کہیں گے کیا دار و رسن - ممتاز شیریں

احتساب احتساب کا شور جس قدر ہمارے وقتوں میں مچا ہے، شاید ہی کبھی مچا ہو لیکن جس احتساب کا جتنا غل غپاڑہ ہے، اس پر عمل سے اتنا ہی دور ہے۔ جب چور، چور کا شور مچانے والا خود چور ہو تو چور پکڑا کیسے جائے ؟

آپ ہی کی ہے عدالت، آپ ہی منصف بھی ہیں

پھر تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون

یہی وجہ ہے کہ ہم اصلاح، تبدیلی، انقلاب کے لفظوں سے کھیلتے رہتے ہیں لیکن عمل کی دنیا دن بہ دن تاریک ہوتی جا رہی ہے۔ جب تک ہم لفظوں کا تعاقب چھوڑ کر معنی پر توجہ نہیں دیں گے، نجات کا راستہ ڈھونڈنا محال ہی رہے گا۔ آج ہمارے ارد گرد اندھیرے بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے حق بات کہنا چھوڑ دیا ہے حق بات یعنی سچی اور نصیحت آمیز بات۔ اس بارے میں کسی مفکر کا قول ہے کہ "اس کا سب سے اچھا استعمال یہ ہے کہ اسے سن کر آگے بڑھا دیا جائے" چنانچہ ہم لوگ یہی کرتے ہیں اول تو حق بات کرتے ہی نہیں، سنتے ہی نہیں اور اگر طوہاً و کرہاً سننی پڑ بھی جائے تو اسے گرہ میں باندھنے کے بجائے کسی اور کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ سچ بات ہی واحد ایسی چیز ہے جس کا مستحق ہم ہمیشہ دوسروں کو ہی سمجھتے ہیں اسی لیے جناب اشفاق احمد نے اپنا ایک واقعہ لکھا کہ"انہوں نے ایک دفعہ اپنی ماں جی سے یہ ذکر کیا کہ اب میں صرف سچ لکھوں گا۔ تو ماں جی نے ان کو نصیحت کی کہ بیٹا یہ سچ صرف اپنی ذات کے بارے میں لکھنا، لوگوں کی زندگی اپنے اس سچ سے اجیرن نہیں کرنا۔ "

ہم چونکہ اپنی ذات کو اس سچ سے الگ کر لیتے ہیں چنانچہ کہی جانے والی اچھی اور عمدہ بات سننے والوں کے درمیان رُلتی رہتی ہے وہ بس کہی جاتی ہے اور صرف سنی جاتی ہے، کوئی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا، وہ کسی کے عمل میں ڈھل کر کسی کے لیے خیر و برکت کا باعث نہیں بنتی۔

یہ بھی پڑھیں:   گلے کی تکلیف سے نجات کے بہترین نسخے

ایک زمانہ وہ بھی تھا جس میں لوگ اپنے عیبوں پر نظر رکھتے تھے اور اپنی اصلاح کی فکر بھی کرتے تھے لیکن فی زمانہ خود کو مکمل اور دوسروں کو ناقص و باعیب سمجھنے کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں نصیحت اپنا اثر کھو دیتی ہے اب نصیحت آموز باتیں ہم صرف اس خیال سے سنتے ہیں تاکہ دوسروں کو کر سکیں۔ اب "سبق آموز کہانیاں" نہیں لکھی جاتیں اور اگر کوئی لکھ دے تو پڑھی نہیں جاتیں۔ کتاب اور رسالے کا ورق پلٹ دیا جاتا ہے۔ اب "عبرت انگیز واقعات" قلم بند نہیں کیے جاتے، اب کوئی کسی کو سمجھانے کا خطرہ مول نہیں لیتا ہے اب خیال خاطر احباب کے لیے ہم احباب کو تباہی کے گڑھے میں گرتا دیکھ کر بھی چپ ہی رہتے ہیں کہ

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

نصیحت اور حق بات سچی بات نہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم خوفزدہ ہیں، ہمیں اپنے مفادات عزیز ہیں، ان مفادات کو نقصان پہنچ جانے سے ہم خوفزدہ رہتے ہیں۔ آج کا سب سے تلخ تجربہ یہ ہے کہ سچ سننا کوئی گوارہ نہیں کرتا ہے۔ آج تو یہ لگتا ہے کہ ہر اچھائی ہی تنہا ہو کر رہ گئی ہے۔ شاید ہمارے رویّوں نے ہمیں ہر اس قدر سے دور کر دیا ہے جو ہماری بنیاد تھی۔ سچ کی راہ میں سب سے پہلے کڑواہٹ کاسامنا ہمیں خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے نزدیک سچ صرف وہ ہے جو ہم دوسروں کے بارے میں بولتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

"میں نے لوگوں کو بہت ناپا تولا، جانچا پرکھا، لیکن جب میری اپنی باری آئی تو مجھے ترازو ہی نہیں ملا کیونکہ مجھ سے اپنے گریبان میں جھانکا ہی نہیں جاتا"

سچ بولنے اور سچ سننے کے لیے ہمت و جرات کی ضرورت ہوتی ہے جو شخص ہمت و جرات نہیں رکھتا وہ سچ نہیں بول سکتا۔ آج ہر طرف منافقت اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے ہم کسی کو برا کرتے یا کہتے دیکھ کر نہیں ٹوکتے کہ کہیں وہ برا نہ مان جائے ہر شخص "یا شیخ اپنی اپنی دیکھ" کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتا ہے ہم اپنی مٹھی بھر نیکی پر شاداں و نازاں رہتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ بے عملی اور سچ سے نظریں چرانا بزدلی ہے اور بزدلی ہمیں گناہ سے قریب کردیتی ہے۔ جب نیکی بے اثر ہو جائے تو بدی پھلنے پھولنے لگتی ہے۔ سچائی کو ہماری روح میں اس طرح زندہ ہونا چاہیے کہ ہم خود کو بہادر و بے باک سمجھیں ہماری کمزوری اور بزدلی کی وجہ یہی ہے کہ سچ ہمارے اندر نحیف و نازار حالت میں پڑا ہوتا ہے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے ہم یہ سوچتے ہیں کہ سب تو جھوٹ کے خریدار ہیں بھلا ایک ہمارے سچ بولنے سے کیا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:   گلے کی تکلیف سے نجات کے بہترین نسخے

لیکن ایسے وقت میں جب انسانیت کی قدروں پر سکوت چھایا ہوا ہو تو سچ کے اظہار کی قیمت پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں یہ سوچنا اور کہنا چاہیے کہ

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے

بنام عظمت کردار آؤ سچ بولیں

تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ

تمام شہر میں ایک بھی منصور نہیں

کہیں گے کیا دار و رسن

آؤ سچ بولیں!