لالچ - ریاض علی

وہ شکل و صورت سے لباس و انداز سے بہت معزز لگتا تھا۔ جب میں اسے ملا تھا تب وہ دنیا سے چھپتا پھر رہا تھا۔ اُس کے ریکارڈ پر بےشمار فراڈ کیس تھے۔ جس شہر میں رہا وہاں اپنی داستان چھوڑ آیا تھا۔

میں نے اُس سے پوچھا بھائی! یہ کیسے کرلیتے ہو؟ کیسے لوگ تم پر اعتبار کر لیتے ہیں؟ اُس نے کہا، "لوگ مجھ پر نہیں اپنے لالچ پر اعتماد کرتے ہیں، دھوکا میں نہیں دیتا، دھوکا ان کو اپنا لالچ دیتا ہے۔" تب اُس نے ایک واقعہ سنایا۔

کہنے لگا ہر جگہ فراڈ کیا تھا، بس اپنے آبائی علاقے میں کوئی چکر نہیں چلایا تھا۔ علاقہ ایس ایچ او نے بھی مجھ سے یہی سوال کیا تھا کہ لوگ تم پر اعتماد کیسے کرلیتے ہیں؟ تو کہا کہ صاحب، اس کا جواب مجھ پر قرض رہا، ضرور دوں گا لیکن ابھی نہیں۔

چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک صبح ایک کرولا گاڑی جس کی اُس وقت مارکیٹ ویلیو سات لاکھ تھی، لے کر تھانے گیا اور ایس ایچ او سے مل کر اسے کہا صاحب پنجاب کی ایک پارٹی کی گاڑی ہے۔ ان کو ارجنٹ نقد پیسہ درکار ہے۔ میرے پاس دو لاکھ ہیں۔ اگر دو لاکھ آپ دیں تو چار لاکھ میں سودا کر کے گاڑی بیچ دوں گا، منافع آدھا آدھا۔ ایس ایچ او نے گاڑی کا معائنہ کیا اور فوری حساب لگایا کہ اس میں تو ڈھائی تین لاکھ کا فوری نفع ہے۔ سپاہی ساتھ کیا بینک سے دو لاکھ دلوائے۔ شام کو ملنے کا پروگرام بنا۔

شام ہوئی ایس ایچ او صاحب بے تاب ہوئے کہ بندہ آیا نہیں۔ موبائل میں سپاہی لیے گھر آیا۔ انہوں نے کہا کہ صبح کا نکلا ہے واپس نہیں آیا۔ واپس آتے ایک بارگین سنٹر پر وہ گاڑی کھڑی دیکھی۔ ایجنٹ سے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ گاڑی تو صبح فلاں لے کر گیا تھا کہ ایک پارٹی کو دکھانی ہے۔ واپس لا کربتایا کہ بات نہیں بنی۔

اب ایس ایچ او سمجھ گیا کہ دھوکا ہوگیا۔ رات واپس گھر جب آیا تو میں دروازے پرکھڑا تھا۔ جب وہ گالیاں دے کر فارغ ہوا تو اسے پیسے واپس دیے کہ صاحب آپ سے دھوکا نہیں کرنا تھا، بس جواب دینا تھا۔ آپ نے مجھے دو لاکھ روپے پکڑاتے نہ میرا ماضی یاد رکھا، نہ یہ سوچا کہ پنجاب کی کون سی پارٹی اتنی بے وقوف ہوگی کہ سارے شہر میں مجھے ہی تین لاکھ کم قیمت پر ارجنٹ گاڑی دے گی۔ نہ یہ سوچا کہ ہر دوسری سڑک پر ایک کار بارگین ہے۔ کسی کو بھی وہ تیس چالیس ہزار کم قیمت پر چند منٹ کے نوٹس پر بیچ سکتا ہے۔ آپ نے صرف اپنا آسان نفع سوچا، وہ ڈیڑھ لاکھ کا نفع جو چند گھنٹوں میں ہو رہا تھا۔ اس نے آپ کی عقل پر پردہ ڈالا میں نے نہیں۔

ہمارے معاشرے میں ہر سال ایک ڈبل شاہ نکلتا ہے، کبھی یہ کارپویٹ جال پھیلاتا ہے، کبھی یہ مذہب کی آڑ لے کر مضاربہ بن جاتا ہے۔ ہم زندگی بھر کی جمع پونجی دیتے بالکل نہیں دیکھتے کہ یہ جو منافع دے رہا ہے، یہ ہمارے بینک بھی نہیں دے سکتے۔ آخر یہ کیسے ممکن بنا لیتے ہیں؟ سچ ہے ہمیں اپنا لالچ دھوکا دیتا ہے۔

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.