سعودعثمانی؛ کہتا ہے ہر اک بات مگر حسنِ ادب سے - نایاب حسن

احساس کا جمال، فکرکی روشنی، خیال کی ندرت، طرزِ بیان کی جودت و جدت اور روایت کو روح کی گہرائیوں میں جذب کر کے عقل و عشق کی گاہے سنگلاخ اور گاہے پرکیف وادیوں میں سفر کرنا بڑے جگر کا کام ہے. ہمارے عہد کے ادیبوں، شاعروں، خوش خیال فن کاروں اور باکمال تخلیق کاروں میں ایسے سعید اشخاص کی گنتی انگلیوں پر کی جا سکتی ہے، جو ’’جام و سنداں باختن‘‘ کے جاں کاہ ہنر سے واقف ہوتے ہیں. عموماً شاعر یا تو روایت پسندی کی تنگنائیوں سے نکل نہیں پاتے یا جدت طرازی اور ندرت آرائی کی دھن میں اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے رہتے ہیں. ادھر نئی نسل کے ذہن کی ساخت ایسی ہو چلی ہے کہ ہر نئے اور عام دھرے سے ہٹے ہوئے فن پارے، شعری یا نثری تخلیق پرٹوٹ پڑتی ہے، سمجھنے سوچنے کا مرحلہ بعد میں آتا ہے یا آتا ہی نہیں ہے، محض وجدان کے زور پر سرور و لطف کی بزمیں سجائی جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی سعود عثمانی ہماری نگاہ سے گزرے، تو قلب و ذہن پر ایک خوشگوار سی حیرت طاری ہو جاتی ہے، ان کی شاعری میں روایت سے لگاؤ کے ساتھ ندرتِ فکر و خیال کا ایسا بہاؤ ہے کہ قاری و سامع اش اش کیے بغیر نہیں رہ سکتا. ان کی شاعری قوسِ قزح کے سات رنگوں کو محیط، بارش کی جمال انگیز پھواروں میں دھلی ہوئی اورگھنیرے اشجار جیسی سایہ دار و ہوا بار ہے. سیاہیوں سے زر تار دھاریاں بنانے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔

پہلی بار ان سے آگاہی ان کے شعری مجموعہ ’’بارش‘‘ کی وساطت سے سات آٹھ سال قبل ہوئی، تب اس مجموعے کی تخلیقی کشش و جمال سے زیادہ ظاہرِ کتاب کی آرایش و زیبایش میرے لیے دامن کشِ دل و نگاہ تھی. کتاب کے ٹائٹل سے لے کر اندرون کے صفحات تک میں ایسی جاذبیت تھی کہ اسے پڑھنے سے پہلے بار بار الٹا پلٹا اور طالب علمانہ جیب خرچ کے محفوظے سے کتاب پر درج قیمت سے دگنی قیمت کے عوض خریدنے کے باوجود ایسا محسوس ہوا گویاگنجِ گراں مایہ ہاتھ لگ گیا ہو، پھر کتاب پڑھی اور اول تا آخر بار بار پڑھی، سب کچھ تو سمجھ میں نہ آیا، مگر جو آیا، وہ ایسا کہ ذہن میں پیوست سا ہوگیا:
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست! اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
اور:
میں صرف محبت کا طلب گار تھا لیکن
اس میں تو بہت کام اضافی نکل آئے
اک عمر سے کس کرب میں ہیں ضبط بھی، میں بھی
آنسو نکل آنا ہے تو جلدی نکل آئے

