اسلام کیوں سیکولر نہیں ہوسکتا؟ - عمر ابراہیم

دین اسلام سب سے زیادہ تیزی سے قبول کیا جارہا ہے، یعنی معاشروں پرچھارہا ہے، اور روئے زمیں پرغلبہ پارہا ہے۔ یہ غلبہ لادین عالمی نظام کے لیے خطرہ ہے۔ اس خطرے سے کیسے نمٹاجائے؟

دوطریقے اختیارکیے گئے ہیں، دوحملے کیے گئے ہیں۔ ایک حملہ اسلام کے پیروکاروں پرکیا گیاکہ اسلام سے باز آجائیں۔ دوسرا حملہ براہ راست اسلام پرہوا کہ سیکولرہوجائے۔ مسلمانوں پرحملے متواتر 30 سال سے نمایاں ہیں۔ الجزائرقتل عام، بوسنیا قتل عام، عراق قتل عام، شام قتل عام، فلسطین قتل عام، میانمار قتل عام، افغانستان قتل عام، اوریمن قتل عام سمیت بے شمار چھوٹے بڑے واقعات ہیں۔ اسلام پرحملہ 'سیکولرازم' کی صورت میں ہوا۔ یہ حملہ گوکہ بہت منظم اورجامع ہے، مگرفتح کا کوئی فطری امکان نہیں رکھتا۔ اسلام کیوں سیکولرنہیں ہوسکتا؟ اس کے لیے سیکولرازم اور اسلام دونوں کا متعلقہ فہم ضروری ہے۔

سلطنت روما سے شروع کرتے ہیں۔ موسوی شریعت کے مجرم دربار روما کے کاسہ لیس بن چکے تھے۔ معاشرے معصیتوں سے مجروح ہوچکے تھے۔ حضرت عیسٰی ابن مریم علیہ سلام کی بعثت ہوئی۔ یہودی درباریوں نے حضرت عیسٰی اورحواریوں پرمظالم توڑے۔ اناجیل کی تعلیمات مسخ کردیں۔ پولس شاؤل المعروف سینٹ پال نے اسلام کو عیسائیت سے بدل دیا۔ یہ تحریف شدہ عیسائیت رومن حکومت کا ہتھیار بن گئی۔ اسے عوام الناس کوقابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا، مالی استحصال کیا گیا۔ دین کوریاست سے سیاست سے الگ کردیا گیا۔ عیسائی اکثریت کوترک دنیا پر لگادیا گیا۔ گمراہی عام ہوئی، کہ جوقیصرکا ہے وہ قیصرکو دو، جوخدا کا ہے خدا کو دو۔ مسیح سے منسوب قول 'میری مملکت یہ جہان نہیں' کو بطور سیکولر قدر فروغ دیا گیا۔ کلیسا کی سرکشی نے سر اٹھایا، توبادشاہتوں اور ریاستوں سے تصادم ہوئے۔ کلیسا کی یونانی سائنس نے غوروفکرپرپہرے بٹھائے، تجربوں پرتالے لگائے۔

سولہویں صدی میں نئی سائنس اور یونانی سائنس میں ٹکراؤ پیدا ہوا۔ کلیسا نے کاپرینکس کی کتابیں جلائیں، گلیلیو کا سرنیچا کیا، اوربرونوکوزندہ جلاڈالا۔ نئے علوم جب عام ہوئے، توعوام کا کلیسا پر سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔ رہی سہی کسرنیوٹن، اسپائنوزا اور ڈیکارٹ نے پوری کردی۔ پروٹیسٹنٹ مصلح مارٹن لوتھرنے دوسری جانب سے کاری ضرب لگائی۔ روسو اور والٹئیرنے کلیسا کے تابوت میں آخری کیلیں ٹھونک دیں۔ یوں انقلاب فرانس میں کلیسا کی حاکمیت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ عقل فیصلہ کن قوت بن گئی۔ روشن خیالی آئی اور مسیحیت گئی۔ عیسائیت کے غیرفطری رویے اورنامعقول مطالبات قدموں تلے روند دیے گئے۔ مذہب بیزاریت نے الٰہیات کا کلی انکار کردیا۔ ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے اصل دین کی تحقیق کا امکان تک مٹادیا۔ یوں دین اور سیاست وریاست کی عدم مطابقت کا فطری رجحان مغرب میں نئی جہت اختیار کرگیا۔

