سوال بڑھتے جا رہے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

میاں صاحب کا جی ٹی روڈ مارچ اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور کے اس سفر میں انہوں نے کیا کھویا، کیا پایا؟ اس کا حساب کتاب ہر کوئی کر رہا ہے۔ میاں صاحب خود بھی اس پر نظر رکھے ہوں گے، ان کے حامی اور مخالف دونوں کی اپنی اپنی کیلکولیشن ہے۔ میاں صاحب کے حامی ان ریلیوں اور جلسوں میں لاکھوں لوگوں کی شمولیت کے دعوے کر یں گے، جبکہ دوسروں کے نزدیک چند ہزار لوگ بمشکل جمع ہو پائے۔ خیر یہ تو سیاست میں چلتا رہتا ہے۔ عمران خان کے بہت سے جلسے غیر معمولی تھے، جن میں عوام کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی، مگر ن لیگ کے پرویز رشید جیسے رہنما بڑی ”دلیری“ سے بیان دیتے کہ صرف چند ہزار کرسیاں تھیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر مختلف اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ اسلام آباد میں میاں صاحب کی ریلی سخت مایوس کن تھی، پنڈی میں رات گئے صورتحال بہتر ہوگئی، مگر پنڈی میں مس مینجمنٹ کی انتہا ہوگئی تھی۔ اخبارنویس حیران تھے کہ مسلم لیگ ن جیسی تجربہ کار جماعت کو کیا ہوگیا؟ پنڈی سے نکلنے کے بعد جس تیز رفتاری سے سفر کیا گیا، اس پر خاصا مذاق بنا۔ اس کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ اگر دہشت گردی کا خطرہ تھا تو کیا وہ دہشت گرد کچھ فاصلہ طے کر کے جہلم نہیں آ سکتے تھے، جہاں میاں صاحب نے خطاب بھی کیا؟ جہلم میں البتہ اجتماع ٹھیک رہا۔گوجرانوالہ میں البتہ مسلم لیگ ن نے بھرپور شو آف پاور کیا اور ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب رہے۔ گوجرانوالہ ویسے بھی ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں کی تنظیم نے اچھا کام کیا اور بڑی تعداد جمع کر لی۔ لاہور بھی ن لیگ کا مضبوط مستقر سمجھا جاتا ہے، یہاں لوگ اکٹھا کرنے کے لیے کئی دنوں سے پلاننگ ہوتی رہی۔ صوبائی حکومت کی بھرپور سپورٹ بھی شامل تھی۔

میرے نزدیک یہ سوال اہم ہے ہی نہیں کہ میاں صاحب کا سفر کیسا رہا، انہوں نے لوگ جمع کیے یا نہیں؟ سیدھی سی بات ہے کہ مسلم لیگ ن ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، اس نے الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ یہ جماعت اس وقت مرکز اور پنجاب میں حکمران ہے۔پچھلے سال بلدیاتی انتخابات ہوئے، جس میں ن لیگ نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی، پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں ان کے میئر، چیئرمین ضلع کونسل منتخب ہوئے تھے۔ اتنی بڑی جماعت جس کے پاس پورا تنظیمی نیٹ ورک موجود ہے، جی ٹی روڈ کے حلقوں میں ارکان قومی، صوبائی اسمبلی ان کے ہیں، بلدیاتی عہدیداروں کا اپنا خاص اثرونفوذ ہوتا ہے، انتظامیہ کی مدد کے ساتھ مزید آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ ان سب کے ساتھ بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف کو بھی ایک خاص سیاسی عصبیت حاصل ہے۔ ان کا اپنا ایک حلقہ ہے، جسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں عدالت نے نااہل قرار دے دیا یا ان پر کرپشن کے الزامات ثابت ہوگئے یا کچھ اور ہوگیا ہے۔ اس حد تک میاں نواز شریف کو پسند کرنے والے لوگ موجود ہیں، کم ہوں یا زیادہ ،اس پر بات ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ تو کوئی سوال تھا ہی نہیں کہ میاں نواز شریف اسلام آباد سے لاہور جی ٹی روڈ پر سفر کریں اور ان کی جماعت اپنی تمام توانائیاں صرف کر کے لوگ اکٹھے نہیں کر سکے گی؟ میرا نہیں خیال کہ کسی سنجیدہ تجزیہ نگار نے یہ پیش گوئی کی تھی۔ یہ سوال البتہ ہر جگہ پوچھا جا رہا تھا کہ نواز شریف صاحب اپنے اس مارچ سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