ابھی عید کی چھٹیوں کے دوران جب گھر میں موجود ’’کتاب دانوں‘‘ کو کھنگالا تو ان میں پھر سے’’بارش‘‘ پر نگاہ پڑی اور جم سی گئی، کتاب نکالی، یادوں سے مصافحہ اور خوابوں سے معانقہ کرتے ہوئے کتاب کا پہلا ورق پلٹا، جس پر ’’بارش‘‘ کی وجہ تسمیہ کی طرف بلیغ اشارہ کرتی ہوئی نہایت ستھرے خط میں لکھی سورۂ شوریٰ (آیت:۲۸) کی یہ آیت درج تھی ’’اور وہی تو ہے جو (لوگوں کے) ناامید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت (یعنی بارش کی برکت) کو پھیلا دیتا ہے اور وہی کارساز اور تعریف کے لائق ہے‘‘۔ پھر اقبال گویا تھے:
پیشِ تو نہادہ اَم دلِ خویش
شاید کہ تو ایں گرہ کشائی
پھر قدرے دھندلے، مگر دلکش رسم الخط میں لکھے ہوئے اشعارِ انتساب:
یہ لفظ جس کی عطا ہیں اس ایک نام کے نام
ہر اک ستارۂ روشن، ہر ایک خواب کے نام
ابھی جو لکھی نہیں ہے، اسی کتاب کے نام
سفرکے نام، مسافت کے نام، خواب کے نام
جھلستے دشت میں بارش کے انتظار کے نام
بارش! تیرے سفر کے نام
کھارا پانی میٹھا کرتے ہیں خاموش ہنر کے نام

کسی شعری مجموعے کی آغاز کاری کا یہ لطیف و انوکھا انداز خال ہی نظر آئے، پھر جب آغاز میں ایسی دلکشی ہو، تو اندرون میں کیسے کیسے تابدارگہر چھپے ہوں گے، اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ حمدیہ اشعار، جہاں سے اس کتاب کا باضابطہ آغاز ہوا ہے، نہایت دلفریب، معنی خیز اور باری تعالیٰ کے بےپناہ الطاف و عنایات کے حسنِ اعتراف کی خوب صورت مثال ہیں:
طواف کرتا ہوا، استلام کرتا ہوا
میں شہرِ وجد میں ہوں صبح و شام کرتا ہوا
کھڑا ہوں اپنے ہی سائے کی جانماز پہ میں
نمازِ شکر میں دل کو امام کرتا ہوا
ترے حضور مجھے لے کے آن پہنچا ہے
یہ سجدہ مجھ میں مسلسل قیام کرتا ہوا

آج کل کے جو مشہورِ روزگار اور عالمی قسم کے شعرا ہیں، ان کے یہاں بھی یہ شکایت عام ہے کہ ان کے شعری ذخیرے میں بھرتی کے اشعار زیادہ اور کام کے اشعار کم ہوتے ہیں، مگر اسے فنی کمال، شعور و ادراک کی پختہ کاری اور تخلیقی تحرک کا کرشمہ سمجھنا چاہیے کہ سعود عثمانی کی غزلوں اور نظموں میں سے اچھے اشعار کی کھوج تلاش نہیں کرنا پڑتی؛ حالاں کہ ان کے یہاں الفاظ کی بہت زیادہ جگل بندیاں بھی نہیں ہیں، ترکیبوں اور تعبیروں کی تراش خراش پر بھی زور ایک حد تک ہی ہے، مگر قدرت نے انھیں ایسی قوتِ تخلیق سے نوازا ہے کہ سادہ الفاظ بھی ان کے ناخنِ تخلیق میں آ کر معنویتوں کی کائنات بن جاتے ہیں:
ایک معیار مستقل رکھنا
درد شایانِ شانِ دل رکھنا
کتنی آساں ہے صبر کی تلقین
کتنا مشکل ہے دل پہ سِل رکھنا
شاعری اور کاروبار سعود
کانچ اور آنچ متصل رکھنا

