سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

فیصلہ بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔
فیصلہ قانونی لحاظ سے بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔
فیصلہ قانونی اصولوں اور نظائر کے عین مطابق ہے۔
تاہم قانونی اصولوں سے ناواقفیت کی بنا پر ، اور کچھ ذاتی صدمے کی وجہ سے ، ہمارے کئی دوستوں کو اس فیصلے کی سمجھ نہیں آرہی اور وہ طرح طرح کے سوالات اٹھارہے ہیں ۔ ہم ان میں سے چند اہم سوالات پر یہاں مختصر بحث کریں گے۔

پہلا سوال : فیصلہ پانچ ججوں نے دیا ہے یا تین نے ؟
اسی سوال کا ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا پہلے دو ججوں نے اپنے فیصلے کو ری وزٹ کیا ہے؟
کل اپنے مضمون "سپریم کورٹ کا متوقع فیصلہ" میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ "تین ججوں کے سامنے "نیا کیس" نہیں تھا بلکہ پہلے والے کیس ہی کا تسلسل تھا ۔ اس لیے پٹیشنر بھی وہی تھے ، مدعا علیہ بھی وہی تھے ، تنقیح طلب قانونی مسائل بھی وہی تھے ، وکیل بھی وہی تھے اور جج بھی وہی تھے۔ یہاں تک کہ "کیس نمبر" بھی وہی تھے ۔ بات صرف اتنی تھی کہ دو ججز نے پہلے ہی مرحلے پر موجود شواہد کی بنا پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا تھا جبکہ تین جج مزید تفتیش کے بعد فیصلہ دینا چاہتے تھے۔"

اب جب تفتیش کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ فیصلہ دے سکتے ہیں تو پہلے ان تین ججوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور جب وہ بھی پہلے دو ججوں کی طرح میاں صاحب کی نااہلی پر متفق ہوگئے تو نااہلی کے بعد قانوناً مزید کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، اس کے متعلق پانچ ججوں نے فیصلہ سنا دیا۔

پس آج دیے گئے فیصلے کے دو اجزا ہیں۔ پہلا جزو ان تین ججوں کا فیصلہ ہے جنھوں نے 20 اپریل کو نااہلی کے متعلق فیصلہ مزید تفتیش پر معلق کردیا تھا؛ دوسرا جزو نااہلی پر اتفاق کے بعد اس کے قانونی اثرات کے متعلق ہے جو پانچوں ججوں کا فیصلہ ہے۔ فیصلے کے ان دو اجزا کو باہم مختلط کرنے سے ہی ہمارے دوستوں کو الجھنیں پیش آرہی ہیں۔

کل ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ پہلے دو جج میاں صاحب کی نااہلی کے متعلق اپنے فیصلے کو ری وزٹ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ انھوں نے پہلے ہی موجود شواہد کی بنیاد پر نااہلی کا فیصلہ دے دیا تھا۔ ہم نے لکھا تھا:
"انھوں نے بطورِ جج نہ ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھی ہے ، نہ ہی اس کے حق میں یا اس کے خلاف دلائل سنے ہیں۔ وہ اس پوری کارروائی میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔ اس لیے وہ اس کارروائی پر فیصلہ دینے کے مجاز ہی نہیں ہیں ۔ پس ان کا پرانا فیصلہ ہی برقرار رہے گا ۔ گویا اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دو جج نااہل قرار دے چکے ہیں اور باقی تین نے فیصلہ کرنا ہے اور ان تینوں میں سے کسی ایک نے بھی نااہلی کا فیصلہ دے دیا تو میاں صاحب نااہل ہوجائیں گے ۔"
بعینہ یہی آج ہوا ۔والحمد للہ !

دوسرا سوال : کیا پانچوں ججوں نے ایک ہی بنیاد (ratio) پر نااہل قرار دیا ہے یا اس فیصلے کے لیے انھوں نے الگ بنیادیں ذکر کی ہیں؟
اس سوال کا ضمنی سوال یہ ہے کہ اگر بنیادیں الگ ہوں تو کیا اس سے فیصلے کے بطور قانونی نظیر (precedent)حیثیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے دو ججوں نے 20 اپریل کو، جبکہ ابھی جے آئی ٹی وجود میں بھی نہیں آئی تھی ، میاں صاحب کو نااہل قرار دیا تھا اور اس نااہلی کی بنیادی وجہ یہ ذکر کی تھی کہ اپنے اثاثہ جات کے متعلق انھوں نے جو وضاحتیں مختلف مواقع پر پیش کیں وہ باہم متناقض ہیں اور ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوچکا ہے۔

باقی تین ججوں نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ ابھی انھیں اس بات پر مکمل اطمینان نہیں ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کرنا چاہتے ہیں ۔ بہ الفاظِ دیگر انھوں نے میاں صاحب کو ایک موقع مزید دیا کہ وہ اپنے اثاثہ جات کے متعلق صحیح وضاحت کرکے تناقضات دور کرلیں اور اپنی سچائی اور امانت ثابت کرلیں ۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے بعد اس کے حق میں اور اس کے خلاف دیے گئے دلائل کا تجزیہ کرنے کے بعد آج ان تین ججوں نے اپنا متفقہ فیصلہ سنا یا کہ میاں صاحب نے دبئی میں نوکری اور اس سے حاصل شدہ اثاثہ جات کو چھپاکر اور ان کے متعلق جھوٹا بیانِ حلفی دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ 2013ء میں ہی صادق اور امین نہیں تھے ، گویا وہ روزِ اول سے ہی (ab initio) نااہل تھے !

یہ بھی پڑھیں:   جے آئی ٹی سے جی ٹی روڈ تک کی سیاست - نعیم احمد

بظاہر یہاں ان تین ججوں کے فیصلے کی بنیاد پہلے دو ججوں کے فیصلے کی بنیاد سے مختلف ہے ، اور اگر ایسا ہو بھی تو اس سےفیصلے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اصولِ قانون کے ماہرین جانتے ہیں کہ بسا اوقات ایک ہی نتیجے تک پہنچنے کے لیے قانونی بنیادیں الگ ہوسکتی ہیں۔ (کیا شافعی اور حنفی اصولوں میں اختلاف کے باوجود لاتعداد مقامات پر نتائج میں شافعی اور حنفی فقہاے کرام کا اتفاق نہیں ہوتا؟) پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں سے بھی اس کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ امریکی اور برطانوی عدالتوں کے لیے بھی یہ انوکھی بات نہیں ہے۔ بین الاقوامی عدالتوں میں بھی ایسا ہوتا ہے ۔ بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ پانچ ججوں میں تین ایک نتیجے پر پہنچے ہوں ، دو دوسرے نتیجے پر اور پانچوں کے فیصلوں کی بنیادیں الگ ہوں۔ (جسے اس موضوع سے دلچسپی ہو وہ مشہور قانونی فلسفی لون فُلر کے بنائے ہوئے فرضی مقدمے "The Case of the Speluncean Explorers"پڑھ لیں جو 1949ء میں ہارورڈ لا ریویو میں شائع ہوا تھا اور اب انٹرنیٹ پر پبلک ڈومین میں مفت دستیاب ہے ۔ یہ کیس میں اکثر اصولِ قانون اور فلسفۂ قانون کے کورسز پڑھاتے ہوئے اپنے طلبہ کو دیتا ہوں۔)

ایسے مواقع پر، جبکہ پانچ ججوں نے پانچ مختلف بنیادوں پر فیصلہ دیا ہو، عملاً ہوتا یہ ہے کہ جس نتیجے پر ججوں کا اتفاق ہو، وہی نتیجہ نافذ ہوتا ہے۔ البتہ بعد کے مقدمات کے لیے نظیر کا معاملہ مشتبہ ہوجاتا ہے کیونکہ ہر جج مختلف بنیاد ذکر کرتا ہے۔ البتہ اگر تین جج ایک بنیاد ذکر کریں اور دو جج دوسری بنیاد تونظیر کے لیے اکثریتی فیصلے کی بنیاد کو دیکھا جاتا ہے۔ مزید تفصیل کے خواہاں میرے استاد گرامی جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی کتاب Precedent in Pakistani Legal System کا مطالعہ کریں جو ان کے پی ایچ ڈی مقالے پر مبنی ہے اور جسے آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔

زیرِ نظر مقدمے میں معاملہ اس سے کہیں زیادہ صاف اور آسان ہے کیونکہ یہاں 20 اپریل کے فیصلے اور 28 جولائی کے فیصلے کی بنیادوں میں صرف ظاہری اختلاف ہے، حقیقی اختلاف نہیں ہے۔ اس اجمال کی توضیح یہ ہے کہ پہلے دو ججوں نے بھی تب نااہل قرار دیا جب وہ اس پر مطمئن ہوئے کہ میاں صاحب نے اپنے اثاثوں کے متعلق جھوٹ بولا ہے اور تین جج آج اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ پس فیصلے کی متفقہ بنیاد "میاں صاحب کا اپنے اثاثوں کے متعلق جھوٹ بولنا" ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو یہ فیصلہ بعد کے مقدمات کے لیے بہترین نظیر کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ratio کے متعلق کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔

اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ معاملہ پاناما کا تھا لیکن نااہلی کے لیے اقامہ بنیاد بنادی گئی ، وہ غلط کہہ رہے ہیں ۔ معاملہ پاناما ہی سے معلوم ہونے والے اثاثہ جات کا ہے جن کے متعلق میاں صاحب نے کئی مواقع پر جھوٹ بولا ہے اور اقامہ (بمع نوکری کے ) اس جھوٹ کی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے ! امید ہے کہ ہمارے سادہ لوح بھائی اب پاناما اور اقامہ کا تعلق جان چکے ہوں گے۔ مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔ البتہ یہ بات ضرور یاد رکھیے کہ پہلے دو ججوں نے تو صرف اتنا کہا کہ میاں صاحب جھوٹے ہیں ؛ تین ججوں نے آج کہہ دیا کہ وہ تو 2013ء میں بھی جھوٹے تھے! (اب سوچیے کہ پہلے دو ججوں کے فیصلے کے بعد نون لیگی مٹھائیاں کیوں بانٹ رہے تھے!)

