وطن سے محبت کا اسلامی نظریہ - محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، جہاں رہتا ہے اس سرزمین سے محبت ایک فطری عمل ہے۔ ہمیشہ سے انسان نے اپنے علاقے پر فخر بھی کیا اور اپنے وطن کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی بھی لگا دی۔ ہمارے ہاں اس ضمن میں دو نظریات پائے جاتے ہیں؛ ایک یہ کہ اپنی سرزمین، اپنا وطن ماں کے جیسا ہوتا ہے جس سے انسان کو بے پناہ محبت ہوتی ہے اور دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شاید وطن کی محبت اسلام کے خلاف ہے۔ دوسرے نظریے پر بات کرنے کی بجائے پہلے نظریے پر اسلام کی تعلیمات پیش ہیں۔

صحیح بخاری شریف کا مضمون ہے کہ؛ ”ان النبی ﷺ کان اذا قدم من سفر، فنظر الی جدرات المدینۃ، اوضع راحلتہ، و ان کان علی دابۃ، حرکھا من حبھا“۔ پیارے آقا کریم ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھ کر اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کر دیتے اور اگر کسی اور جانور پر سوار ہوتے تو مدینہ کی محبت میں اسے ایڑ مار کر تیز بھگاتے۔

امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں لکھا ہے کہ ”و فی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ، و علی مشروعیۃ حب الوطن و الحنین الیہ“۔ یہ حدیث مبارکہ مدینہ منورہ کی فضیلت اور وطن سے محبت پر مشروع اور جائز ہونے پر اور اس کی طرف لگاؤ رکھنے پر دلالت کرتی ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، باب من اسرع ناقتہ اذا بلغ المدینۃ، حدیث نمبر: 1802)

اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ؛ لو لا حب الوطن لخرب بلد السوء فبحب الاوطان عمرت البلدان۔ اگر وطن کی محبت نہ ہوتی تو پسماندہ ممالک ختم ہو جاتے (کہ ان ممالک کے لوگ ترقی یافتہ ممالک کی طرف چلے جاتے) پس وطن کی محبت ہی وطنوں کو ترقی دیتی ہے۔ (تفسیر حقی، روح البیان، سورۃ القصص، آیت نمبر: 85)۔ امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ؛ حب الوطن من طیب المولد۔ وطن سے محبت رکھنا اچھی فطرت کی نشانی ہے۔

اس ضمن میں ایک روایت جسے حدیث کہہ کر بیان کیا جاتا ہے کہ حب الوطن من الایمان۔ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اس روایت کو آئمہ حدیث نے موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔ یعنی اس روایت کے الفاظ کسی سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں ہیں لیکن جہاں آئمہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا، وہیں آئمہ نے اس روایت کے مفہوم کو صحیح کہا اور واضح کہا کہ یہ اسلاف ِ امت میں سے بعض کا قول ہے۔ آئمہ لکھتے ہیں کہ؛ حب الوطن من الایمان موضوع لکنہ مشروع۔یعنی وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے (روایت کے یہ الفاظ سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے تو مروی نہیں ہیں) لیکن یہ مشروع (یعنی شریعت کی روشنی میں جائز) ہے۔

اس ضمن میں علماء نے محبت ِوطن کی چند صورتیں بیان کی ہیں، جن میں سے یہ اہم ہیں و ان قصد بہ العمل علی تحریرہ من ایدی معتصبیہ ان کا ن محتلا من الکفار فھو واجب اگر (وطن کی محبت کا) مقصد یہ ہو کہ کفار اور دشمنوں کے ہاتھ سے آزادی حاصل کرے جہاں انہوں نے قبضہ کر رکھا ہو تو یہ واجب ہے۔ یعنی وطن سے محبت اس مقصد سے کرنا کہ اسے کفار سے آزاد کروایا جا سکے یا آزاد وطن کی حفاظت اس مقصد سے کرنا کہ وہاں مسلمان آزاد رہیں، یہ محبت رکھنا واجب ہے۔ و ان قصد بہ بر ابناء وطنہ باعتبارھم جیرانہ واقاربہ فھو مشروع اور اگر وہ وطن سے محبت اس لیے ہے کہ اس میں اس کے عزیز و اقارب، ہمسائے رہتے ہیں تو یہ محبت جائز ہے۔ اور تیسری اہم صورت یہ بیان کی کہ اگر کوئی شخص وطن سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ وہاں اپنی مرضی سے کوئی گناہ کر سکے، وہاں کے لوگوں پر اپنا تسلط قائم کر سکے، تو ایسی محبت گناہ ہے اور شریعت میں حرام ہے۔