سعود عثمانی کی شاعری میں ایسی لطافت اور تارِ دل کو چھیڑنے کی قوت و صلاحیت ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ان کے شاعرانہ کمال کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ بعض دفعہ جب شاعر کوئی شعر کہتا ہے، اور اسے کوئی شخص سنتایا پڑھتا ہے، تو اسے فوری طور پر لگتا ہے کہ یہ تو میری سرگزشت یا میرے دل کی واردات ہے، جو اس فن کار نے بیان کر دی ہے، ایسے شاعر کے اشعار چوں کہ بہت سے انسانوں کے دلوں کی آواز اور ان کے محسوسات کے ترجمان ہوتے ہیں، سو وہ بتدریج کتابوں کے ذریعے یا براہِ راست شاعر کی زبانی سن کر یا دیگر واسطوں سے لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتے، حتی کہ ضرب المثل بن جاتے ہیں. یہ خوبی ماضی کے استاد شاعروں سے قطع نظر کرتے ہوئے عصر حاضر میں گلزار یا کلیم احمد عاجز وغیرہ کی شاعری میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے، ان کے اشعار کی سادگی، بےتکلفی، بےساختہ پن اور فکر و نظر کی صداقت و دلکشی نے ان کے کلام کو نقشِ دوام کی حیثیت دے دی ہے. سعودعثمانی کی شاعری میں بھی یہ صلاحیت پوری قوت اور خوبصورتی کے ساتھ پائی جاتی ہے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ وغیرہ پر ان کے بہت سے اشعار تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں، وہ خود بھی اس نئی عنکبوتی دنیا کے باسی ہیں اور سرگرمی کے ساتھ اپنی نئی شعری تخلیقات سے قارئین کو حظ اٹھانے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔

’’بارش‘‘ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے، جو پہلی بار 2007ء میں شائع ہوا ہے، اس سے پہلے 1997ء میں ’’قوس‘‘ کے نام سے پہلا شعری مجموعہ شائع ہوا تھا، جسے اُس سال کا پہلا وزیراعظم ادبی ایوارڈ بھی حاصل ہوا تھا. ان کا تیسراشعری مجموعہ ’’جل پری‘‘ کے نام سے اکتوبر 2017ء میں منظرِعام پر آیا ہے۔ سعود عثمانی کی شخصیت یا ان کی سیرت و زندگی کے بارے میں ہمیں زیادہ علم نہیں، اتنا معلوم ہے کہ وہ پاکستان کے معتبر ترین علمی و مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے اور عالمِ اسلام میں مشہور و مقبول اسلامی سکالر مولانا محمد تقی عثمانی کے برادرزادے، لاہور میں مقیم اور پاکستان کے روزنامہ اخبار 92 نیوزمیں ’’دل سے دل تک‘‘ کے عنوان سے مختلف علمی، ادبی و سماجی موضوعات پر بڑے وقیع کالم لکھتے ہیں، جنھیں اربابِ ذوق کے حلقوں میں دلچسپی سے پڑھا اور سراہا جاتا ہے۔

سعود عثمانی کے والد زکی کیفی باکمال شاعر تھے اور یقیناً سعود عثمانی کی ذات و فکرمیں شاعری کے عناصر جینیٹک طور پر بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری جب نوے کی دہائی میں ادبی و شعری منظرنامے پر ہویدا ہوئی، تو انھوں نے بہت جلد اصحابِ ذوق و استادانِ فن کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی. ان کی شاعری میں، ان کے شعری خیال میں، طرزِ بیان و پیرایۂ اظہار میں وہ سحرناکی، لطافت و شیرینی اور ساتھ میں جدت و ندرت تھی کہ یکلخت لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے. امجداسلام امجدنے ان کی کتاب ’’قوس‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے ان کی علمیت، شعور کی مہک، روایت و جدت کو بخوبی طور پر برتنے کے ہنر اور اسالیبِ سخن کے اچھے، معیاری اور مستقبل گیر عناصر کے انتخاب کرنے پر ان کی تحسین کی. ڈاکٹر خورشید رضوی نے لکھا ’’اردو غزل کے جدید تر نمائندوں میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سعود عثمانی کی نفاستِ کلام کو پہنچ سکتے ہیں، سعود عثمانی نے ثابت کیا ہے کہ شعر ظاہر کے تجربوں سے نہیں، باطن کے ولولوں سے زندہ رہتا ہے. اس کے زندہ لمس سے خوابیدہ الفاظ اور غنودہ ترکیبیں جاگ اٹھی ہیں اور ان میں زندہ مفاہیم لو دینے لگے ہیں‘‘۔ معروف شاعر شہزاد احمد نے سعود عثمانی کو ایک ایسا چشمۂ رواں قرار دیا جو صاف شفاف بھی ہے اور اپنے اردگرد روئیدگی کا باعث بھی۔ ’’بارش‘‘ پر اپنے تاثرات تحریر کرتے ہوئے اردو دنیا کے معروف ناقد و محقق مشفق خواجہ کاحسنِ اعتراف یہ تھا کہ ’’میراحاصلِ مطالعہ مسرت بھی ہے اور حیرت بھی۔ مسرت اس بات کی کہ اس کا کوئی صفحہ ایسا نہیں ہے، جو دامن کشِ دل نہ ہو اور حیرت اس پر کہ ایسا شاعر کہاں سے آگیا، جس نے غزل کے مستقبل سے میری مایوسی کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا، اب میں غزل کے مستقبل سے پرامید ہوں۔ کلاسیکی روایت کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی منفرد انداز اختیار کرنا ناممکنات میں سے ہے، آپ نے کیسی آسانی سے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا!‘‘

