خلیفہ کے انتخاب، نامزدگی، انعقاد اور اطاعت میں فرق - عاطف الیاس

خلافت میں بھی خلیفہ کے انتخاب کے لیے بالغ رائے دہی ( ووٹنگ) کا عمل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ قرآن و سنت اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔ انتخاب یا مشاورت اسلام سمیت ہر نظام میں موجود ہے اور فطری ہے۔ اس لیے بالغ رائے دہی (ووٹنگ) بذات خود غلط نہیں، جیسا کہ معروف ہے کہ ہم کسی بھی جائز عمل کے لیے ووٹنگ کرسکتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ خلیفہ یا امیر کا انتخاب کرنا اور اسے قرآن و سنت نافذ کرنے کی شرط پر مقرر کرنا، امت کا اختیار ہے۔ امت جسے چاہے خلیفہ منتخب یا مقرر کرسکتی ہے۔ یہ الہامی، خاندانی یا موروثی حق نہیں ہے۔ اور امت کی بیعت کے بغیر کوئی شخص خلیفہ ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا، حتی کہ خلفائے راشدین بھی امت کی بیعت ہی سے مقرر ہوئے۔ اور جب تک بیعت انعقاد نہ ہوئی تھی، وہ عام مسلمان کی حیثیت ہی سے موجود رہے۔

گویا خلافت میں اقتدارِ اعلی کی مالک تو صرف اللہ سبحان و تعالی کی ذات ہے لیکن اللہ کے احکامات کو اپنے اوپر نافذ کرنے کے لیے امیر منتخب یا مقرر کرنے کا اختیار امت کو بذریعہ بیعت حاصل ہے۔ اور کوئی بھی شخص جو زور زبردستی بیعت لے کر اپنے خلیفہ ہونے کا انعقاد کرے گا، وہ غیر اسلامی ہوگا اور وہ شرعاََ معاہدے کی بنیادی شرائط پر بھی پورا نہیں اُترتا۔

لیکن ہمیں اس چیز کو سمجھنا چاہیے کہ انتخاب، نامزدگی، بیعتِ انعقاد اور بیعت ِاطاعت میں واضح فرق موجود ہے۔ انھیں سمجھے بغیر اس بات کو سمجھنا مشکل ہے کہ ووٹنگ ایک مباح عمل ہے جو خلافت میں بھی قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔

اسی لیے بہتر ہے کہ اسلامی نظام حکومت یعنی خلافت میں حکمران کے حوالے سے چار چیزوں کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔

دیکھیے چار چیزیں ہیں:
ایک ہے انتخاب جو سراسر امت کا حق ہے۔ وہ چاہے تو خود دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے یا ان کے نمائندے یعنی اہل حل و عقد کسی ایک کو منتخب کرلیں۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رض اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب اہل حل و عقد نے کیا، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب اہلِ مدینہ اور حضرت علی رض کا انتخاب مدینہ اور کوفہ کی اکثریت نے کیا۔
یہ روایت بخاری اور ابن کثیر میں موجود ہے۔ بخاری کی اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے چھ لوگوں میں سے امیر منتخب کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان چھ میں سے چار دستبردار ہوگئے اور صرف دو امیدوار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رہ گئے۔ انتخاب کی ذمہ داری حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر چھوڑ دی گئی۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: جب سب لوگ جمع ہوگئے تو عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہ) نے خطبہ پڑھا پھر کہا: "امابعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کیے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔''
جبکہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے: "پھر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان دونوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرنے لگے"، پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: "حتی کہ آپ پردہ نشین عورتوں کے پردے میں بھی ان کے پاس گئے، مدرسے کے لڑکوں اور مدینہ کی طرف آنے والے سواروں اور بدوؤں سے بھی ان دونوں کے بارے میں رائے لی۔"
پھر اصطلاح میں انھوں نے رائے عامہ کو مدنظر رکھ کر دونوں کے سامنے قرآن و سنت اور شیخین کے اجتہادات کی پیروی کی شرط رکھی، جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قبول نہیں کیا جبکہ عثمان رضی اللہ نے من و عن قبول کر لیا۔
یہ ہے لوگوں کی جانب سے انتخاب کی صورت، جسے میں بالغ رائے دہی (ووٹنگ) کا متبادل قرار دے رہا ہوں۔ آپ لوگوں سے ان کی رائے یا پسندیدگی یا چاہت، منہ زبانی پوچھ لیں یا ووٹ کے ذریعے کہ وہ حکمرانی کے لیے مجوزہ دو امیدواروں میں سے کسے اور کیوں بطور امیر پسند کرتے ہیں۔

دوسرا ہے: نامزد کرنا جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تین مہینے مشاورت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا، چونکہ ان کے مقابلے پر کوئی امیدوار نہیں تھا، اس لیے جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ کی وفات کے بعد انھیں بطور خلیفہ بیعت ِانعقاد دی گئی جس سے وہ مسلمانوں کے خلیفہ مقرر ہوئے، لیکن صرف انتخاب یا نامزد کرنے سے ایک شخص خلیفہ نہیں بن جاتا جب تک کہ بیعت انعقاد وقوع پذیر نہ ہوجائے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نامزد تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی ہی میں ہوگئے تھے لیکن خلیفہ بیعت انعقاد کے بعد بنے۔

تیسرا ہے انعقاد جو اہل الرائے اصحاب یا اہلِ حل و عقد کرتے ہیں، جسے عموما انتخاب سمجھا جاتا ہے، لیکن اصل میں یہ بیعت انعقاد ہے، کیونکہ اسی کے بعد ہی ایک منتخب یا نامزد شخص خلیفہ بن پاتا ہے، مثلا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت انعقاد ہوئی (اس میں انتخاب بھی شامل ہے)، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا لیکن جب مسجد نبوی میں اہل الرائے یا اہل حل و عقد نے بیعت انعقاد دی، تو وہ خلیفہ بن گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مدینہ کے لوگوں نے انتخاب کیا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے چوتھے روز جب ظہر کے بعد ان کی بیعت انعقاد مکمل ہوئی تو انھوں نے بطور خلیفہ عصر کی نماز پڑھائی ورنہ اس وقت تک عبوری امیر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ہی نماز پڑھاتے رہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب اور انعقاد دونوں مدینہ اور کوفہ کی اکثریت نے کیا جس کے بعد وہ خلیفہ کہلائے۔

اور چوتھا ہے بیعت اطاعت جو عام مسلمان منتخب اور مقرر خلیفہ کی اطاعت کے لیے کرتے ہیں یا رکھتے ہیں۔ جو ہر شخص کا فردا ََ فرداََ کرنا ضروری نہیں بلکہ بیعت یعنی اطاعت کرنا فرض ہے۔

تو گزارش ہے کہ انتخاب، نامزدگی، بیعت انعقاد اور بیعت اطاعت میں فرق رکھنا چاہیے، یہ چاروں الگ الگ چیزیں ہیں اور ہمیں انھیں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ اور اسی بنیاد پر میرا یہ ماننا ہے کہ خلافت قائم ہونے کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے بالغ رائے دہی (ووٹنگ) قابل قبول عمل ہوسکتا ہے۔

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.