یہ تو ثابت ہوا کہ اسلام میں اپنے وطن سے محبت رکھنا جائز ہے اور یہ محبت فطری ہوتی ہے۔ اور اگر وطن یا کوئی بھی اسلامی سلطنت ان حالات میں ہو کہ وہاں دشمن کا قبضہ ہو، وہاں مسلمانوں پر ظلم ہو، وہاں دشمن قدم جما رہا ہو، دشمن کی سازشیں ہوں تو ان حالات میں وطن سے محبت رکھنا واجب ہے اور نہ رکھنے والا گناہ گار ہے۔ آج کل عالم ِ اسلام کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں، فلسطین، کشمیر، برما، شام، یمن، افغانستان کا رونا کیا روئیں، وطن ِ عزیز پاکستان ایٹمی طاقت ہو کر بھی پچھلے دو عشروں سے دہشت گردی کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ دشمن کسی صورت ہمیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ پاکستان کے خلاف سازشوں کا ایک لامحدود سلسلہ جاری ہے۔ ان حالات میں اپنے وطن سے محبت رکھنا اور مسلمان ممالک سے محبت رکھنا کہ انہیں دشمن سے آزاد کروا کر ریاست مدینہ قائم کی جائے، یہ واجب ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم پہلے پاکستان کو دشمن کے چنگل اور سازشوں سے پاک کریں اور اپنے وطن کی محبت میں اس کو امن کا گہوارہ بنانے میں جان کی بازی لگا دیں۔ یہاں ضمناً یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ووٹ کاسٹ کر کے کسی کے حوالے اپنا ملک کرنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائیں۔ آج وطن عزیز کے ساتھ یہ عہد کریں کہ آئندہ کسی کو صرف علاقہ، زبان، برادری دیکھ کر ملک کی بھاگ دوڑ نہیں دیں گے۔ آپ تنہائی میں بیٹھ کر سامنے قرآن کریم رکھ کر اپنے ضمیر سے سوال کر لیں کہ آپ کے اہم ترین ووٹ کا حقدار کون ہے؟ پھر آپ کا ضمیر جو فیصلہ کرے اسے ووٹ دیں۔ اپنے وطن کی محبت کو کسی خاص مذہبی، سیاسی، سماجی پارٹی کے ساتھ مت جوڑیں۔ ہم سب سے پہلے مسلمان اور پھر پاکستانی ہیں باقی مذہبی و سیاسی پارٹیاں بعد کی بات ہیں۔ آج تجدید ِ عہد کریں کہ آئندہ قدم اٹھاتے وقت سب سے پہلے پاکستان کو مدِنظر رکھیں گے۔ جس دن ہم قوم بن کر پارٹیوں، برادریوں، اپنے فائدوں سے آزاد ہو کر پاکستانی بن گئے اور پاکستان کا فائدہ سامنے رکھ لیا، یقین کریں ہم دنیا کی بہترین قوم بن جائیں گے اور پاکستان کو بہترین ملک بنا دیں گے۔ آئیں مل کر عہد کریں کہ آج سے ہر سیاسی و مذہبی پارٹی کی حمایت بعد میں پہلے پاکستان کی حمایت کریں گے۔

اللہ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ کریم عالم اسلام کی، مسلمانوں کی، وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے، پاکستان کی افواج کی حفاظت فرمائے، پاکستان کے عشق میں سرشار گمنام سپاہیوں کی حفاظت فرمائے، پاکستان کی حفاظت پر معمور تمام اداروں کی حفاظت فرمائے، اللہ کریم ہم سب کو سب سے پہلے پاکستانی بن کر ایک قوم بنائے اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے، پاکستان کو ترقی، خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین!