پانامہ کا ہنگامہ اور فیصلہ - عبداللہ فیضی کا تجزیہ

پانامہ کا ہنگامہ، فیصلہ نواز شریف کے حق میں آنا بعید از قیاس نہیں، چند معروضات:
اب جبکہ کیس کی سنوائی (بلکہ کھری کھری سنوائی) مکمل ہو چکی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ محفوظ کیا جاچکا ہے تو اس ضمن میں ایک طالب علمانہ رائے پیش خدمت ہے۔

1- پارٹیز کی جانب سے اختیار سماعت کو تسلیم کرتے ہوئے کیس کو "قانونی کیس" تسلیم کیا گیا ہے تو یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ عدالت آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتی اس لیے فیصلہ بعینہہ عوامی رائے پر یا جیسا کہ میڈیا میں تاثر بنایا جارہا ہے کے مطابق نہیں دیا جاسکتا

2 - یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ عدالت میں جرم ثابت کرنے کے لئیے ( beyond reasonable doubt ) یعنی شک و شبہ سے بالاتر ثبوت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے، جو مذکورہ کیس میں یہ ظاہرا جزوی طور پر ہی ثابت کیا جاسکا ہے۔

3 - جے آئی ٹی کی رپورٹ جسے کیس میں مرکزی حیثیت حاصل ہے کو "ثبوت نہی سمجھا جا سکتا" لہذا ان کی سفارشات سے متفق ہونا عدالت پر لازم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورٹ پر اعتراضات اور بحث کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ تمام پہلووں کا احاطہ ہوسکے۔ اس ضمن میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بہرحال قانونی سقم (خلا)موجود ہیں اور بعض نتائج کو کمزور/مشکوک ثبوتوں سے اخذ کردہ کہا جاسکتا ہے جسکہ فائدہ مدعی علیہان کو ہوسکتا ہے۔

4 - بار ثبوت کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہے کہ اصول قانون کے مطابق یہ مدعی کے اوپر ہوتا ہے۔ لہزا اب یہ ثابت کرنا کہ فلیٹ نواز شریف یا انکی خاندان کی ملکیت ہیں ایک دعوی/الزام کی حیثیت رکھتا ہے اب یہ دعوی (ملکیت) ثابت کرنا مدعی کا کام ہے نا کہ مدعاعلیہان کا۔

5 - قانونا کوئی بھی انسان اس وقت تک معصوم تصور کیا جاتا ہے جب تک کہ اسکے خلاف مکمل جرم ثابت نا ہوجائے لہزا ایک ملزم کی حیثیت سے قانون اسکے تمام تر حقوق کی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے۔ عدالتی کاروائی میں "منصفانہ حق سماعت" ہر ملزم کا مسلمہ بنیادی حق ہے۔ اس حق کے تحت کسی انسان کو خود اسی کے خلاف گواہی دینے (self incrimination) پر مجبور نہی کیا جاسکتا، مزید یہ کہ تحقیقاتی افسر کے سامنے کسی سوال کا جواب نا دینا بھی منصفانہ حق سماعت میں ہی آتا ہے۔

6 - جہاں قانون خاموش ہویا تشریح طلب ہو وہاں عدالتیں اپنے سابقہ نظائر (precedents) کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہیں۔ مذکورہ کیس عدالتی نظائر نواز شریف کے حق میں جاتے نظر آتے ہیں کیونکہ استغاثہ بادی النظر میں شک و شبہ سے بالاتر کیس ثابت کرنے میں پوری طرح کامیاب نہی ہوسکا، لہذا شک کا فائدہ ملزم کو ہوسکتا ہے۔

پانامہ کیس پاکستانی عدلیہ اور سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسکا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ آنے والے وقتوں اور فیصلوں پر اثرانداز ہوگا لہذا کرپشن سے جڑے دیگر کیسیز کے لیئے بھی وہی اصول و ضوابط طے پائیں گے جو اس فیصلے میں طے کئیے جائیں گے، اس حوالے سے کوئی بھی بے ضابطگی یا غلط مثال آئندہ بہت سی مزید بے ضابطگیوں پر منتج ہوگی۔ لہذا یہ سمجھنا ضروری ہی کہ صرف جذباتی یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہم کسی ایسے فیصلے کی حمایت نا کررہے ہوں جو پاکستان اور ہمارے عدالتی نظام اور خود آئین پاکستان کے حق میں بہتر نا ہو۔ جبکہ فیصلہ ہماری توقعات کے برعکس آنے کی صورت میں بھی اسے تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.