تبدیلی کب آئے گی؟ - کامران امین

آج کل ہر موڑ ہر ، چوک چوراہے پر تبدیلی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے کے تبدیلی کے جملہ حقوق بحق کسی غاصب محفوظ ہو جائیں میں نے سوچا کہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو ہی لوں۔ ایک دفعہ ایک صاحب کسی چوراہے میں کھڑے ہو کر بڑی جوشیلی تقریر کر رہے تھے لوگو! میرا ساتھ دو، میں تبدیلی لے کر آؤں گا ۔ مجمع میں سے ایک صاحب اٹھے اور چپکے سے ان کے کان میں جا کر کہا، بھائی صاحب! آپ پہلے اپنی شلوار تبدیل کر آئیں، صبح سے الٹی پہن کر گھوم رہے ہیں۔ (اسے محض لطیفہ ہی سمجھا جائے)

تبدیلی لانے اور چاہنے والوں سے دست بدستہ یہ گزارش بھی ہے کہ مہربانی فرما کر وہ یہ بھی بتا دیں کہ کونسی تبدیلی آئے گی اور کیسے آئے گی ؟ وہ اور ثابت قدم بھی رہے گی یا خود ہی تبدیل ہو جائے گی؟ اسی تبدیلی کے پیش بینوں ے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ میرا تعلق اس قوم سے ہے جو گزشتہ 100 سال سے مسجد اقصیٰ کے لیے ایک صلاح الدین کے انتظار میں بیٹھی ہے، عافیہ کے لیے ہمیں محمد بن قاسم کا انتظار ہے اور باقی دوسرے کاموں کے لیے ہم مہدی و عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا انتطار کر رہے ہیں ۔ اس سے یہ بالکل بھی نہ فرض کیا جائے کہ ہم ہر وقت فارغ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں اس وقت ایک عدد آلو پر اللہ کا نام تلاش کر رہا ہوں اور میرے کچھ بھائی بادلوں میں محمد لکھا ڈھونڈ رہے ہیں۔(کافروں کی تحقیق کی ایسی کی تیسی!)

اسی طرح میں چونکہ ایک عام سا بندہ ہوں اور کسی حکومتی عہدہ سے بھی میرا کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا کسی بھی قسم کی کرپشن ، لوٹ مار، دھوکہ دہی اور رشوت خوری میں بھی میرا ہاتھ نہیں۔ ہاں، البتہ جب میں صبح صبح گھر سے نکلتا ہوں تو ہاتھ میں پکڑا ہوا کوڑے کا شاپر اکثر ساتھ والے حاجی صاحب کے دروازے کے آگے چھوڑ دیتا ہوں یا پھر کسی گلی کے نکڑ میں پھینک جاتا ہوں، جہاں سے اٹھنے والی خوشبو پورا دن آنے جانے والوں کے معطر کرتی ہے اور وہ حکومت کو کوسنے دیتے ہیں۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کوڑا آہستہ آہستہ گلی کی سیوریج لائن میں جاتا رہتا ہے اور تھوڑی سی بارش کے بعد پورا محلہ وینس عظمیٰ کا منظر پیش کرتا ہے۔ میں فوراً اس منظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر کے حکومت کی نالائقی کا رونا روتا ہوں۔ مجھے بتائیں اور میں کر بھی کیا سکتا ہوں؟

ویسے آپ خود ہی بتائیں، بھلا اس دور میں صرف تنخواہ میں کہاں گزارا ہوتا ہے؟ بچے گرامر سکول میں نہ پڑھیں تو کون سی تعلیم؟ اور بیوی اگر وال مارٹ سے خریداری نہ کرے تو کیا زندگی؟ لہذا وقتاً فوقتا ً اگر میرے دوست احباب مجھے تحفے تحائف بھیج دیں تو قبول کرنے میں مضائقہ کیا ہے؟ لیکن چاچا محمد دین پرانی سوچ کا بڈھا ہے۔ وہ اسے رشوت کہتا ہے تو میرا کیا قصور؟

اور جناب یہ جو ہمارے ملک میں توانائی کا بحران ہے اور پھر خوراک کا بحران سر اٹھا رہا ہے اور اس کے بعد اب ماحولیاتی تبدیلیاں اگر ہم پر گرج برس رہی ہیں تو واللہ یہ سب یہود و نصاری کی سازش ہے۔ آپ خود ہی سوچیں میں کہاں بجلی استعمال کرتا ہوں؟ بس سردیوں میں پانی گرم کر لوں یا گرمیوں میں اے سی لگا لوں تو اس کے لیے بھی میں نے کنڈا لگایا ہوا ہے۔ پھر گھر بھی تو لوگوں کی ضرورت ہیں نہ تو یہ ملک ریاض اور بحریہ والے اگر خوبصورت گھر بنا کر دے رہے ہیں لوگوں کو توان زمینوں پر آلو پیاز اگا کر کون سا ہم نے تیر مار لیا تھا؟ بحریہ ٹاؤن ملک کی پہچان ہے آلو پیاز تھوڑی پہچان تھے؟

تو میں کہہ رہا تھا چونکہ یہ ملک اسلام کا قلعہ ہے ( اسلام آباد میں لفظ اسلام بھی ہے اور وہ قلعہ بند بھی ) تو پیدائش کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ اپنے سارے کام چھوڑ کر اس ملک کو ختم کرنے کی سازشوں میں جت گئے تھے۔ یہ سارے بحران نسل در نسل کی عمدہ پلاننگ کا نتیجہ ہیں۔

کیا درج بالاعجیب و غریب کردار ہمارے معاشرے میں نہیں پائے جاتے؟ ایک کام کیجیے کسی چاندنی رات میں پر سکوں جگہ تشریف رکھیے، بصارت کی آنکھیں بند کر کے دل بینا سے دیکھیے، اپنے گریبان میں جھانکیےتو آپ کو محسوس ہو گا کہ مجرم آپ بھی ہیں اور مجرم میں بھی ہوں۔

تو میں تبدیلی کا ذکر کرنے چلا تھا، بات کہیں نکل گئی۔ یہ تبدیلی کل ہی آئے گی اگر آج سے اور ابھی سے میں اور آپ یہ تہیہ کر لیں کے ہم اپنے حصے کا فرض پوری ایمانداری سے ادا کریں گے، ہم کسی کی حق تلفی نہیں کریں گے، کوئی قانون کی پاسداری کرے نہ کرے، ہم ہر حال میں قانون پر چلیں گے، ہم چھوٹی ہو یا بڑی کسی قسم کی کرپشن میں ملوث نہیں ہوں گے نہ گناہ میں ملوث ہوں گے نہ گنہگار کا ساتھ دیں دیں گے تو یقین کیجیے کل صبح ہی مسجد اقصیٰ کو بچانے صلاح الدین بھی آئے گا اور عافیہ کو بچانے ابن قاسم بھی نکلے گا۔ پھر عوام کو اپنے حقوق کے لیے کسی پیپلز پارٹی کی ضرورت نہیں ہو گی، نہ ہی ہمیں انصاف کے لیے کسی تحریک انصاف کی ضرورت پڑے گی۔ نہ مسلمانوں کے لیے کسی مسلم لیگ کی ضرورت ہو گی اور نہ اسلامی نظام کے لیے کسی جماعت اسلامی کی۔

کام بہت تھوڑا سا ہے اور بہت آسان ہمیں خود کوتبدیل کرنا ہے، تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہوگی۔

Comments

کامران امین

کامران امین

مصنف کا شمار باغ، آزاد کشمیر کے قابل نوجوانوں میں ہوتا ہے اور آج کل وہ ’’یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز‘‘ سے نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ تعلیم اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ باالخصوص چین میں تعلیم کے خواہش مند طلبا رہنمائی کے لیے ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.