یقیناً ہم جب سعود عثمانی کی شاعری سے روبرو ہوتے ہیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک مقناطیسی صلاحیت ہے، جو ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ ان کے شعری موضوعات اور جہتوں میں بھی بےپناہ تنوع ہے، بطورِ خاص اپنی ذات کے اندرون و بیرون کی دریافت اور عرفانِ خودی کے حوالے سے سعود عثمانی کے اشعار کچھ الگ پہلوؤں سے آشنا کرواتے ہیں، ان کے اس قسم کے اشعار میں ایک طلسماتی کشش اور دل نشینی تو ہے ہی، مگر ان کے ذریعے انسانی شخصیت کے درون و بیرون سے متعلق جن احوال کی نشان دہی کی گئی ہے، ان سے ہر انسان کو گزرنا ہوتا ہے اور یہ کیفیتیں زندگی کے مختلف مراحل میں ہم میں سے ہر ایک پر نازل ہوتی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ کسی کو ان کیفیات کا احساس و ادراک ہوتا ہے اور کسی کو نہیں، ملاحظہ کیجیے:
تلاش کرتی ہوئی آنکھ کی تلاش میں ہوں
کوئی تو شکل ہو دنیا میں ہوبہو میری

مرے لیے تو یہ دنیا مرے وجود سے تھی
نہیں رہا تو زمین آسمان بھی نہ رہے

میں اپنے ساتھ بہت دور جا نکلتا ہوں
اگر کبھی مجھے فرصت ذرا بھی ملتی ہے

خواہش ہے کہ خود کو بھی کبھی دور سے دیکھوں
منظر کا نظارا کروں منظر سے نکل کر

زمانہ بیچ سے جب ہم ہٹا رہے تھے سعود
خبر ملی کہ وہیں درمیان میں ہم تھے

دیوار پہ رکھا ہوا مٹی کا دیا میں
سب کچھ کہا اور رات سے کچھ بھی نہ کہا میں
اس دکھ کو تو میں ٹھیک بتا بھی نہیں پاتا
میں خود کو میسر تھا مگر مل نہ سکا میں
اک جسم میں رہتے ہوئے ہم دور بہت تھے
آنکھیں نہ کھلیں مجھ پہ، نہ آنکھوں پہ کھلا میں

’’شجر‘‘ سعود عثمانی کی شاعری کے ترکیبی اجزا میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور وہ اس کی مختلف حالتوں کو الگ الگ انسانی کیفیات اور ذہنی، خیالی اور حقیقی سرگزشتوں کے اظہار کے لیے بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں، درخت کی ہریالی ہو یا اس کا گھناپن، اس کا سایہ ہو یا اس کا بھیگا تن، اس کی خوش لباسی ہو یا عریانی؛ سب میں انھیں ایسی تمثیلات مل جاتی ہیں، جو انسانی زندگی کے خم و پیچ، نشیب و فراز اور احوال و واقعات کی ترجمانی کرتی ہیں، چند اشعار:
کچھ اس طرح مری چھاؤں، مرا ہنر کر دے
چلوں تو ابر، رکوں تو مجھے شجر کر دے
شجر کی بےثمری کب سے انتظار میں ہے
لگا وہ زخم کہ شاخوں کو بارور کر دے

