خدارا! بس کیجیے - ارشدعلی خان

اب کی دفعہ عید الفطر کچھ عجیب سی گزری ہے. سانحات نے عید کی ساری خوشی کافور کر دی۔ رمضان المبارک کے آخری جمعے یعنی جمعۃ الوداع کو دہشت کے بیوپاریوں نے ایک بار پھر پارا چنار کو لہو لہو کر دیا۔ پاراچنار کی طوری مارکیٹ میں اس روز عام دنوں سے رش اس لیے زیادہ تھا کہ مقامی لوگ یوم القدس ریلی میں شرکت کے بعد پوری طرح منتشر نہیں ہوئے تھے جبکہ افطاری کا وقت ہونے کی وجہ سے لوگ خریداری میں مصروف تھے کہ یکے بہ دیگرے دو بم دھماکے ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق دوسرے دھماکے میں زیادہ جانی نقصان ہوا اور اب تک 100 سے زیادہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں جبکہ 250 تک زخمی ہیں، جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

اسی طرح جمعہ کو ہی کوئٹہ میں آئی جی پولیس کے دفتر کے پاس ایک کار بم دھماکے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد لقمہ اجل بنے۔ ایک اطلاع کے مطابق کار بم دھماکے کا نشانہ آئی جی آفس تھا تاہم جہنم واصل ہونے والے دہشت گرد کو اتنا موقع نہ مل سکا کہ آئی جی آفس کو نشانہ بناتا۔ اسی شام امن کے دشمنوں نے روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں ایک ہوٹل پر افطاری میں مصروف پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

اہل وطن کے لیے صرف رمضان کا آخری جمعہ ہی اندوہناک نہیں تھا بلکہ ایک اور عظیم سانحہ میرے غریب ہم وطنوں کا منتظر تھا جب ہفتے کے دن صبح 6:20 منٹ پر پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں ایک آئل ٹینکر کے اُلٹنے سے بہتے پٹرول کو جمع کرنے والے دیہاتی آگ کی نذر ہوگئے۔ اس عظیم سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 153 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس میں اضافے کا خدشہ ہے. ہسپتال ذرائع کے مطابق 250 سے زائد جھلس جانے والے افراد میں 40 کے قریب ملتان اور لاہور کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم عمران خان دو دن چھٹی پر نہیں تھے : ڈاکٹر شاہد مسعود

اتنے بڑے اور عظیم سانحات کے دوران ہمارے ملک کے مختار کل جناب وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سعودی عرب میں عمرے کی ادائیگی کے بعد عید اپنے خاندان کے ساتھ کرنے کے لیے لندن تشریف لے گئے تاہم سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد انھیں بحالت مجبوری وطن واپسی کرنا پڑی کیونکہ جنوبی پنجاب ہی سہی، مگر بہاولپور کا یہ علاقہ احمد پور شرقیہ جہاں یہ المیہ رونما ہوا، پنجاب ہی کا حصہ ہے اور پنجاب کو نظرانداز کرنے کا خطرہ مسلم لیگ ن کبھی بھی نہیں لے سکتی۔

وزیراعظم لندن سے سیدھے بہاولپور پہنچے جبکہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے عید کی نماز بھی بہاولپور میں ادا کی، اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے وہاں موجود رہے۔ میاں نواز شریف نے سانحہ احمد پور شرقیہ کے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے 20 20 لاکھ روپے امداد کے ساتھ سرکاری نوکریوں کا بھی اعلان کیا (یہ بات ذہین نشین رہنی چاہیے کہ بہاولپور پنجاب کا ایک ضلع ہے اور وہاں سے وزیراعظم کا تعلق اتنا ہی ہے جتنا کسی اور پنجابی باشندے کا)۔ وزیراعظم کی جانب سے سانحے کے متاثرین کے لیے امدادی اعلان ایک احسن قدم ہے، تاہم کیا ہی اچھا ہوتا اگر میاں نواز شریف احمد پور شرقیہ کے بعد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے پارا چنار کا بھی رخ کرتے، کہ نوازشریف بلاشرکت غیرے تمام پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور پاراچنار بھی مملکت خداداد کا ہی حصہ ہے، اور وہاں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے لیے 20 20 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان نہ سہی، صرف ان کی دلجوئی کرتے. واضح رہے کہ پاراچنار میں بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کے لیے صرف تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا ہے. کیا اس لیے پاراچنار میں دہشت کے بیوپاریوں کا شکار بننے والے کسی کی توجہ کے مستحق نہیں کہ وہ پختون ہیں، ورنہ سانحہ پاراچنار سانحہ احمد پور شرقیہ سے قبل رونما ہوا، تاہم وزیراعظم کی جانب سے صرف ایک مذمتی بیان کو کافی سمجھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   چنگ چی کی سوا ری باعث نعمت یا عزت نفس پر چوٹ -افشین فیصل

وزیراعظم کو تو چھوڑیے، جناب صدرمملکت ممنون حسین براہ راست قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹو ہیں، تاہم ان کی جانب سے بھی ابھی تک صرف مذمتی بیان پر ہی اکتفا کیا گیا ہے، بلکہ صدر صاحب کو بھی جانے دیجیےکہ بعض سوشل میڈیاصارفین کے بقول ممنون حسین صاحب صرف 14 اگست، 23 مارچ یا پھر عیدین کی نمازوں کے لیے ہی ایوان صدر سے نکلتے ہیں، ان کے نمائندہ جو درحقیقت قبائلی علاقوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، گورنر خیبرپختونخوا جناب اقبال ظفر جھگڑا صاحب کو بھی ابھی تک پاراچنار کا دورہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔

پارا چنار کے باسی پچھلے تین دن سے دھرنے پر ہیں اور ان کی عید دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزری ہے، تاہم مین سٹریم میڈیا، صوبائی حکومت اور وفاق سمیت کسی کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ پاراچنار کے باسیوں کا مطالبہ صرف اور صرف امن ہے۔ وہ اور کچھ بھی نہیں چاہتے، اور کچھ بھی نہیں مانگتے، صرف اپنے علاقے کے لیے امن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب!
خدارا! مملکت کے خداداد کے باسیوں میں، شہیدوں میں اتنا امتیاز نہ کریں کہ وفاق کے لیے خطرے کا باعث بن جائیں.

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.