مجھے پہچانو - حلیمہ سعدیہ

جی ہاں.!
مجھے پہچانو ، میں کون ہوں... میں کس لیے ہوں...؟
آپ سب مجھے پہچان کر میرے فوائد سے بہرہ ور ہو جاؤ...

چلو میں خود بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں...؟
میں درخت ہوں...
جی ہاں ... میں درخت ہوں...

رب دوجہاں کی تخلیق، جس سے مقصود سراسر انسان کو فائدہ پہچانا ہے... میں آج کل نایاب یا ناپید ہوتا جا رہا ہوں.. میں نے سوچا کہ میں اپنا تعارف خود کراتا چلوں...
میں کام انسانوں کو راحت پہچانا ہے... میں اپنے کام کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہوں کہ میں جتنی انسان کو راحت دے سکتا ہوں ، دوں...
بنی آدم میرے سائے سے فائدہ اٹھاتا ہے خصوصا مزدور طبقہ، مجھ پہ لگا پھل بھی کھاتا ہے، میرے جسم سے (مراد لکڑی) اپنی ضرورت کا سامان بھی بناتا ہے...
مگر...؟؟
مجھے قدم قدم پہ تکلیف پہنچاتا ہے...
کیا کہا تکلیف..؟؟
جی ہاں تکلیف...
جب میرے سائے میں سستانے کے لیے بیٹھتا ہے تو جو جہاں کی عداوتیں ، بغص اور لڑائیاں دل میں ہوتی ہیں... وہ کسی دوسرے سے غیبت کی صورت میں نکالتا ہے...
مجھے تکلیف ہوتی ہے...
ہاں مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے...
میں غصے میں آ کر چلاتا ہوں... سائیں سائیں کرتا ہوں ... اپنے پتوں کو حرکت دے کر آدم کی اولاد کو روکنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ابن آدم میرے غصے کو ہوا سمجھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں...

کبھی بنی آدم نے غور نہیں کیا کہ میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں...
میرے غصے کو سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے سے کہتے ہیں
"یار اچانک ہوا چل پڑی ہے...مزہ آ رہا ہے... اووو ہاں میں کیا بتا رہا تھا ...
وہ جو میری خالہ کی ساس کا بھائی ہے نا....." (غیبت شروع)
پتہ نہیں بنی آدم کو غیبت کا کیا چسکا لگ گیا ہے...
یہ انسان مجھ سے میرا پھل چھین لیتا ہے... کافی عرصے مجھ پہ میرا پھل پرورش پاتا ہے... میں اپنے پھل کو لوگوں کے لیے نفع بخش بناتا ہوں... بے شک حکم ربی کی بدولت ہی پھل پکتا ہے مگر مجھ پہ ہی...
جب میرا پاکیزہ پھل پک جاتا ہے تو اے بنی آدم تو اپنے گھر لے جاتا ہے.. کبھی حلال آمدنی سے اور کبھی حرام (رشوت، سود کے پیسے) آمدنی سے۔۔۔ میں جلتا ہوں، کڑھتا ہوں... مگر میں بے بس ہوں... میں چاہوں تو اپنا پاکیزہ پھل ، بس پاکیزہ لوگوں تک پہنچاؤں...
پھر میرا پھل تو گھر لے جاتا ہے... آدھی تیرے دل میں گناہوں اور نفرتوں کی گرمی ہوتی ہے اور آدھی گرمی مجھے باہر کی لگ جاتی ہے... جس کے نتیجے میں میرا معصوم سا بچہ (پھل) گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے... میں تو تم تک صحیح سلامت پھل پہنچانا چاہتا ہوں...
میں تو امیر و غریب کو انصاف کے ساتھ اپنے سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتا ہوں مگر اے انسان تو ظالم ہے، مجھے ایذا پہنچاتا ہے...

اے بنی آدم...!!
جب تو مجھے سے بنی کرسی پر، میز پر، بیڈ وغیرہ پر بیٹھتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے... میں خوش ہوتا ہوں کہ میں انسان کو فائدہ پہنچا رہا ہوں
مگر
جب تو مجھ پہ بیٹھ کر غیبت کرتا ہے... کسی کو نیچا دکھانے کی پلاننگ کرتا ہے یا مجھ پر بیٹھ کر برا کام کرتا ہے یا سوچتا ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے... میں چیخنے کی کوشش کرتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ "چیں، چیں کی آواز کیوں آ رہی ہے..؟ میری کرسی تو نئی ہے"
تو مجھے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا...
کبھی کبھی تو تیرے کرتوں کی وجہ سے، میں اتناجلتا کڑھتا ہوں کہ میری ہڈیوں کا رس ختم ہونا ہم شروع ہو جاتا ہے ...
جیسے بنی آدم کے جلنے کڑھنے سے خون جلتا رہتا ہے، اسی طرح میرے جلنے کڑھنے سے میری مضبوطی جاتی رہتی ہے... پھر اے انسان نتیجتا تو دھڑام کی آواز کے ساتھ نیچے جا گرتا ہے... جلدی جلدی اٹھ کر ادھر ادھر دیکھتا ہے کہ کسی نے دیکھا تو نہیں...
پھر جا کر بڑھئی کا گربان پکڑ لیتا ہے... اس صورتحال کی وجہ سے میری سے حاصل کی گئی لکڑی اور بوسیدہ ہوجاتی ہے..

اے بنی آدم...
بڑھئی نے تجھ سے دھوکہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے بلکہ تجھ نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے... مجھے ایذا و تکلیف پہنچائی ہے...
اگر میں بڑھئی کی وجہ سے بوسیدہ ہوا ہوتا تو تیرا نقصان ہر گز نہ کرتا کیونکہ میں تو بنی آدم کا محسن ہوں کیونکہ میری پیدائش کا مقصد انسان کو سکھ دینا اور راحت پہچانا ہے...

اے انسان...!!
کیا تو جانتا ہے..؟؟
جس کاغذ و قلم سے تو لکھتا ہے... جس قلم کو پکڑ کر تو لکھنا سیکھا ہے... جس کاغذ و قلم کو پکڑ کر تو ڈاکٹر بنا..
جس کاغذ و قلم کو پکڑ کر تو انجینئر بنا...
جس قلم کو پکڑ کر تو عالم و مفتی بنا...
جس کاغذ و قلم کو پکڑ کر تو طالب علم و معلم بنا...
جس کاغذ و قلم کو پکڑ کر تو قاری و لکھاری بنا...
یہ سب میری وجہ سے ہے... میری وجہ سے ہی تو اس قابل بنا... اور میں اللہ تعالی کی تخلیق ہوں...

اے انسان...!!
ذرا سوچ تو سہی...!!
میرا تیرا محسن ہوں پھر بھی تو مجھے تکلیف پہنچاتا ہے...
مجھے بے دردی سے کاٹتا ہے تو مجھے اتنی تکلیف نہیں ہوتی، جتنی تکلیف تیرے کرتوتوں سے ہوتی ہے۔
جب تو مجھے کاٹتا ہے تو مجھ میں دوسروں کو راحت پہنچانے کا جذبہ موجود ہوتا ہے... میں خوش ہوتا ہوں کہ میں کسی کو سکھ پہنچانے جا رہا ہوں... یہ جذبہ میری تکلیف کو خوشی و تسکین میں بدل کر رکھ دیتا ہے...
ذرا مجھے سمجھنے کی کوشش کرو اور میرے بہن بھائیوں کو اگانے کا عہد کرو... اے انسان تجھے صرف مجھے کاٹنے کا پتہ ہے... عقلمندوں والی بات تو یہ ہے کہ ایک کاٹو، بدلے میں پانچ اگاؤ... ہانچ نہ تو دو ہی سہی... حالانکہ اے انسان تو جانتا ہے کہ میں تجھے آکسیجن بھی فراہم کرتا ہوں... ماحول کی آلودگی بھی ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں ...
سب سے بڑھ کر یہ قدرت نے میرا رنگ سبز رکھا ہے ... جو آنکھوں کو راحت اور دل کو تسکین پہنچاتا ہے...
مجھے دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی تیز ہوتی ہے... آج تک مجھے بار بار دیکھنے سے کوئی نہیں اکتایا... میں قدرت کی خوبصورتی کی نشان ہوں...
مجھے پہچانو...
خدارا مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ... مجھے آپ لوگوں کی تکلیف کا احساس ہے... آپ لوگ بھی تو میرا احساس کرو نا.
امید ہے کہ اے انسان تو کچھ ادھر بھی نظر شفقت فرمائے گا.
از طرف
آپ کا اپنا دوست.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */