میاں صاحب کا شعری ذوق - صبیح الدین شعیبی

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

وزیراعظم نے 1998ء میں جب یہ شعر پڑھا تو ایک خلقت کو مداح بنالیا۔ ایٹمی دھماکوں جیسے فیصلے کاکریڈٹ لینے کے لیے جب انہوں نے یہ شعر استعمال کیا تو سادہ لوح عوام اپنے وزیراعظم کو بھی حق گو بےباک سمجھے اور 73ءکےآئین سے 58 ٹو بی کے نکالے جانے کے بعد اسے ہی "آئین جواں مرداں" سمجھنےلگے۔

ابھی کل کی بات ہے میاں صاحب کو سیالکوٹ میں عوام اور خواجہ صاحب کی محبت نے ایسا گھیرا کہ انہوں نے شعر و شاعری شروع کردی۔پیاربھرے ماحول میں مخالفین کو بھی غالب کی زبانی پیغام دیا

کعبے کس منہ سےجاؤ گے غالب

شرم تم کومگر نہیں آتی

اس شعر میں غالب نے کیا فرمایا تھا اسے رہنے دیں ، اسے میاں صاحب کی "بحرپانامہ" میں مشہور غزل کاحصہ سمجھ کر خود ہی تشریح کرلیں۔ غالب کا ایک اور شعرجو میاں صاحب نےسیالکوٹ چیمبرمیں پڑھا، اسے مریم نواز نے بھی ٹویٹ کیا

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے

لگتا ہے کسی دن غالب کی وصیت سامنے آجائے گی کہ یہ دیوان انکا نہیں کسی شریف آدمی کا ہے ۔ ان کے دادا کے پاس امانتاً رکھوایا گیاتھا جسے وہ شریف خاندان کو لوٹارہے ہیں۔ نوٹری، شوٹری اورلاٹری سب لگی ہوگی۔

چترال پہنچے تو ماضی میں کشکول توڑنے کانعرہ دینےوالے میاں صاحب، کچھ بھکاریوں کو یاد کرتے رہے ۔ استعفیٰ کی بھیک دینےسےانکارکیا اور احتساب کو استحصال قراردیتے ہوئے

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

کی گردان کی ۔ میاں صاحب کے تو اپنے الفاظ تھے، مگر چھوٹے میاں صاحب تو جالب کے کلام پر ہی ہاتھ صاف کرلیتے ہیں۔ خیر، ہم چترال لوٹتے ہیں جہاں "اقبال بلند ہوا" ۔ ایسا بلند ہوا کہ آمد ہونےلگی

جو میں سر بسجدہ ہوا تو زمیں سے آنےلگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

اقبال، جالب یا غالب، میاں صاحب کا نکھرتا شعری ذوق غماز ہے کہ دکھ گہرا ہے اور چوٹ زوردار۔ مگر پانامہ اسکینڈل کی تحقیقات جوں جوں آگے بڑھ رہی ہےوہ "طائر لاہوتی" والے شعر پر سر دھننے والے آنکھیں ملتے ہوئے بیدار ہورہے ہیں اور "اس رزق سے موت اچھی ، اس رزق سے موت اچھی " کی تکرار کررہے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com