انسانیت کے علمبرداروں کے غیر انسانی رویے - شاہد یوسف خان

جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھیک مانگتا، ہوٹل پر برتن دھوتا، بیرا گیری کرتا دیکھتا ہوں تو دل نم ہوجاتا ہے۔ ان معصوم بچوں کو تو سکول میں ہونا چاہیے تھا۔ یہ اگر دھلے ہوئے ہوتے تو کتنے خوبصورت ہوتے، کتنے پیارے لگتے؟ خیر ماں باپ کا کچھ قصور تو ہوتا ہے اور کچھ مجبوری بھی ہوتی ہے۔ ہر سال چائلڈ لیبر پر سینکڑوں سیمینار کیے جاتے ہیں، سروے کرائے جاتے ہیں، قانون سازی کی جاتی ہے لیکن ان قوانین پر عمل کرنے کو کسی کی جرات نہیں ہوئی۔ آج تک ان بچوں کے والدین اس قابل نہیں ہو سکے کہ وہ بچوں کو غلامانہ زندگی سے محفوظ کر سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور بے روزگاری ہے، ورنہ کون اپنی پھول جیسی بیٹیاں کسی ظالم کے حوالے کرتا؟

ٹیلی ویژن پر بچوں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی پروگرام کیے جاتے ہیں۔ ملک کے کسی حصے سے کوئی بچوں پر ظلم کی خبر آجائے تو اینکرز حضرات کے میک اپ زدہ چہروں میں غم اور درد ایسا ہوتا ہے کہ دیکھنے والے ناظرین بھی روئے بغیر نہیں اٹھتے۔ یہ حقیقی درد دل رکھنے کے بجائے بھرپور اداکار ہوتے ہیں اور یہی گزشتہ روز ثابت بھی ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایک آڈیو ریکارڈ پھیل چکا ہے جس میں معروف ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی کی فرعونی لہجے میں کی دھمکی ملی۔ وہ کسی خاتون سے مخاطب ہوکر کہہ رہی تھںی"میں اسے رہا نہیں کروں گی، اس پر چالیس ہزار لگائے ہیں۔ وہ دے دو اور اس کو لے جاؤ۔ "

میں نے یہ آواز اور خبر جھوٹی سمجھی لیکن اگلے روز باوثوق ذرائع سے ہی معلوم ہوا ہے کہ غریدہ فاروقی نے 15 سالہ گھریلو ملازمہ سونیا کو حبس بےجا میں رکھا ہوا ہے اور رہا کرنے پر یہ بھتہ مانگا جا رہا تھا۔ اب لاہور ہائیکورٹ نے سونیا کے والد منیر کی درخواست پر اسے بازیاب کروا لیا ہے اور غریدہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ٹیلی وژن اسکرین پر کیمرے کے سامنے یہ احترام کے قابل لوگ لگتے ہیں لیکن افسوس کہ صحافیوں کے بھیس میں چھپی ان ظالم لوگوں کو اپنی ذات کے سے بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔

پاکستان میں تو یہ واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں طیبہ نامی ایک بچی پر جج کے اہل خانہ کی طرف سے تشدد کا واقعہ ابھی تک ذہنوں پر نقش ہے۔ اس کا انجام کیا بنا؟ خدا جانے یا وہ جانیں۔ کیا انصاف ہوا؟ کب ہوا کیسے ہوا؟ بہت سوں کو تو خبر کا پتہ بھی نہیں چلا ہوگا کیونکہ عوام اپنی روزی روٹی کے چکر میں مشغول ہیں۔ حکمران اور صاحب اختیار طبقہ پانامہ پیپرز جیسے معاملات میں الجھا ہوا۔ ایسے میں گھریلو ملازمین کے ساتھ سلوک کی کس کو پروا ہے؟

پاکستان میں‌ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد گھریلو ملازموں کی حیثیت سے کام کر رہی ہے ۔ اگرچہ اس سلسلے میں کوئی حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں مگر ایک تحقیق کے مطابق پاکستانی شہروں میں ہر چوتھے گھر میں ایک نہ ایک گھریلو ملازم ہوتا ہے ان میں سے بہت بڑی تعداد کم عمر بچیوں کی ہوتی ہے ۔ آئی ایل او کی ایک تحقیق کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں تمام ملازمتوں میں سے چار سے دس فیصد تک ملازمتیں گھریلو کام کاج کی ہوتی ہیں۔ اسی ادارے کی ایک اور تحقیق کے مطابق 2004ء میں پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد 2 لاکھ 64 ہزار تھی جو کہ گھریلو ملازموں کے طور پر کام کر رہے تھے۔ 2005ء کے ہولناک زلزلے اور اس کے بعد کے 2010ء سے 2012ء میں آنے والے تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے پاکستان میں اس تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی اس تعداد میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ اندازہ یہ ہے کہ اب تک یہ تعداد بڑھ کر 7 سے 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہو گی۔

یہ وقت ہے بہتر قانون سازی اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہ اس لیے بھی نہیں کیا جاتا چونکہ بیشتر ایسے افراد انہی قانون سازوں اور صاحب اختیار لوگوں کے گھروں میں غلام ہوتے ہیں۔ غریدہ فاروقی بھی ملک کی بنیاد کے چوتھت ستون 'صحافت' کی ایک بااختیار خاتون ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اس کے خلاف قانون کوئی عملی کاروائی کرے گا لیکن انصاف ہوگا بروز محشر۔