اگر میاں صاحب کا خیال تھا کہ ان کے حق میں عوام کاسیلاب امڈ آئے گا تو بہرحال ایسا نہیں ہوا۔ میاں صاحب کے حامیوں سے معذرت، مگر سچ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب تاریخی اجتماع منعقد نہیں کر سکے۔ جدید تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ باہر نکلے اور ایسے والہانہ انداز میں نکلے کہ انہوں نے تاریخ ہی بدل ڈالی۔ ایران میں ڈاکٹرمصدق نے جب شاہ ایران کے خلاف احتجاجاً استعفی دیا اور ایرانی عوام سے براہ راست اپیل کی تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے، متکبر شاہ کو صرف پانچ دن بعد مصدق کو دوبارہ زیادہ وسیع اختیارات کے ساتھ وزیراعظم بنانا پڑا۔ ایران ہی میں امام خمینی نے عوام کے جس سیلاب کومتحرک کیا ،وہ کون بھول سکتا ہے؟ روس میں بورس یلسن کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی، مگر روسی عوام اس قدر بڑی تعداد میں سڑکوں پر آگئے کہ صرف تین دنوں میں یلسن کوواپس لانا پڑا۔ ترکی میں ابھی سال پہلے طیب اردوان کے خلاف جو فوجی بغاوت ہوئی، اسے ترک عوام نے جس طرح ناکام بنایا، وہ ہم سب نے ٹی وی سکرین پر دیکھا۔ طیب اردوان تو شہر میں موجود ہی نہیں تھے، عوام سے انہوں نے اپیل دیر سے کی، مگر ترک شہری پہلے ہی جمہوریت اوراپنے لیڈر کو بچانے کےلیے گھر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ یہ تاریخی اجتماعات ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے ٹھوس اخلاقی وجہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کوئی ایسا مقصد ہو، جس کے لیے باہرنکلا جائے، جان دی جائے۔

جہاں بڑا مورل کاز نہیں ہوتا، صرف اپنی نااہلی کی خفت مٹانا اور شکست خوردگی کے تاثر سے بچنا مقصود ہو، وہاں تاریخ کیسے بن سکتی ہے؟ وہاں ایم این ایز، ایم پی ایز، ناظمین کی مدد سے بسوں، ویگنوں میں عوام تو بھر کر لائے جا سکتے ہیں، ایسا سیلاب نہیں آ سکتا جو مخالفین کو مبہوت کر دے۔ میاں صاحب ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ محترمہ بےنظیر بھٹو نے دو بار ایسا کر دکھایا تھا۔ پہلی بار اپریل چھیاسی میں جب لاہور میں ان کا تاریخی استقبال ہوا۔ لاہوریے آج بھی مانتے ہیں کہ ویسا پرجوش، جذباتی اور بڑا اجتماع کم ہی دیکھنے میں ملا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب جلاوطنی کے بعد واپس آئیں تو کراچی میں ان کے استقبال نے بھی بہت سوں کو حیران کر دیا۔ تجزیہ نگاروں کا اندازہ تھا کہ پارٹی اب کمزور ہوگئی، مگر اس ریلی نے سب اندازے غلط ثابت کر دیے۔ میاں صاحب ویسا کرشمہ دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

ایک بڑی وجہ تو مختلف سوالات بھی ہیں۔ میاں صاحب سے ہمدردی رکھنے والے کئی لوگ بھی ان سے متفق نہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، ابھی دو چار دن پہلے پچاس کے قریب وزیروں پر مشتمل کابینہ بنی ہے۔ اس لیے جب میاں صاحب لوگوں کو مشتعل کر نے کی کوشش کرتے ہیں تو عوام کوسمجھ نہیں آتی کہ آخر کس بات پر غصہ کریں اور کہاں نکالیں؟ اپوزیشن کے پاس آسانی ہوتی ہے، وہ تمام خرابیوں کی جڑ حکومت کو قرار دے کر سب بھڑا س ان کے خلاف نکال دیتی ہے۔ میاں صاحب ایسا بھی نہیں کر سکتے۔ سامنے ان کی اپنی حکومت ہے۔وہ کھل کر بات بھی نہیں کر رہے۔ ججوں کا نام لے رہے ہیں تو لوگ جانتے ہیں کہ ججوں نے تو فیصلہ کرنا ہی ہوتا ہے، کبھی حق میں آ گیا تو کبھی مخالفت میں۔ فوج کے خلاف واضح بیان دینے کی میاں صاحب ابھی تک جرات نہیں کر پا رہے، اس لیے ان کی تمام تقریریں ایک جیسی ہیں، تشنہ، بےربط اور بےرس۔ وہ جوشیلے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، مگر دلیل موجود نہیں، ان کی بات میں وزن پیدا نہیں ہو رہا۔ میاں صاحب کی حالیہ تقریریں ن لیگی خاص ورکروں یا حامیوں کے لیے تو قابل قبول ہوسکتی ہیں، مگر مجموعی طور پر اس کا گہرااثر نہیں ہو رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ مؤقف رکھنے والوں نے بھی میاں صاحب کے مؤقف کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی بھد اڑائی۔

آخر میں سوشل میڈیا سے ایک دلچسپ تحریر۔ اس کے مصنف پروفیسر سجاد حیدر ریاضی پڑھاتے ہیں اور منطقی سوال اٹھاتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
”جب عمران خان کنٹینر لے کر اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑا تھا اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ داغا تو ہم نے عرض کیا تھا کہ اگر چند ہزار لوگوں کو دارالحکومت میں اکٹھا کر کے منتخب وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ منظور ہو گیا تو کل کلاں مولانا فضل الرحمن مدارس کے طلبہ کو لے کر آ گئے یا ایم کیو ایم کئی لاکھ لوگوں کو لے کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے اور مطالبہ ہو حکومت کی برطرفی تو کس بنیاد پر ان کو روکا جا سکے گا؟ لہذا مطالبہ بھی غلط، طریقہ کار بھی غلط، اگر حکومت الٹانی ہے توجائیے اسمبلی میں نمبر پورے کریں اور عدم اعتماد لے آئیں۔
” بعینہ یہی معاملہ آج درپیش ہے۔ میاں صاحب آپ کو ایک مکمل قانونی عمل کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا ہے، آپ جناب کو اپنے قانونی مشیروں کے پورے لشکر کی اعانت حاصل تھی۔ آپ کے سیاسی رفقا نے عدالت کے اندر اور عدالت کے باہر پوری طرح اپنا مقدمہ لڑا ہے۔ اس کے بعد ایک فیصلہ آیا۔ اب شومئی قسمت کہ فیصلہ آپ کے خلاف آیا۔ اس سے پہلے کئی فیصلے آپ کے حق میں بھی آئے۔ اگرچہ اس فیصلہ پر میرے سمیت کئی افراد کے تحفظات ہیں لیکن ان تحفظات کو رکھا پھر بھی عدالت کے سامنے جائے گا۔ اور فیصلہ پھر عدالت نے ہی کرنا ہے۔ یہ جو آپ ریلی اور جلسوں کی شکل میں عوام کو بےوقوف بنا رہے ہیں یہ ایک فضول پریکٹس ہے۔ عدالت نے الطاف حسین کے میڈیا پر بیانات پر پابندی لگائی ہے۔ اب اگر چند لاکھ افراد کراچی کی شاہراہ قائدین پر اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیتے ہیں تو کیا عدالت کو اپنا فیصلہ بدل دینا چاہیے؟ میاں صاحب سٹیٹس مین بنیں۔ بٹ بہادر بننے کا دور گزر گیا۔“

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.