قلم کار اور تنقید نگار - نورین تبسم

پڑھنے سے انسان تنقید نگار تو بن سکتا ہے۔ لکھنے کا طریقہ تو سیکھ سکتا ہے۔ لفظ کی کمائی کر کے اپنی دُنیا اپنی زندگی کامیاب بنا سکتا ہے۔ ایک محدود عمرمیں ستائش اور آسائش کے مزے لوٹ کر، اپنے "ظرف" کے مطابق مطمئن ہو کر، اس جہانِ فانی سے کوچ کر سکتا ہے۔

لیکن! قلمکار بننے کے لیے اپنی ذات کی پہچان بےحد ضروری ہے۔ جب تک اپنے ذہن کے جالے صاف نہ کیے جائیں۔ مایوسیوں، ناکامیوں اور تلخیوں کی گرد ہٹا کر آنکھیں نہ کھولی جائیں۔ اپنے آنسوؤں کو موتی کی طرح پرو کر لفظ میں نہ سمویا جائے۔ ماضی کے بوسیدہ اوراق کو یاد نہ رکھا جائے۔ انہیں اپنی غربت کے لباس کی طرح نہ پہنا جائے۔ لازوال ادب تخلیق نہیں ہوتا۔ وہ ادب جو صدیوں بعد بھی آج کی کہانی لگے اور ہر دور میں پڑھنے والے کو اپنا فسانہ محسوس ہو۔

مروجہ دستور کے مطابق ادیب اُسے کہا جاتا ہے جو ادب کے مقرررہ قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ادب تخلیق کرتا ہے۔ نثر لکھتا ہے تو اصنافِ ادب کے خانوں میں اِس کی جگہ تلاش کرتا ہے۔ شاعری کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو قافیہ ردیف اور اوزان کی بحروں میں سفر کرتا ہے۔ ادیب طے شدہ راستوں پر سفر کرنے والا وہ مسافر ہے جس کی نگاہ منزل سے زیادہ نشانِ منزل کی درستگی پر مرکوز رہتی ہے، اور وہ راستہ بھٹک جانے کے خطرے اور خدشے سے بےنیاز زندگی کی خوشیاں اور غم لفظ میں سمیٹتا چلا جاتا ہے اور بقدرِ استطاعت ان کا اظہار بھی کرتا ہے۔

انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے۔ اپنی طبع کے خلاف اپنے آپ کو کسی بھی حصار میں محدود کر لینا درحقیقت بڑے حوصلے کا کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادیب بننا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں اور ادیب بن کر اپنے آپ کو منوانا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے۔ بہت کم لکھنے والے ناموری کی معراج کو چھو پاتے ہیں اور اُن میں سے بھی بہت کم اپنے آپ میں اس اہلیت کو پہچان کر نہ صرف خود فیض اٹھاتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں۔

لفظ لکھنے کے بعد لکھاری اگرچہ آزاد ہو جاتا ہے لیکن ایک چھوٹے دائرے سے بڑے دائرے کے حصار میں چلا جاتا ہے۔ دل میں اُترنے والے لفظ کسی کسی لکھاری کا نصیب ہیں۔ لفظ ہمیشہ نظر کے لمس اور احساس کی خوشبو سے زندہ رہتا ہے۔ عظیم الشان کتابوں میں لکھے قیمتی لفظ جب تک پڑھے نہ جائیں، سمجھے نہ جائیں، دل میں نہ اتریں، اور سب سے بڑھ کر صاحبِ تحریر کی ذات نہ اُجالیں۔ وہ تابوت میں بند بےجان ممیوں کی طرح رہتے ہیں۔ جنہیں اپنی ذات کے قدیم عجائب گھر میں فخر سے رکھا جاسکتا ہے۔ دنیا کو رشک و حسد کے سجدے تو کرائے جا سکتے ہیں لیکن اکثر اوقات اہلِ ذوق کی ناقدری سے باعث عبرت بھی بن جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ادب کی ضرورت اور اہمیت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

بہت لکھنا یا کسی کی نظر سے اچھا لکھنا اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ جو کچھ بھی لکھا جائے، وہ دل سے لکھا جائے اور کسی کے دل میں بھی اتر جائے۔ اچھے لکھاری اور مقبول لکھاری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اچھا لکھاری ضروری نہیں ہر دلعزیز بھی ہو اور ہر مشہور لکھاری اچھا لکھاری بھی نہیں ہوتا۔ اچھا لکھاری جب نہیں ہوتا پھر اس کے لفظ سمجھ آتے ہیں، اور مقبول لکھاری کے لفظ اس کے ساتھ قبولیت کی سند حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ اچھے اور مقبول لکھاری سے زیادہ کسی لکھاری کے لفظ کے دوام کا تعین وقت کرتا ہے۔ ہم انسان صرف اپنے محدود علم کے دائرے میں دیکھتے ہیں اور فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔

لفظ آنے والے زمانوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ اپنی تمام تر ترقی کے باوجود انسان ابھی تک زمانہ قبل ازمسیح کی بہت سی تحاریر نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی بلند پایہ سائنسدانوں اور محققین کے نظریات کی تہہ تک رسائی ملی ہے۔ کون جانے کہ اس دور میں جب وہ لکھے گئے ان کو سمجھنے والے کتنے تھے۔ ہم تاریخ کو نہیں بدل سکتے پر اپنے حال میں یہ تو کر سکتے ہیں کہ جو چیز سمجھ نہ آئے اس کو یکسر مسترد کرنے سے گریز کریں۔

لکھنے والے کو دنیا کی معلوم تاریخ میں کبھی اُس کے سامنے مکمل طور پر پہچانا نہیں گیا، اور نہ ہی اسے اس کا مقام ملا۔ اہم یہ ہے کہ لکھنے والا خود بھی اپنے لفظ کی اصل تاثیر سے لاعلم ہوتا ہے اور یہی لاعلمی اسے لفظ کے دشت میں چلتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہر لکھنے والے، تحقیق کرنے والے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ وہ وقت! جب اس کو مان لیا جاتا ہے، پہچان لیا جاتا ہے، اپنا لیا جاتا ہے۔ اس کے علم کو اپنے اندر محسوس کر لیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کے لیے مشعلِ راہ بنایا جاتا ہے۔لیکن! یہ وقت بہت کم کسی لکھنے والے، کسی محقق کی زندگی میں آتا ہے۔ کوئی انسان جو مروجہ قواعد و ضوابط سے ہٹ کر لکھے یا سوچے اور یا پھر کوئی نیا نظریہ پیش کرے، اس کے حرف، اس کی سوچ کو کبھی اس کے سامنے تعظیم نہیں ملی۔ تاریخ کا یہ سبق بارہا ہماری نظروں کے سامنے سے گزرا۔ اس کے باوجود کسی تعریف و توصیف سے بےنیاز ہو کر لکھنے والے لکھتے رہے، سوچنے والے سوچتے رہے اور عمل کرنے والے عمل کرتے رہے۔ جس نے اپنی خاک کی قدر صرف جانی ہی نہیں بلکہ اسے چمکدار ذرے کی صورت دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ وہ لازوال ٹھہرا اور دُنیا نے بھی اس کی خاک کی قدر اس کے سامنے کی۔ غالب سے لے کر اقبال تک اور اس صدی میں فیض سے لے کر فراز تک سب وقت کی نبض تھام کر ہی اوج کمال کو پہنچے، جبکہ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے والے خواہ اصلی ہیرے بھی تھے۔ دُنیا کی بےحسی کا نوحہ پڑھتے رُخصت ہوئے۔ اُُن کے بعد بھی ان کے مزار بنا کر اس پر آہوں کے ہار تو ڈالے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی خوشبو بہت کم کسی کی زندگی میں صبح بہار کا پیام دیتی ہے۔ مصطفٰے زیدی، ناصر کاظمی، مجید امجد، ساغر صدیقی سے جون ایلیاء تک ایک طویل فہرست ہے، جن کی زندگی کہانی زمانے کی ناقدری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جو ادب انسان کو اپنی ہی زندگی برتنے کا قرینہ نہ سکھا سکے، وہ زیادہ دور تک روشنی نہیں پھیلا سکتا۔ سب سے زیادہ دکھی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بہت سمجھ دار ہوتے ہیں لیکن ایسی سمجھ کا کیا فائدہ جس سے وہ اپنے لیے خوشی بھی نہ حاصل کر سکیں۔ دُکھ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے آپ کو کتنا سمجھتے ہیں، اہم یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کتنا جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ادب کی ضرورت اور اہمیت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

ادب برائے زندگی اگر اپنے آپ کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے ہو تو اس سے بہتر تحفہ اور کوئی نہیں جو ہم اپنے آپ کو دے سکتے ہیں۔ جو ادب صرف ادب برائے لذت ہے، وہ وقتی تفریح ہے، پھلجھڑی ہے، اور کچھ بھی نہیں۔ جس ادب سے ہم کچھ سیکھ نہ سکیں، وہ اس کھانے کی طرح ہے جس کی پیٹ میں جا کر شیلف لائف چند گھنٹے سے زیادہ نہیں، اور اس کے بعد وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔ یہی بات صرف ادب یا لفظ سے تعلق پر ہی نہیں، بلکہ ہر انسانی تعلق، اس سے بنتے ہر رویے اور ہر احساس پر بھی پورا اترتی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.