ان درختوں سے میں نے سیکھا ہے
اپنے ہاتھوں پہ اپنا دل رکھنا

میں سبزشاخ ہوں اور خاک تک نہیں محدود
سمندروں کی تہوں میں بھی ہے نمو میری

میں اک شجر سے لپٹتا ہوں آتے جاتے ہوئے
سکوں بھی ملتا ہے مجھ کو، دعا بھی ملتی ہے

اس پیڑ کا عجیب ہی ناتا تھا دھوپ سے
خود دھوپ میں تھا، سب کو بچاتا تھا دھوپ سے

ہمارا عشق ہے درویش پیڑ کی صورت
کہ زہر پیتا ہے اور زندگی بکھیرتا ہے

پیڑوں کے علاوہ کوئی سایا نہیں کرتا
اور چھاؤں بھی ہر ایک شجرمیں نہیں ہوتی

جب چاند کسی پیڑ کی محراب میں ہوگا
میری ہی طرح تو بھی کسی خواب میں ہوگا

ہرے درخت سے لپٹی ہوئی یہ کاسنی بیل
اداس ہوتی ہے لیکن اداس کرتی نہیں

یہ پیڑ جو بےبرگ و بار ایسا ہوا
ہمارا پیار بھی انجام کار ایسا ہوا

محبت ایک شیشے کا شجر تھی
گھنا تھا پیڑ، پر سایا نہیں تھا

طلائی خاک، دمکتا فلک، سنہرے شجر
عجیب رنگ ترے زرنگار خواب کا ہے

اس کے علاوہ ابر، دھوپ، برف، آنسو، زمین، آسمان، چراغ، سفر، پرندہ، جسم، صحرا، تتلی، خواب، آنکھ، شب جیسے الفاظ بھی مختلف معنیاتی لطافتوں کے ساتھ سعود عثمانی کی شاعری کے ترکیبی عناصر کا حصہ ہیں۔ حسن و عشق کے معاملات و احوال پر بھی انھوں نے شاعری کی ہے؛ لیکن اوروں سے کچھ ہٹ کر:
کبھی پت جھڑ، کبھی بارش سے کنایا کرنا
ہم کو آیا نہیں اظہارِ محبت کرنا

میاں! زمین کی مانند یہ محبت بھی
بہت قدیم ہے لیکن بہت پرانی نہیں

نشے کی طرح محبت بھی ترک ہوتی نہیں ہے
جوایک بار کرے گا، وہ بار بار کرے گا

یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی
سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارا کیا

میاں یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے
کسی کو خاک بنادے، کسی کو زر کردے

تو اس عذاب سے واقف نہیں کہ عشق کی آگ
تمام عمر جلا کر بھی راکھ کرتی نہیں

عشق سامان بھی ہے، بے سروسامانی بھی
اسی درویش کے قدموں میں ہے سلطانی بھی

عشق آباد کے قصے، زندگی کے تجربات و مسائل، کرب انگیزمرحلے، دردناک حادثے، انفرادی معاملے، اجتماعی الجھنیں، معاشرے کو درپیش چیلنجز کی مختلف شکلیں، صارفی عہد میں انسانی رشتوں کے بکھراؤ جیسے موضوعات پر بہت سے شاعروں نے لکھا ہے، سعود عثمانی نے بھی لکھا ہے، مگر اس طرح کہ اس لکھاوٹ میں انفرادیت کی بوباس رچی ہوئی ہے، بلاتبصرہ چند منتخب اشعار پڑھیے اور سردھنیے!
بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی
خود اپنے آپ سے اک دن کلام ہم نے کیا

سمجھ لیا تھا تجھے دوست ہم نے دھوکے میں
سو آج سے تجھے بارِ دگر سمجھتے ہیں

تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے
تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں
خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

خداگواہ کہ خوشیاں بہت ملیں لیکن
میں کیا کروں جو اداسی ہی دل کے اندر ہو

دل سے تری یاد اتر رہی ہے
سیلاب کے بعد کا سماں ہے

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

سینے میں دھنک سی بن رہی ہے
بارش کو نظر سے پی رہا ہوں

سفر قیام مرا، خواب جستجو میری
بہت عجیب ہے دنیائے رنگ و بو میری
ہوائے شب تجھے آیندگاں سے ملنا ہے
سو تیرے پاس امانت ہے گفتگو میری

برونِ خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر
یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی
خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے
اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ہوئی

ایک کتاب سرہانے رکھ دی، ایک چراغ ستارا کیا
مالک اس تنہائی میں تو نے کتنا خیال ہمارا کیا

تو جانتا نہیں مٹی کی برکتیں کہ یہاں
خدا بھی ملتا ہے، خلقِ خدا بھی ملتی ہے

ہم ایسے لوگ تو اپنے بھی بن نہیں پاتے
سو خوب سوچ سمجھ کر کوئی ہمارا بنے

بس ایک سلسلۂ بیش و کم لگا ہوا ہے
وگرنہ سب کو یہاں غم لگا ہوا ہے

پرانی چوٹ بہت دن وفا نباہتی ہے
بہت دکھا ہوں ادھر چند سال سے میں
یہ بےامان محبت ہے، اس کو ٹھیک سے رکھ!
بکھر نہ جاؤں کہیں اتنی دیکھ بھال سے میں

سو کے اٹھا تو میری آنکھوں میں
اس کی آنکھوں کا خواب تھا جیسے

نہ کام ختم ہوا اور نہ دکھ تمام ہوئے
مگرپلٹنا تو ہوتا ہے گھر کو، شام ہوئے

سب میں رہنا، سب سے دور نکل جانا
بالکل میرے جیسی حالت اس کی بھی
خواب کے بدلے اشک چکانے پڑتے ہیں
قسطوں میں جاتی ہے قیمت اس کی بھی

پھر ایک بار میں رویا تو بےخبر سویا
وگرنہ غم سے نکلنا محال تھا میرا

پھر ایک دن یہی سوچا کہ خوش رہا جائے
یہ زندگی مجھے ویسے تو راس آنی نہیں

عجیب راہ گزر تھی کہ جس پہ چلتے ہوئے
قدم رکے بھی نہیں، راستہ کٹا بھی نہیں

قبائے تر سے گزرتی ہوئی ہوا کی قسم
کہ تجھ سے پیار بھی بارش کے پیار ایسا تھا
جو کٹ گئی ہے اسے اتنا سرسری نہ سمجھ
میاں! یہ عمر گزرتی نہیں گزارے سے

میں رفتگاں کے بنائے مکاں میں رہتا ہوں
کسی کے خواب سے کرتا ہے استفادہ کوئی

تم میں سے میں بھی ہوں سو مرا فیصلہ بھی ہے
گلزار خرچ کرنے کا، صحرا کمانے کا

زبانِ اشک میں کچھ ایسی لکنتیں ہیں سعود
کہ عمر بھر کئی آنسو ادا نہیں ہوتے

بنے تو کیسے بنے اس کا ہمسفر کوئی
جو تتلیوں کی طرح رخ بدلنے والا ہے

یہ جو یکطرفہ محبت ہے اسے
سوچتاہوں تو قلق ہوتا ہے
اپنی تصویر سے محروم نہ کر
یہ تو دیوار کا حق ہوتا ہے

کس محبت میں پڑ گیا میں بھی
تو بھی مجھ کو نہ مل سکا، میں بھی
داستاں اس طرح سنائی گئی
رو پڑا وہ بھی،رو پڑا میں بھی

کشادہ دل کے لیے دل بہت کشادہ ہے
یہ میں تو کیا، مرے دیوار و در سمجھتے ہیں

میں سامنے اپنے یوں پڑا تھا
جیسے کوئی دوسرا پڑا تھا