یہ بھی پڑھیں:   شاہی مزاج، مریم نواز ڈاکٹرائن اور ن لیگ کا مستقبل - محمد عامر خاکوانی

تیسرا سوال : اگر کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو نااہل کیوں کیا گیا؟
یہ سوال سادہ لوحی کی شان دار مثال ہے۔ ہم ایک دفعہ پھر یہاں اپنے کل والے مضمون کا اقتباس پیش کرنا چاہیں گے:
"اس کیس میں بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ کیا پٹیشنرز کا مطالبہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ مدعا علیہان کو ان کے مبینہ جرائم کی سزا دے؟ جس نے بھی کیس کا مطالعہ کیا ہے اور قانونی اصولوں سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ جرائم کی سزا متعلقہ فوج داری عدالتیں ہی دے سکتی ہیں۔ دستور کی دفعہ 184 (3) کے تحت جب سپریم کورٹ میں کیس آتا ہے تو اس میں یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے افتخار محمد چودھری صاحب کے دور میں سپریم کورٹ اس دفعہ کے تحت سوموٹو ایکشن لینے کے بعد کیس متعلقہ محکمے ہی کی طرف بھیج دیتی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ : کھودا پہاڑ ، نکلا چوہا ! البتہ ان سوموٹو کیسز سے یہ کیس اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کیا میاں صاحب قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل ہیں یا نہیں اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کیس میں قرار دیا ہے کہ اس کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور مزید یہ کہ اس بنچ کے دو جج صاحبان پہلے ہی ایسا کرچکے ہیں۔"

اس طویل اقتباس کے لیے معذرت لیکن اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے دوست یا تو واقعی بہت سادہ ہیں یا کچھ زیادہ ہی صدمے کی کیفیت میں ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ یہ حقیقت نظرانداز کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ فوج داری عدالت نہیں ہے جو کرپشن پر سزا دیتی بلکہ وہ دستوری عدالت ہے اور اس نے دستوری اصولوں کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ میاں صاحب پارلیمان کی رکنیت کے اہل ہیں یا نہیں ؟ ہمارے یہ دوست یہ بھی بھول رہے ہیں کہ کرپشن کے کیسز ختم نہیں ہوئے بلکہ ابھی تو اصل کیسز شروع ہورہے ہیں ۔ اس لیے میاں صاحب اور دیگر مدعا علیہان کو فروغ نسیم صاحب کے اس مشورے پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ انھیں فوراً سے پیش تر اپنی ضمانتیں کرانی چاہییں!

ایک دفعہ پھر صاف الفاظ میں سن لیجیے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ نہیں کرنا تھا کہ میاں صاحب کرپٹ ہیں یا نہیں اور نہ ہی انھیں نیب آرڈی نینس کے تحت کرپشن کی سزا سنانی تھی۔ سپریم کورٹ کے سامنے سوال یہ تھا کہ میاں صاحب نااہل ہیں یا نہیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ اپنے اثاثوں کے متعلق جھوٹ بول کر وہ نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ ہاں۔ اس دوران میں ان کے اثاثوں کے متعلق جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ میں جو شواہد جمع کیے گئے اور پھر میاں صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے وکیلوں نے جو تفصیلی وضاحتیں دی ہیں ، انھوں نے نیب کے سامنے کرپشن کیسز کا فیصلہ انتہائی حد تک آسان کردیا ہے ! اسی لیے تو سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ نیب زیادہ سے زیادہ چھے ہفتوں میں ریفرنسز بنائے اور پھر عدالت زیادہ سے زیادہ چھے مہینوں میں ان کیسز کا فیصلہ سنائے۔
گماں مبر کہ بہ پایاں رسید کارِ مغاں
ہزار بادۂ ناخوردہ در رگِ تاک است!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بالکل ٹھیک لکھا ہے آپ نے یہ عوام بیچاری حقیقت کو سمجھتی نہیں اور تبصرے یہ لے اور وہ لے، آپ کی پوسٹ سے کافی شکوک وشبہات دور ہوگئے ہیں اللہ آپ کو مزید ترقی عطافرمائے

  • بہت ہی کمال کا آرٹیکل،معلوماتی ،حقائق ،اور بالکل واضح شکریہ دلیل اور ڈاکٹر صاحب