والٹئیر نے کہا "دین اور سیاست کا ایک ہونا بدترین ظلم ہے۔ اسی لیے دینی سیاست کا خاتمہ اور متبادل نظام کا قیام واجب ہے۔ دین کے اکابرین ریاست کے نظم کے پابند ہوں اور راہب قاضی کا پابند ہو۔" فلسفی اسپائنوزا ایک جگہ لکھتا ہے کہ "یہ بات دین اور ریاست دونوں کے لیے برابر خطرناک ہے کہ کسی بھی دینی پیشوا کوضوابط جاری کرنے اور ریاستی معاملات میں دخل اندازی کا حق دیا جائے۔ اس کے برعکس امن واستقراراس وقت بہتر ہوگا جب وہ پوچھے گئے سوالات کے جواب پر ہی اکتفا کرے اور قدیم دینی ورثے کی پابندی کرے جولوگوں کے ہاں زیادہ قابل اعتماد ہے اور وسیع قبولیت کا حامل ہے۔"

لب لباب یہ ہے کہ مغرب میں دین کی اصل فروغ نہیں پاسکی، اورسیکولرائزیشن ہردوصورتوں میں موجود رہی۔ مشرق میں بھی سیکولرائزیشن نے مذہبی معاشروں کی لادینیت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ نوآبادیاتی دور سے بدھ ازم، ہندو ازم، تاؤازم، اور یہودیت مغربی سیکولرازم کے عادی ہوتے چلے گئے۔

دین اسلام کا جب اپنی اصل میں نزول اور نفاذ ہوا، وہ سیکولرکُش رجحان کا داعی اور عامل تھا۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب کے درمیان موجود تھے۔ کتاب الٰہی کی تعلیمات سے استفادہ آسان تھا۔ قرآن حکیم میں کوئی تحریف وتبدیلی پیش نہ آئی۔ دین مکمل طورپرریاست و سیاست میں جاری و ساری ہوا۔ رہبانیت کی اسلام میں کوئی جگہ نہ تھی۔ دین و سیاست کی علیحدگی کا کوئی تصوراصول شرع نہ بن سکا۔ سب کچھ اللہ کی حاکمیت کا تابع تھا۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ایک بھرپور تجربہ تھا۔ دنیا و آخرت دونوں میں فلاح کا تصوررائج ہوا۔ غوروفکرکی دعوت عام ہوئی۔ نئے علوم کے لیے دروا ہوئے۔ طب، طبعیات، کیمیا، فلکیات، فلسفہ، منطق، ریاضی، الجبرا، اور تاریخ جیسے علوم کے سوتے پھوٹ نکلے۔ کتابوں کے انمول خزینے وجود میں آئے۔ کہیں بھی دین و دنیا میں تصادم کی کیفیت پیدا نہ ہوئی۔ بلکہ ہوا یوں کہ جب مسلمان معاشرے بتدریج دین سے دور ہوئے، تودنیا کی فلاح بھی معدوم ہوئی۔ اقتدار کی چھینا جھپٹی، اور مفادات کی جنگ میں بھی دین وسیاست کی علیحدگی اسلام کا اصول یا قانون نہ بن سکی۔ دین اسلام کی یہی نوعیت وفطرت آج بھی قائم ودائم ہے۔ سیکولرازم کبھی دین اسلام سے ہم آہنگ نہ ہوسکا، نہ ہی ہوسکتا ہے۔ یہ سادہ سی حقیقت علمائے مشرق مغرب سے مخفی نہیں کہ اسلام کی فطرت میں جوجامعیت اور کاملیت ہے، وہ کسی اضافی قدرسے بےنیاز ہے۔ اسلام ہرشے پر محیط ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ کوئی پہلواسلام کے دائرے سے باہر نہیں۔ اسلام میں ان اسباب کے امکانات ہی نہیں، جوسیکولرازم پرمنتج ہوں۔ اسلام کی اصطلاح بھی خالق کی طرح واحد ہے، کسی بھی لاحقے اور سابقے سے بے نیاز۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */