سید مودودی سے میرا تعارف - احسن سرفراز

میرا مذہبی پس منظر بریلویت اور سیاسی پیپلزپارٹی کا ہے۔ والد صاحب مرحوم (اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔) شاید ہی کوئی عرس چھوڑا کرتے۔ عرسوں کے لیے تو انھوں نے ایک لمبا چوغہ بھی بنوا رکھا تھا جسے وہ پہن کر عرسوں پر جایا کرتے، جبکہ سیاسی طور پر میرے دادا پیپلز پارٹی زون کے صدر اور انتہائی متحرک جیالے تھے۔ 1988ء الیکشن میں آٹھویں کلاس میں تھا جب مجھے میرے دادا سائیکل پر بٹھا کر پیپلز پارٹی کے جلسوں میں لے کر جاتے، وہیں میں نے اسلم گورداسپوری، جہانگیر بدر، مصطفےٰ قریشی جیسے رہنماؤں کی تقاریر سنیں۔ اپنے گھر پر شاید میں نے محلے میں سب سے اونچا پیپلزپارٹی کا پرچم لہرایا۔

سید مودودی اور جماعت اسلامی سے میرا پہلا تعارف ایک کتاب بنی جس کے مصنف کا تو پتہ نہیں لیکن اس کا عنوان تھا ’’مودودی پر سو اعتراضات‘‘۔ میں نے اپنے دادا سے پوچھا کہ یہ مودودی کون ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ بھٹو کا مخالف تھا۔ بعدازاں جب میں کالج دور میں جمعیت سے متعارف ہوا اور سید مودودی رح کی تحاریر نظروں سے گزریں تو دل کی دنیا بدلتی چلی گئی۔

’’دینیات‘‘ پڑھی تو یوں لگا جیسے آج ہی کلمہ پڑھ کر شعوری طور پر مسلمان ہوا ہوں، میں ہمیشہ سوچتا کہ یہ مذہب، انبیاء، عبادات وغیرہ کی حقیقت کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب اس کتاب نے ایسے دیا کہ تشنگی جاتی رہی اور اطمینان قلب نصیب ہوا۔ اس کے بعد ’’خطبات‘‘ نے بات کو مزید واضح کیا، ایک ایک اسلامی عبادت کا مقصد سمجھ آیا۔ کلمہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کے مقاصد سمجھ آئے۔ کچھ اپنی فیملی ہی کے افراد جو کراچی کے بابر چوہدری کے ذریعے انکار حدیث کے فتنے کا شکار تھے، سے واسطہ پڑا تو ’’سنت کی آئنی حیثیت‘‘ نے اس فتنے کے حوالے سے ذہن کے سارے در واکر دیے۔ قادیانیوں کے حوالے سے جاننا چاہا تو ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ نے بات سمجھا دی۔ جدید لبرلز کے اعتراضات سے واسطہ پڑا تو ’’تنقیحات‘‘ نے ہر اعتراض کا شافی جواب دیا۔ اسلامی ریاست، تہذیب و معیشت کو سمجھنا چاہا تو ’’اسلامی ریاست‘‘، ’’سود‘‘، " اسلامی تہذیب اور اسک ے اصول و مبادی‘‘ وغیرہ جیسی کتب نے ہر چیز سمجھا دی۔ اسلامی دہشت گردی کا غلغلہ بلند ہوا تو ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ نے فلسفہ جہاد سے روشناس کروایا۔ ’’پردہ‘‘ جیسی کتاب نے حیا کا تصور ذہن نشین کروایا۔ ’’قرآن کی چار بنیادی اصتلاحیں‘‘ نے قرآن فہمی کا راستہ کھولا۔ قرآن سمجھنا شروع کیا تو ’’تفہیم القرآن‘‘ نے تو درس قرآن دینے کے قابل بنا ڈالا۔ اسلامی خلافت کا ملوکیت میں بدلنا اور دونوں کے درمیان فرق جاننا چاہا تو ’’خلافت و ملوکیت‘‘ نے اس قضیے کو سمجھنے میں مدد دی۔ (اور اس کتاب کو پڑھ کر صحابہ کرام سے میری محبت میں رتی بھر کمی نہ آئی بلکہ اس دور کی تاریخی حقیقتیں مستند حوالہ جات کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا جو کسی اور جگہ پڑھتا یا سنتا تو خاصہ پریشان ہوتا اور شاید بھٹک بھی جاتا). بزرگان دین کی اسلام کے لیے محنت کا پتہ ’’تجدید و احیائے دین‘‘ سے مزید واضح ہوا۔ فقہی مسائل کی وجہ سے پریشانی ہوئی تو ’’رسائل و مسائل‘‘ نے بہت سے مسائل کا حل بتایا۔ ’’مرتد کی سزا‘‘ نامی کتابچے نے اس حساس مسلے سے روشناس کروایا۔ کشمیر کے حوالے سے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ نے اس مسئلہ کا تاریخی پس منظر واضح کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خالص "جماعتیے" کے جے این یو کے دورے پر تاثرات - تزئین حسن

گویا مولانا کی کتب کے ذریعے میرے ہاتھ وہ کنجی لگ گئی جس نے ذہن کا ہر بند قفل کھول ڈالا، اپنی ابتدائی آمدنی ہی سے مولانا کی تقریباً تمام کتب خرید ڈالیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مولانا کے لٹریچر نے مجھ ناچیز میں عجیب صلاحیت پیدا کر ڈالی، کہ ہر باطل اور مشکوک نظریے سے واسطہ پڑتے ساتھ ہی کان کھڑے ہوجاتے، اور دل و دماغ فوراً بول اٹھتے کہ ہوشیار و خبردار! یہ راستہ شیطان کا راستہ ہے۔

مولانا کے نام ہی سے بدک جانے والے بھائیوں کو میرا مشورہ ہے کہ ایک بار انھیں خود پڑھ کر فیصلہ کریں۔ ان کی جن کتب کا میں نے حوالہ دیا ہے، یہ تقریباً تمام ہی گوگل سرچ کے بعد PDF فارمیٹ میں بھی مل جائیں گی، اگر ان میں کوئی ایسی چیز نظر آئے جو آپ کو قرآن و سنت کے خلاف لگے تو مجھے بھی بتائیں تاکہ جہاں میں غلط ہوں وہاں میں اپنی بھی اصلاح کر سکوں۔ صرف سنی سنائی پر یقین کر لینا اور محض بغض کی بنیاد پر کسی عالم دین کی تضحیک اور اس سے نفرت قطعاً درست عمل نہیں۔

اللہ ہم سب کو دین کی سچی سمجھ اور نبی کریم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.