کیا صرف دعاؤں سے مسئلہ حل ہوگا؟ - اشفاق پرواز

آج مجھے بڑی مدت کے بعد یہ بات یاد آئی کہ ایک دِن جمعہ کی نماز کے بعد امام صاحب نے حاضرین کو مسئلہ فلسطین کا سیاسی پسِ منظر بتایااور مسجدِ اقصی پر یہودِیوں کے تسلط کا ذکر افسوس کے ساتھ کیا۔اس کے بعد امام صاحب نے ایک خصوصی دعا کرائی جس میں مسئلہ فلسطین کے سلسلے میں ’’نصر من اللہ‘‘ کی بات تھی۔

میں سوچ رہاتھا کہ آج بڑے سے بڑے مسئلہ کا حل مذاکروں،پوسٹروں اور نعروں سے کر لیاجاتا ہے اور دعا کر کے اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اسلاف کا ذکر کر کے اللہ کی مدد کی کوئی مثال پیش کر د ی جاتی ہے اور بس!اسلاف کے سامنے بھی مسائل تھے، جنگِ بدر اور جنگِ عہد کے زمانہ میں مسلمانوں کے وقار بلکہ وجود کا ہی سوال پیدا ہو گیا تھا۔انہوں نے بھی صرف تقریروں، نعروں اور دعاؤں پر اپنے مسائل چھوڑ دیے تھے؟ قرآن کے مطابق مجاہدین کی غیبی مدد کی گئی ، لیکن کب ؟ جب وہ ہتھیلی پر سر رکھے میدانِ کارزار میں سر گرم تھے۔ آج ہم تعویز اور دعا کے سہارے امتحان پاس کرنا چاہتے ہیں اور محنت و مطالعے کے ذریعے ضروری استعداد پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دعا ہمارے اسلاف نے بھی کی تھی،دعا کا اپنا ایک اہم،منفرد اور اعلیٰ مقام ہے مگر پہلے عملی میدان میں کچھ کر دکھانا ہے۔

سورہ مائدہ کی آیت 54 دیکھیں:

"اے مومنو !یہودیوں اور عیسایوں کو اپنا دوست اور محافظ نہ بناوّ۔ وہ لوگ ایک دوسرے کے دوست اور محافظ تو ہوسکتے ہیں لیکن تم میں سے جو ان کی طرف رجوع کرتا ہے وہ انہی میں شامل ہے ۔ خدائے تعالٰی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔"

اور پھر اسی سورہ کی آیت 85 جس میں اللہ تعالٰی یہ بات واضح کر دیتے ہیں کہ :

"مومنو کے شدید ترین دشمنوں میں تم یہودیوں اور مشرکین کو پاوّ گے"

اور اس کے بعد سورہ انفال کی آیت 3:

"کفار ایک دوسرے کے محافظ و معاون ہیں۔جب تک تم (مومِنین) ایسا نہیں کرتے(آپس میں ایک دوسرے کے محافظ و معاون نہیں بنتے) دنیا میں عظیم پیمانے پرفتنہ و فساد ہوتا رہے گا۔"

قرآن پاک کے اس انتباہ کی روشنی میں اگر ہم حالات حاضرہ کا جائزہ لیں تو باوجود ایک عظیم ملّت ہونے کے عام اسلامی ممالک کسی نہ کسی روپ میں یہود و نصاریٰ کی امداد و اعانت پر بھروسہ کے بیٹھے ہیں۔عرب ممالک تیل کی وجہ سے امریکہ اور یورپی ممالک کو اپنا ولی و نصیر مان بیٹھے ہیں۔تو پاکستان فوجی امداد کے لیے امریکہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔افغانستان اور عراق جیسے ممالک اپنے اللہ کی رسّی کو مظبوط پکڑے ہوئے اپنی زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ تو دوسرے اسلامی ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کچھ اسلامی ممالک سوشلزم کے جوش میں روس کو اپنی منزل سمجھ بیٹھے ہیں اور روس کی نظریں کہیں اور ہیں۔ اہلِ عرب اپنی دولت کے سہارے سوئٹزرلینڈ کے چشموں کا امپورٹڈ پانی پی رہے ہیں اور اپنے عشرت کدوں میں دادِ عیش دے رہے ہیں۔ عالمِ اسلام ایک دوسرے کے حال سے نا آشنا ہے۔

اسی طرح سے اگر وادی کشمیر کے حالات کا سر سری جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے یہاں 1947ء سے لیکر تادمِ تحریر خون کا بازار نہایت ہی گرم رہا۔ اس خونِ آشام میں جہاں ہزا روں ماوّں اور بہنوں کے عصمت کی دھجیاں اڑا دی گئیں، جہاں ماوّں، بیویوں اور بہنوں کے ہزاروں لختِ جگروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، وہیں نجانے کتنے بے گناہ اور معصوم نوجوانوں کو اپنی ماں کی ممتا کے سامنے دن دیہاڑے اٹھا کر ہمیشہ کے لیے لاپتہ کر دیا گیا۔کشمیر کے کشیدہ حالات سے کوئی بھی نا آشنا نہیں۔اہلِ کشمیر جہاں اللہ کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی مدد و حمایت کا منتظرو طلبگار ہے، وہیں جہاں ایک جانب مسلم اکثریت والا پاکستان خوابِ غفلت میں مبتلا ہے تو دوسری جانب اہلِ عرب اپنے عشرت کدوں میں مست ہیں۔ مسلمان ایک دوسرے کے حالات سے بالکل ہی نا آشنا ہیں یا ایسا ایسا ظاہر کر رہے ہیں۔ ہر کوئی دوسروں کی فکر کرنا اپنی شان کے خلاف محسوس کر رہا ہے۔

بے حسیِ ہے کہ کسی تاز یانے سے ٹوٹتی ہی نہیں غیرت ہے کہ وقت کے سخت تھپیڑوں سے جاگتی ہی نہیں۔

اس صورت حال میں کیا صرف دعاؤں سے مسئلہ حل ہوگا؟؟؟

آہ ! یہ عظیم قوم اور یہ پستی!!!

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.