الطاف حسین کی الیکشن بائیکاٹ کی اپیل کا بائیکاٹ – سید عارف مصطفیٰ

25 سالوں سے لندن میں بیٹھے قوم کا غم اور مفت کے شیرمال کھاتے الطاف حسین اس امر پر بہت خوش ہیں کہ پی ایس 114 میں فاروق ستار کا امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا، جبکہ حقیقت میں ان کی یہ خوشی خود کو بے وقوف بنانے سے زیادہ کچھ نہیں، یعنی ایسا عمل تو بے وقوفی کا آخری درجہ ہے۔ اس حلقے میں‌ تو اپنے دور عروج میں بھی ایک بار کے علاوہ متحدہ ہمیشہ دوسرے نمبر پر ہی آتی رہی ہے تو اب اس دورِ زوال میں بھی وہ بھلا کیا تیر مار لیتے؟ متحدہ کو اپنے پر بہار دور میں ملی اس ایک بار کی کامیابی کی بھی عجب داستان ہے کہ جب یہاں سے رؤف صدیقی معمولی فرق سے کامیاب ہوئے تھے کیونکہ یہ جیت بھی صرف اس وقت ہی ممکن ہوسکی تھی کہ جب اپنی تنظیمی دہشت اور اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاکے متحدہ نے اس حلقے کی 'من پسند' حد بندی کرادی تھی اور جسے بعد میں شدید عوامی احتجاج پر واپس لینا پڑا تھا۔ ممکن ہے کہ الطاف حسین کا یہ تازہ اظہار مسرت اپنی اس خفت و شرمندگی چھپانے کے لیے ہو کہ 25 برس سے لندن بیٹھے ڈوریاں ہلاکے کراچی میں سب کنٹرول میں رکھنے کے عادی الطاف حسین کی سیاسی حیثیت کو بلاشبہ پہلی بار نہایت سخت اور بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ 9 جولائی کو منعقدہ ضمنی الیکشن میں اس حلقے کے عوام نے ان کی ایک التجاء نہیں سنی اور ان کی جانب سے بھکاریوں کے سے انداز میں اس الیکشن کے بائیکاٹ کی گڑا گڑا کے کی جانے والی کئی کئی اپیلوں کے باوجود فاروق ستار والی متحدہ کے امیدوار کامران ٹیسوری کو 18 ہزار سے زائد ووٹ پڑ گئے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے ۔

فاروق ستار کے امیدوار کی دوسرے نمبر کی پوزیشن حاصل کرلینا یقیناً اس لیے بھی غیرمعمولی بات ہے کہ ان کے مقابل وہ حکومتی امیدوار تھا جس کا تعلق اسی حلقے سے ہی ہے اور اس علاقے میں بلوچوں‌ اور سندھیوں کے گوٹھوں‌ کی بڑی آبادیوں کے باعث پی پی پی کا قدیمی مضبوط ووٹ بینک ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں سابق رکن صوبائی اسمبلی اور اس حلقے کے دیرینہ سیاسی 'ہیوی ویٹ' عرفان اللہ مروت کا حمایت کردہ نون لیگی امیدواراکبر گجر بھی خم ٹھونکے میدان میں‌ کھڑا تھا اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء نجیب ہارون بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل تھے اور اور تو اور اس بار تو جماعت اسلامی نے بھی 'کے الیکٹرک' کے خلاف اپنی حالیہ مہم کے بل پر عومی پذیرائی کے نجانے کتنے خوش آئند سپنے دیکھ لیے تھے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے نتائج کچھ اعتبار سے غیرمعمولی اثرات کے حامل ثابت ہوئے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اگرچہ تازہ صورتحال کے مطابق ایم کیوایم پاکستان نے اس نتیجے کو بوگس قرار دے کر الیکشن کمیشن سے ووٹوں‌کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے لیکن یہ یقیناً ان معروف سیاسی حربوں میں‌ سے ایک ہے کہ جو اکثر سیاسی جماعتیں خود کو خبروں میں ‌اِن رکھنے اور اپنے کارکنوں کی ڈھارس بندھائے رکھنے کی ضمن میں اختیار کرتی ہیں۔ ویسے بھی اس علاقے میں اردو بولنے والی آبادی اکثریت میں نہیں ہے اور ایم کیوایم کی حرکتوں سے بیزاری کے اظہار کے طور پر دیگر لسانی اکائیاں یہاں‌ بسنے والے قدیمی بلوچوں اور ہزارہ وال کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   غداروں کی بیٹھک - احسان کوہاٹی

اس سےچند ہی روز قبل دو الگ الگ سمتوں سے اندرونی بغاوت کا سامنا کرتے الطاف حسین نے 'اردو اسپیکنگ' طبقے کو بھڑکانے کے لیے ایک شدید اشتعال انگیز و نہایت جذباتی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا کہ جس میں فاروق ستار کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کو نہایت غلیظ گالیوں سے نوازا تھا۔ پاک سرزمین پارٹی بنانے والے سابق میئر مصطفیٰ کمال پر کیے گئے اپنے احسانات گنواتے ہوئے انہیں احسان فراموش ٹھہرایا تھا اور کافی کچھ خوش بیانی کی گئی تھی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ابتداء میں فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے الطاف حسین سے مکمل بغاوت نہیں کی تھی بلکہ بڑی تباہی سے بچنے کے لیے مصالحت کی راہ اپنائی تھی اور الطاف حسین کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود ان کی شان میں کسی بھی 'گستاخی' سے یکسر اجتناب کیا تھا اور یوں الطاف حسین کے حامیوں کو اپنی مٹھی سے پھسلنے سے روکنے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی تھی کیونکہ وہ اسے ایم کیوایم کی طاقت کی اصل بنیاد اور اساس باور کرتے تھے لیکن جلد ہی الطاف حسین نے اسے اپنی جڑیں کاٹنے کی سازش باور کرتے ہوئے اپنے ہمنوا لوگوں کو ان سے فاصلے پر رہنے کا ہدایت نامہ جاری کردیا تھا اور اس دوران سامنے آتی معروضی صورتحال کی روشنی میں فاروق ستار کو بھی اندازہ ہوچلا تھا کہ اب انہیں لندن سے مزید کوئی قوت میسر نہیں آسکتی بلکہ انہیں الٹا ان کا بوجھ بھی ڈھونا پڑے گا۔ لہٰذا وہ سمجھ گئے کہ اب جو بھی کرنا ہے انہیں خود اپنے ہی بل پر کرنا ہے اور اس ہی عرصے میں چونکہ کام کرنے کی 'آزادی' بھی خاطر خواہ طور پر ان کے منہ بھی لگ گئی تھی چنانچہ اب وہ اس سے دستبردار ہونے اور اپنی مسلسل بے عزتی کراتے پرانے روبوٹ بننے کو بھی تیار نہ تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنی راہ کو بتدریج ارباب لندن کے سائے سے عملاً دور کرنا شروع کردیا تھا اور اب عملی صورتحال یہ ہے کہ یہ اجتنابی رویہ بڑھتے بڑھتے رہنماؤں کی سطح پر تو مکمل دوری کی حد تک جاپہنچا ہے تاہم کارکنوں‌ میں سے بعضوں کے دل اب بھی الطاف حسین کے ساتھ ہی ہیں کیونکہ فاروق ستار دلوں کو لبھانے والے انداز خطابت میں الطاف حسین کے عشر عشیر بھی نہیں ۔

یہاں ایک تازہ معاملے کا ذکر بھی کیا جانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ کراچی میں اپنی گرفت دوبارہ حاصل کرنے اور 2018ء کے الیکشن میں اس کے ثمرات سمیٹنے کے لیے اب الطاف حسین نے بالآخر ایک نئی حکمت ترتیب دے ہی لی ہے جس کے تحت شہری سندھ کے سیاسی میدان میں موجود اپنے حامیوں‌ کو 'وفا پرست' کے سائبان تلے متحرک ہوجانے کا ڈول ڈال دیا گیا ہے اور اپنے 30 برس سے چلتے آرہے مشہور و معروف ٹائٹل 'حق پرست' کو بھی اب اس زعم میں ترک کردیا گیا ہے کہ وہ اب کھل کھلا کے یہاں صاحبان اختیار کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ جہاں کھڑے ہوجائیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن یہ ان کی نری خام خیالی ہے کیونکہ گزشتہ 30 برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے اور ان کے خوش فہمیوں پر مبنی اندازے مسلسل غلط ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں۔ خاص طور پر گزشتہ برس لگایا گیا ان کا یہ اندازہ کے انکی گزشتہ برس 22 اگست کی اشتعال انگیز و باغیانہ تقریر اسٹیبلشمنٹ کو خوفزدہ کرکے اسے ان سے 'نئی ڈیل' کرنے پر مجبور کردے گی لیکن ہوا اس کے قطعی برعکس۔ اب جو رہا سہا بھرم ان کے پاس تھا وہ بھی جاتا رہا اور یوں عرصے سے ان کی احمقانہ و متلون مزاج پالیسیوں سے نالاں ان کے تنظیمی ارکان کو بھی موقع ہاتھ آگیا کہ کہ اب وہ اس نادر موقع سے فائدہ اٹھالیں اور زندہ رہتے ہوئے بھی ان سے دوری اختیار کرسکیں ۔ اسی سبب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو الطاف سے دوری کا گرین سگنل دینے میں مزید دیر نہیں لگائی۔

یہ بھی پڑھیں:   کلثوم نواز فاتح، یاسمین راشد سرخرو – ڈاکٹر شفق حرا

ایک برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اس وقت متحدہ کا پارلیمانی و بلدیاتی ڈھانچہ فاروق ستار کے گروپ کے پاس ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ اور نچلی سطح پر موجود کارکنان کا نیٹ ورک پاک سرزمین پارٹی کے ہاتھوں میں جاچکا ہے ۔ فاروق ستار پر ان کے ساتھی بالعموم غالب دکھائی دیتے ہیں اور اپنے پرانے شکنجے کو کسنے کے لیے الطاف حسین کافی عرصے کی بےعملی کے بعد اب کافی سرگرم ہوگئے ہیں لیکن بظاہر فوری طور پر ان کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ اب بھی الطاف حسین کا پوری طرح انحصار ندیم نصرت پر ہے کہ جنہوں نے اس حد تک اندھا اعتماد حاصل کرلیا ہے کہ بظاہر لندن رابطہ کمیٹی کے باقی ارکان عملاً بیٹھے بٹھائے فارغ کرڈالے ہیں ۔ اب محمد انور، مصطفیٰ عزیزآبادی وغیرہ محض جھلکیاں و بازگشت بنتے جارہے ہیں۔ جس طرح ماضی میں ایک وقت ٹیلی فون آپریٹر کے عہدے سے ترقی کرکے مصطفیٰ کمال منظر نامے پر چھاگئے تھے اب لگتا ہے تاریخ خود کو دہرانے جارہی ہے کیونکہ الطاف حسین کے دوسرے ٹیلیفون آپریٹر یعنی ندیم نصرت بھی اس وقت ان کے معتمد خاص بن چکے ہیں اور کوئی دن دور نہیں کہ ان کے لندن سیکریٹریٹ میں ندیم نصرت کے اس راج پاٹ کے خلاف وہاں اندر سے ایک بڑی بغاوت جنم لے لے۔ ویسے بھی اب ندیم نصرت پی ایس 114 میں بائیکاٹ کی اپیل کا غلط مطالبہ کرانے اور الطاف حسین کو بری طرح ناکام کرانے کے بعد الطاف کے حامی کارکنان کے شدید غم وغصے کا ہدف بنتے جارہے ہیں۔ تاریخی طور پر بات بھی ثابت ہے کہ الطاف حسین اپنا معتمد خاص بن جانے والےفرد کوکام نکلتے ہی ٹھکانے لگانے کے لیے خود بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور ان کے اشارے پر کارکنان کے ہاتھوں اس مقرب خاص کی خاطرخوہ عزت افزائی کا بخوبی انتظام کردیا جاتا ہے لہٰذا پورا امکان ہے کہ الطاف حسین کراچی میں اپنی گرفت مضبوط کرسکے تو پھر اگلے مرحلے میں ندیم نصرت کے بوجھ سے بھی چھٹکارا پانے کی تیاری بھی شروع کردیں گے اور کیا عجب کہ ہم عمران فاروق کے بعد ایک اور نئے 'شہید انقلاب' پر ان کا بلبلاتا سیاپا جلد یا بدیر دیکھ پائیں ۔