نواز شریف، ایک ناکام سیاست دان - احمد اعجاز

سپریم کورٹ کا تین رُکنی بینچ جب پانامہ پر عنقریب اپنا فیصلہ دے گا،اس بارے حتمی طو رپر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وزیرِ اعظم نااہل قرار پائیں گے یا نہیں۔لیکن یہ اَمر حتمی ہو چکا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف بطو ر ایک سیاست دان خود کوناکام ثابت کر چکے ہیں۔

پانامہ کیس اور قبل ازیں دوہزار چودہ میں پی ٹی آئی او ر پی اے ٹی کے مشترکہ دھرناکے دوران میاں نواز شریف اور اُن کی پارٹی کے کئی سینئرزممبران متعددبار مخالفین پر نوے کی دہائی کی سیاست کا الزام لگاتے رہے ہیں۔لیکن اب جب وزیرِاعظم پر سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ خود کو بند گلی میں لا کربے بس محسوس کررہیہیں ،تو اس کے پیچھے اُن کا وہ طرزِ سیاست ہے ،جونوے کی دہائی کا تھا۔یعنی اپنے مخالفین پر نوے کی دہائی کی سیاست کے الزام سے زیادہ ،اُن پر خود یہ الزام دُرست بیٹھتا ہے۔میاں نواز شریف حالیہ عرصہ میں دو بار نوے کی دہائی کی طرزِ سیاست کا ثبوت دے چکے ہیں ۔ایک عرصہ وہ تھا ،جب خو دکالا کوٹ اُوڑھ کر میمو گیٹ کی سیاست پر عدالت جا پہنچے تھے۔دوسرا عرصہ پانامہ اسکینڈل کے بعد کا ہے۔

پانامہ اسکینڈل کے نتیجے میں آج جب میاں نواز شریف اپنی سیاست کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں ،تویہ مخالفین کی عمدہ سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے سے زیادہ ،اُن کی اپنی ناکام سیاسی حکمتِ عملی ہے۔پانامہ فیصلے کا نتیجہ جو بھی نکلے ،میاں نواز شریف نے خود کو ایک ناکام سیاست دان کے طور پر قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے۔اب اگر آئندہ انتخابات میں لوگ اُنہیں اور اُن کی پارٹی کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ ایک قومی المیہ سمجھا جائے گا۔

میاں نوازشریف نے اپنی تقریر اور اپنے عمل ہر دولحاظ سے خود پر سوالات کھڑے کرائے ہیں ۔اُنہوں نے سابق امریکی صدر اُوبامہ سے ملاقات کے دوران جیب سے لکھی ہوئی پرچیاں نکالیں اور گذشتہ دِنوں جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران بھی لکھی ہوئی پرچیوں سے گفتگو میں مدد لی۔پرچیوں کی مددسے تقریر یا گفتگو کرنا کوئی معیوب اَمر نہیں لیکن یہ کوئی معمولی واقعہ بھی نہیں ۔اس طرح کا اندازِ گفتگو اُس اعتماد کو مجروح کرتا ہے ،جس اعتماد کا مظاہرہ اُس وقت ضروری ہوتا ہے۔علاوہ ازیں اُن کی پارلیمنٹ میں تقاریر بھی ریکارڈ پر ہیں ۔دھرنا کے دِنوں میں جب میاں نواز شریف نے اُس وقت کے آرمی چیف سے مصالحت کار ہونے کا کہا اور آرمی چیف نے عمران خان اور طاہرالقادر ی کے ساتھ ملاقاتیں کیں تو اگلے روز جب پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے للکار نما تقریر کی تو وہاں پر موجود وزیرِ اعظم نواز شریف اس بات سے ہی مکر گئے کہ اُنہوں نے فوج سے کسی طرح کی مددچاہی تھی۔نیز پانامہ اسیکنڈل کے بعد کی تقاریر اور عدالت میں اختیار کیا گیا مؤقف بھی تضاد کا حامل رہا۔

میاں نواز شریف نے اپنے عمل سے کس طرح خود پر سوالات کھڑے کرائے؟یہ پہلو دوحوالے رکھتا ہے۔اس ضمن میں بھی وہ نوے کی دہائی کی سیاسی سوچ سے باہر نہیں نکل سکے۔اُنہوں نے اس بار جیسے ہی وزیرِ اعظم ہاؤس میں قدم رکھا ،اُس احساسِ تفاخر کی چادر کو لپیٹ لیا ،جو وہ نوے کی دہائی کے عرصہ میں دو بار لپیٹ چکے تھے۔وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ کسی بھی ملک کو فردِ واحد کی سوچ اور اُس کا اندازِ عمل نہیں چلا سکتا۔چونکہ وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے،تو ایک بادشاہ کے رُوپ میں دکھائی دیے(بادشاہ کے طعنے بھی گونجتے رہے)اور ملکی و بین الاقوامی معاملات کو جہاں ذاتی سوچ کی بنیاد پر ڈیل کرنے کی کوشش کی وہاں اداروں سے ٹکراؤ بھی مول لے بیٹھے۔وہ ملک کے وزیرِ خارجہ خود ہیں ۔حالانکہ عالمی سطح پر جس طرح کی سیاسی تبدیلیاں رُونما ہوئیں اور جس طرح کے سفارتی تقاضوں کی ضرورت محسوس کی گئی ،ایک وزیرِ خارجہ کی ازحد ضرورت تھی۔چونکہ اس معاملے کو قابلِ اعتناء نہ جاناگیا یوں سفارتی سطح پر ملک کو کئی نقاصانات سے دوچار ہونا پڑا۔پاکستان کے ہمسائیوں او ر بالخصوص رُوس اور ایران نے حالیہ عرصہ میں جو سفارتی کامیابیاں سمیٹی ہیں ،پاکستان اُن کے بارے محض سوچ سکتا ہے۔

نیز داخلی سطح پر میاں نوا ز شریف نے خود کو کئی بار فوج کے مقابل لا کھڑا کیا۔ وزیرِداخلہ روزانہ کی بنیادوں پر کہتے ہوئے پائے جاتے رہے کہ فوج اور حکومت ایک صفحہ پر ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ وزیرِ داخلہ کو ایسے بیانات دینے کی نوبت کیوں پیش آتی رہی؟ یقینی طور پر وزیرِ اعظم کے اُس طرزِ عمل سے جو نوے کی دہائی کی سیاست کا آئینہ دارتھا۔دھرنے کے دِنوں میں قدرت نے میاں نواز شریف کو یہ موقع عنایت کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط کریں، لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہ موقع گنوا دیا گیا۔ اسی طرح میاں نواز شریف نے اپنے عمل سے تیسری بار وزیرِ اعظم کے طور پر عوام کو کیا دیا؟بجلی کا بحران تو ختم نہ ہوسکا۔سی پیک؟اگر میاں نواز شریف کی جگہ آمرانہ نظام بھی ہوتا تو یہ اقتصادی معاہدہ ہو کرہی رہتا۔یٹروبسیں؟اورنج لائن ٹرین؟ان سے بیس بائیس کروڑ لوگوں میں سے کتنے استفادہ کر رہے ہیں؟ البتہ اس دوران خواتین پرانے ہسپتالوں کے ٹھنڈے فرشوں پر دَم توڑتی ہوئی ضرور پائی گئی ہیں۔

میاں نواز شریف او ر مسلم لیگ ن کے سینئر زرہنما جب اپنے مخالفین کو یہ کہتے ہیں کہ اُنہیں نوے کی سیاست سے باہر نکل آنا چاہیے تو دَرحقیقت سب سے پہلے اُنہیں اور اُن کی پارٹی کو نوے کی دہائی کا طرزِ سیاست ترک کرنا چاہیے۔جیسا کہ اُوپر بیان ہوا کہ وہ بندگلی میں ہیں۔ بند گلی بھی نوے کی دہائی کا استعارہ ہے۔ میاں نواز شریف بطور سیاست دان اپنا ،اپنی پارٹی ،اپنے خاندان اور عوام کا جو نقصان کرواچکے ہیں ،اُس نقصان کے بارے اُنہیں خود معلوم ہے؟ اُنہیں معلوم ہے کہ اُن کے بچے پیشیاں بھگت چکے ہیں ،اُن کے مرحوم والد کا نام باربار لیا جاچکا ہے،اُن کے کاروبار پر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں،اُن کے صادق او راَمین کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔؟
اور عوام مسائل کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔۔۔؟

اگر اُنہیں یہ معلوم ہے تو وہ نوے کی طرزِ سیاست کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟؟

Comments

احمد اعجاز

احمد اعجاز

احمد اعجاز معروف صحافی، انٹرویوز اور افسانہ نگار ہیں۔ روزنامہ اوصاف، روزنامہ دنیا کے میگزین سیکشن سے وابستہ رہے، آج کل روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز میگزین سیکشن سے منسلک ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’کہانی مجھے تلاش کرتی ہے‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ سماجی ایشوز پر وہ لکھتے رہے ہیں، شناخت کا بحران ان کی ایک اہم کتاب ہے۔ آج کل وہ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کے ادارتی صفحے کے لئے ’’کہانی کی کہانی‘‘ کے نام سے روزانہ ایک مختصرکہانی لکھ رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */