سراج الحق کی سادگی، فیصلہ آپ کا! - عادل فیاض

سراج الحق صاحب سادگی کے حوالے سے مشہور ہیں، اور آئے روز اس کا ثبوت بھی دیتے رہتے ہیں۔ دیکھیے آج ہی پانامہ کیس کی سماعت کے موقع پر انہوں نے کیا سادگی سے بھرپور سادہ بیان ارشاد فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

"پانامہ کرپشن میں 600 لوگوں کے نام سامنے آئے، ان میں سیاستدان، بیوروکریٹ، صنعتکار، جج جرنیل سب شامل ہیں. تمام آف شور کمپنیوں والوں کا احتساب ہونا چاہیے"

ہمارے خیال میں تو یہ بیان اپنے آپ میں سادگی کا حسین مرقع ہے۔ آپ بھی اس کی گواہی دیں گے۔ بھلا آپ ہی بتائیے، سراج الحق صاحب جن چھ سو لوگوں کے احتساب کا وہ کہہ رہے ہیں، وہ تو خود "نظام" ہیں۔ اب کوئی نظام اپنے آپ کا احتساب کیونکر کرے گا؟

شاید وہ یہ مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ان کی جماعت کے کسی فرد کا نام پانامہ کیس میں نہیں ہے، عام شہرت بھی ان کی پارٹی کی یہی کہ یہ شفاف لوگ ہیں، امانت و دیانت کا پاس رکھنے والے ہیں۔ صرف پانامہ کیا، کبھی کوئی دشمن بھی ان پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکا۔ قرض لینے اور معاف کروانے والوں میں بھی ان کا کہیں نام نہیں. اس لیے ہی وہ بار بار اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ مجھ سمیت سب کا احتساب کیا جائے.

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میڈیا آپ کو حق اور سچ دکھا رہا ہے تو آپ سراج الحق سے بھی زیادہ سادے ہیں. میڈیا وہ دکھاتا ہے جس میں اس کا مفاد ہو

اصولاً دیکھا جائے تو اس مطالبے کی پذیرائی ہونی چاہیے۔ میڈیا سے سیاسی کارکنان تک، سب اس کی پشت پر کھڑے ہوں، لیکن کیا کیجیے گا کہ سیاسی کارکنان کے لیے اپنی پارٹی کا کرپٹ لیڈر بھی فرشتہ ہے، اور دوسری پارٹی کا کوئی فرشتہ صفت بھی شیطان، سراج الحق نے اسی رویے پر کہا تھا کہ "میرا چور زندہ باد اور تیرا چور مردہ باد" کی پالیسی نہیں چلے گی۔ میڈیا پر مذکورہ بیان کا ایک ٹِکر تو چل گیا لیکن اس پر کوئی مذاکرہ، کوئی بحث، کوئی ٹاک شو نہیں ہوگا۔ کیا معلوم میڈیا مالکان کا نام بھی کسی آف شور میں سامنے آ جائے؟ میڈیا کارپوریٹ ہوگیا ہے، اسے کرپشن کے خاتمے سے نہیں اشتہارات کے پیسے سے غرض ہے، چینلز کے چینلز حکومت یا اپوزیشن کے بھونپو بنے ہوئے ہیں، صرف اسی لیے کہ کہاں سے زیادہ مفاد مل سکتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ میڈیا کو جو لوگ پالتے ہیں، ان کے احتساب کی بات کیونکر کی جائے؟ ڈنڈا گھومے گا تو میڈیا مالکان سے رپورٹر تک سب کے سر پر زور سے لگے گا. میڈیا کی کرپشن کے حوالے سے چند روز قبل رپورٹ آئی ہے، جو پڑھنے اور سوچنے کے قابل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

پانامہ کیس سے قبل سراج الحق نے کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا لیکن میڈیا نے اسے پاکستان کا ایشو نہیں سمجھا. پانامہ کیس سامنے آیا تو سراج الحق سب سے پہلے عدالت کے دروازے پر پہنچے لیکن افسوس صد افسوس میڈیا نے دھرنے اور مارچ کو اس عدالتی پٹیشن سے زیادہ اہم سمجھا. لیکن جیسے ہی لوگوں کو محسوس ہوا کہ سراج الحق کہ جنہیں ہم سادہ سمجھتے ہیں، وہ اتنے سادہ بھی نہیں ہیں، تو وہ بھی دھرنوں اور مارچوں کو چھوڑ چھاڑ کر سراج الحق والے راستے پر آ گئے اور میڈیا کے دانشوروں نے بھی اپنے کیمرے اور قلم سڑکوں سے اٹھا کر عدالتوں کے اندر اور باہر نصب کر دیے اور اس دھرنا کیس کو لمحوں میں عدالتی کیس بنا دیا. لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ جس کے سبب یہ ہوا، اس کا نام لینے سے بھی گریزاں ہیں۔

اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میڈیا آپ کو حق اور سچ دکھا رہا ہے تو آپ سراج الحق سے بھی زیادہ سادے ہیں. میڈیا وہ دکھاتا ہے جس میں اس کا مفاد ہو یا جس کے اسے پیسے ملیں. بھلا سراج الحق پیسے کہاں سے لے کر دے، دو دفعہ وزیرخزانہ ہوتے ہوئے بھی جس نے کوئی کرپشن نہیں کی، چنانچہ اس کے نام پر کوئی آف شور کمپنی بھی نہیں ہے.

ہمارا کہنا بس اتنا ہے کہ اگر آپ پاکستان میں کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس سادے آدمی کی بات مان لیں، بے شک اس کو کریڈٹ نہ دیں. احتساب سب کا کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احتساب کون کرے گا؟ وہ جو جمہوریت کےنام پر کرپشن کرتے رہے، سرے محل خریدتے اور نیلسن اور نیسکول سے جائیدادیں بناتے، وہ جو کے آگے پیچھے سب کرپٹ ہیں، یا وہ جس کا نعرہ ہے کہ احتساب سب کا. فیصلہ آپ کا!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • اس تحریر میں بہت سی بایئں صحیح ہیں مگر سراج صاحب جب یہ کہتے کہ سب کا احتساب ہونا چاہیے وہ خود اپنی پارٹی کا کیس کمزور کر رہے ہیں کیوں کہ سری اپوزیشن نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ چونکہ پانامہ پپیرس میں وزیر اعظم کے خاندان کا نام ہے اس لئے ایک غیرتمند ار انصاف پسند قوم کی حثیت میں ہمیں ان کا سب سے پہلے احتساب کرنا ہو گا باقی جن لوگوں کے نام ہیں ان کے خلاف حکومت کو proceed کرنا چاہیے اور اگر کہیں غلط کام ہوا ہے تو اس پر سزا بھی ملنی چاہیے.