو چند تارکین وطن کے لیے دہرایا تھا۔ ان کا کہا یہ جملہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے کہ " اپنا ملک تو پھر اپنا ہی ہوتا ہے ۔"

اس اپنے پن کے احساس نے ہمارے دل و دماغ پر بھی گہرا رنگ جمایا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر یقین بڑھتا چلا گیا، حتی کہ اپنی منزل کی تلاش میں ہم نے بھی 1997ء کی ایک صبح پاسپورٹ بغل میں دبا کر قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرلی۔ تب سے اب تک "تارکین وطن " اور " اوور سیز پاکستانی " کا لیبل سینے پر لگائے گھومتے ہیں۔ ان بیس برسوں میں نہ تو ہم پلٹ سکے اور نہ ہی اس "اپنے پن " کے احساس کو مٹا سکے۔

تارکین وطن کے اپنے مسائل اور سوچنے کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے۔ بعض تو ہمہ وقتی شکایتی ہوتے ہیں۔ ایسوں کو وقت اور حالات کی تبدیلی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چاہتے ہیں دروبام کو جیسا ہم چھوڑ کر آۓ تھے لوٹنے پر ہوبہو ویسے ہی ہمیں ملیں۔ اب بھلا یہ کیونکر ممکن ہے ؟ وقت کے ساتھ ساتھ طور طریقے، محبتوں کی شدتیں، رشتہ داروں کے مفادات سب ہی تو بدلتا ہے۔ تبدیلی کے عمل کو کوئی کیسے روک سکتا ہے؟ قریباً ہر محفل میں آپ کو ایک نہ ایک گوشے یہ ایسے جملے سننے کو ضرور ہی ملیں گے " ہمارے زمانے میں تو لبرٹی اتنی لبرل نہ تھی "، " ارے صاحب عورتیں تو بیباک ہو ہی گئی ہیں، مرد بھی غیرت سے عاری ہیں، نجانے ملک کس سمت جا رہا ہے؟ "، " رشتے دار پہلے تو ایسے بے مروّت نہ تھے ۔" ۔۔۔۔۔۔ کیا کیجیے کہ سمندر کا نظارہ بھی جب ساحل سے ہو تو نگاہ بدصورت مناظر سے تجاوز نہیں کرپاتی۔ ہمارے ہی جیسے انسانوں نے جو کوڑا سطح آب پر جا بجا پھینکاہوتا ہے وہ تو نظر آجاتا ہے پر اندر تہہ میں جو خوبصورت سیپیاں اور موتی مونگے موجود ہیں، ان تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔

ہمارے حلقہ احباب میں بھی ایک " شکایت خانم " قسم کی ایسی ہی خاتون ہیں جو چھوٹی، بڑی، خوشی، غمی کی کسی محفل کا لحاظ کیے بنا اپنے ملک کا رونا ضرور روتی ہیں۔ کہتی ہیں " کیا کرنا اپنے ملک میں چھٹی گزار کے، نہ موبائل محفوظ نہ جان نہ مال، سڑکیں الگ گندگی کا ڈھیر ہیں۔ ہم تو خود جانے کے بجائے اب ٹکٹ دے کر والدین کو یہیں بلوالیتے ہیں۔ "

ایک بار وہ اسی طرح بھری محفل میں تازہ ترین بم دھماکے کی " جیو " اسٹائل کوریج پیش کررہی تھیں۔ کہنے لگیں " مسجد کا فرش خون سے سرخ ہو رہا تھا، لوگوں کے اعضاء ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ میں تو دیکھ ہی نہ پائی، ٹی وی بند کردیا۔ "

ان کا بیان جاری ابھی تھا کہ میں نےسامعین کے تاثرات پر غور کیا، میری بیٹیوں سمیت دیگر مہمان لڑکیاں سنجیدہ اور رو ہانسی صورت لیے انہی کو سن رہی تھیں۔ میں نے کسی بہانے لڑکیوں کو ادھر ادھر کھسکایا تاکہ ان کے کان اس تکلیف دہ گفتگو سے بچے رہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسی بھیانک منظر کشی کے بعد ہم خود کس منہ سے اپنے بچوں کو پاکستان چلنے کا کہیں گے؟ اور پھر بات یہیں پر ختم نہ ہوتی بلکہ وہ تو اٹھنے سے قبل یہ اعلان بھی کر دیتی تھیں کہ " یہ ملک اب رہنے کے قابل رہا ہی کہاں ہے ؟"

زندگی تبدیلیوں کا دوسرا نام ہے۔ اقبال کہہ تو گئے ہیں کہ

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

یہاں سعودی عرب میں مقیم تارکین کی زندگیوں میں بھی آج کل تغیرات بڑے تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام غیر سرکاری محکموں کے غیر ملکی ملازمین پر سالانہ فیملی ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ جس کے بعد تیس، چالیس برس سے جمے جمائے پاکستانیوں کو بھی انشا جی صبح و شام یاد آنے لگے ہیں جو کوچ کا اذن دے گئے تھے ۔

اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جنہوں نے عرصہ دراز تک ہم تارکین وطن کی بہترین میزبانی کی۔ یہاں سکون و اطمینان، دینی روایات، صاف ستھرا ماحول، بغیر ٹیکس کے ریالوں میں تنخواہ، مناسب پاکستانی اسکولز، دیسی گُرو سری اسٹورز، شان اور نیشنل کے تمام مصالحہ جات، غرض یہ کہ کون سی نعمت تھی جو موجود نہ تھی؟ سو ہم نے بھی دونوں ہاتھوں یہ نعمتیں لوٹیں۔

اب تو صاحب خیر سے ایک کلک پر تمام ہی پی ٹی وی کلاسک ڈرامے مل جاتے ہیں مگر کچھ برس قبل تک یہ وی سی آر کیسٹس اور پھر سی ڈیز کی صورت میں ہر گھر کی درازوں کی زینت ہوتے تھے۔ آپ کہیں گے کہ یہ معمولی باتیں ہیں، مگر میں کہتی ہوں کہ یہ ایک مخصوص ذوق کے ساتھ ساتھ ہمارے رگ و پر میں موجود " پاکستانیت " کی واضح دلیل بھی ہیں۔ سچ کہوں تو اچھے وقتوں میں وطن کی اتنی زیادہ یاد بھی نہیں آتی۔ بس سال دو سال بعد ایک چکر لگ جائے تو اللہ اللہ خیر صلا۔۔ ۔۔۔، مگر کیا کہیے کہ مشکل کا پہلا کوڑا پڑتے ہی وطن کی یاد بڑی زور سے ستاتی ہے۔

ہمارے بھائی نے جو بحرین میں مقیم ہیں، بتایا کہ گزشتہ دنوں وہاں اچانک ہی ہنگامے پھوٹ پڑے تھے تب پاکستانیوں نے ایمبیسی بلڈنگ میں ہی پناہ لی تھی۔ ہماری تایا زاد جو عرصے سے لیبیا میں ہنسی خوشی رہ بس رہی تھیں، جنگ کے دوران شدید مشکلات کا شکار ہو گئیں۔ خیریت کا فون کیا تو ہم نے مشورہ دیا کہ جیسے ہی راستہ کھلے نکل جاؤ۔ کہنے لگیں " اور کیا کریں گے؟ ظاہر ہے اپنے ملک کے علاوہ پناہ بھی کہاں ملے گی ؟"

لوگوں کے یہ ان گنت تجربات سامنے آتے ہیں تو میرے ذہن کے کسی گوشے سے 17 برس پرانا وہ جملہ پھر برآمد ہو جاتا ہے کہ " اپنا ملک تو پھر اپنا ہی ہوتا ہے ۔"

پھر رزق کا معاملہ تو یہ ہے کہ جہاں سے اٹھ جائے وہاں سے آپ کو بھی اٹھنے کا اذن ملتے دیر نہیں لگتی۔ کل اچانک ہی مارکیٹ میں " شکایت خانم " ہمیں پھر ٹکرا گئیں۔ رسمی دعا سلام کے بعد ہم نے پوچھا " خیریت کیا اس بار چھٹی پاکستان گزاریے گا ؟"

بولیں " کیسی چھٹی ؟ اب تو خروج پر جا رہے ہیں" ہم کو شاک سا لگا " اوہ تو آپ کا بھی ایگزٹ لگ گیا؟"

کہنے لگیں " تو اور کیا کرتے؟ فیملی میں چھ افراد ہیں۔ پہلے سال ان کا سات ہزار دو سو ریال ادا کریں اور اگلے سال چودہ ہزار چار سو؟ پھر ایگزٹ ری-انٹری فیس الگ، گھر کا کرایہ، اسکولوں کی فیس، پاکستان والے بیٹے کی یونیورسٹی فیس۔ یہ سب کہاں سے لائیں گے ؟"

" جی درست کہا " ہم نے تائید میں گردن ہلائی اور منہ بھی بسورا۔

جاتے جاتے گویا ہوئیں " اور پھر۔۔ ۔ آپ تو جانتی ہی ہیں کہ اپنا ملک تو پھر اپنا ہی ہوتا ہے "

جی کیوں نہیں؟ ہم حسب عادت منڈی ہلاتے ہوئے سوچنے لگے کہ آج سے انہیں شکایت خانم کے بجائے سچا محب وطن کہیں گے کیونکہ تارک وطن کا لیبل تو اب جلد ہی ان پر سے ہٹنے والا ہے۔