نیچ ذات! - مہران درگ

چتکبرا دھنی نسل کا سنگھیلا بیل اس کے خاکستری سینگھ، جن کی نوکیں باریک چَھلے کی طرح اوپر گولائی میں ہوکر ایک دوجے کے دیدوں میں دیدے گاڑے ہوئے تھیں، رؤیت ہلال کے پہلے پہلے چندن کی طرح ماتھے پہ گڑا تھا، رام چندر جی کی کھڑاؤں کے ایسے گلابی گل ِگلگشت کی روکھی مالا، جس کا رنگ دھوپ کی حدت سے اڑ اڑ کر بادامی ہو رہا تھا، نوکوں میں الٹ پلٹ دی گئی تھی، ایسے بیل روہی، تھرپارکر، راجھستان کے مقامی تھے. سورج گولائی میں ڈھلک رہا تھا، شام کے مہیب سائے گلی میں دراز ہو رہے تھے.

ہچکولے کھاتا نکڑ سے دھگ دھگ کرتا داخل ہوا تو پیچھے جُتا ریڑھا بھی کچھ ہویدا ہوا، اِیڑی چوٹی تک سامان سے لے کر سامان ہی سامان تھا اور اک کاسنی ترپال سامان کے اوپر رسیاں مار کر کس دی گئی تھی. پہلی نظر میں وہ اک زمانہ تھا جو لد کے آرہا تھا.

سفید چوڑی دار لنگوٹ، نیچے سرخ رنگ کی گرگابی، بغیر آستیں کالر کے اچکن، جو گھٹنے سے اوپر تک آتی تھی، اور سبزی منڈی کے آڑھتیوں ایسا ہلدیہ رنگ، لکیر اور باڈر والا رومال، کندھے پہ زین کی طرح رکھا تھا، ناک پہ یہ بڑا تل، مونچھ چڑیا کا جھونجھ، گھنی بےربط، تیل میں لتھڑا ہوا کاسنی رنگ، نام "صَندلی داس تُنیا" تھا، وہ اس محلے میں نئے وارد ہوئے تھے، نکڑ والے چوک کے مثلث کی گلی کی ٹکر پہ ہی وہ مکان تھا، دو منزلہ کی اوپری منزل کے وہ مکیں ہوئے.

رات اتر آئی تھی. نچلے مکان کے برآمدے میں ہیولا چارپائی پہ کروٹ لیے پڑا تھا. نام" اوم پرکاش نوناری" تھا، اس کی بیوی جو پہلی نظر میں "چوڑے والان کے کٹڑے کی بڑی بی" لگتی تھی.

ہے نارائن! اس نے برآمدے سے جھکائی لے کے اوپر کو جھاتی ماری. جے اپر چَھتی مَنجَل پہ کون جات کے بھاسی آوس سئے؟ (یہ اوپر کی منزل پہ کونسی ذات کے واسی آئے ہیں)
اس نے پشت کے بل سیدھائی لی.! کچھو نیچ جات ہوس سئے کا؟ (کیا کچھ نیچ ذات کے ہیں کیا؟) ہے نارائن؟ بولو جی؟
رام ! جے عورت جات بھی، کیا پیدا کیا تو! جبھو تک دھوتی کا سب سب بل نہ گن لیہو، نہ چین لیوس سئے نہ دیوس سئے،
(رام یہ عورت ذات پیدا کیا تو! جب تک دھوتی کے سارے بل نہ گن لے چین لینے دیتی نہ دینے دیتی ہے)
"اب جات کا برہمنڑ تو ادھر رہنڑے سے گیو"
ابھو تڑکے تڑکے تو "راول لال" ہمکن کہوس سئے ، کچھو ملیچھ جات کا گوتھ کن اپر منجل پگھار پہ دیوس سئے ،
(اب ذات کا برھمن تو ادھر رہنے سے رہا، ابھی صبح صبح راول لال کہہ رہا تھا کچھ نیچ ذات باسیوں کو اوپر کی منزل اجرت پہ دے رہا ہوں)
بولی!
موری (نالی) کی اینٹ چوبارے چڑھی..
"اوپر" والی منجل پہ پہنچ کر بھی رہے تو"نیچ " کے نیچ، تھو!
تم اچھو داس کو بولو ہم کن اپر والا منجل دیوے.
صندلی داس ہاتھ جوڑتا رہ گیا مگر مکان منزل سے فارغ کر دیا گیا، اور اوم پرکاش اور اس کی بیوی اوپر کے مقام ِمحمود پہ جا بیٹھے.

کچھ ہی دن بیتے،
نچلی منزل پہ اک اور جوڑا آ بسا،
اس کی بیوی نے برآمدے سے اوپر کو لے کر جاتھی ماری، ہے نارائن، جے اپر منجل بھلا کون جات رہوس سئے؟
کچھو نیچ جات ہی ہواں
اب بھلا برہمنڑ تو رہنڑے سے گیو! ابھو راول داس کہہ رہا تھا ملیچھ جات کے واسیوں کو پگھار پہ دیا ہوں. اس نے بڑبڑا کے کروٹ لی...
عورت بولی
ہخخ. "اپر منجل" پہ جا کے بھی تو رہت "نیچ کے نیچ نا! تھو!.''
تم اچھو داس کو بولو..

Comments

مہران درگ

مہران درگ

بنیاد مکران کیچ پُنل سے، مقیم شہر، گور گرد گرما و گدا ملتان، تعلیم زرعی گریجویٹ، شاعر اور شاعری، درویش اور درویشی دونوں پسند، جدید نظم، جدید و قدیم نثر، فکشن، افسانوی ادب، تصوف، رد الحاد، دلچسپی کے موضوع تھے، ہیں اور رہیں گے. ابھی بھی سمجھتا ہوں کوکھ مادر میں ہوں کہ بہت سی گرہیں ابھی باقی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.