سیکولرز کے قرب و جوار سے - شاہد یوسف خان

کلین شیو ہوں، موسیقی بھی سنتا ہوں، بالی ووڈ سے لے کر ہالی ووڈ تک سب کی موویز بھی دیکھتا ہوں۔ اگر لالی ووڈ کی پرانی فلمیں بھی مل جائیں تو وہ بھی کبھی کبھار دیکھ لیتا ہوں۔ پینٹ، جینز، دور حاضر کے مطابق مختلف فیشن ایبل ڈریسز جو پاکستانی معاشرے کے مطابق ہوں پہنتا ہوں۔ خواتین کے ساتھ چائے پانی، کھانا پینا اور گپ شپ بھی کرلیتا ہوں، دفاتر میں بھی ساتھ کام کرتے ہیں۔ اپنا کلچرل رقص جسے ہم "جھومر" کہتے ہیں وہ بھی کر لیتا ہوں اور دل چاہتا ہے تو گنگنا بھی لیتا ہوں۔ تمام مذاہب و مسالک کا بھی احترام کرتا ہوں اور خود کسی ایک مسلک کو فالو نہیں کرتا۔ کبھی فرقہ واریت نہیں کی بلکہ تمام مسالک کے اچھے پیارے عزیز دوست اور رشتے دار بھی ہیں۔ تمام کی شادی، غمی اور پریشانی میں بلا امتیاز اور بلا تفریق شرکت کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ انتہائی حساس طبیعت کا حامل ہوں انسان تو کیا کسی جانور کا بھی خون بہتا برداشت نہیں کرسکتا۔ تحریک طالبان، داعش جیسے دیگر سفاک گروہوں سے نفرت کرتا ہوں۔ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں چاہے وہ ملک عزیز میں ہو یا دنیا کے کسی کونے میں۔ خدا کے بنائے انسانوں کوبرابر انسان سمجھتا ہوں، کردار کے لحاظ سے تو ہر کوئی اپنا معیار رکھتا ہے۔
یہ وہ سب خوبیاں جو سیکولرز اور لبرلز کے کرائٹیریا پر پوری اترتی ہیں اور ان سب خوبیوں پر میں بھی پورا اترتا ہوں۔ اس کے باوجود بھی مجھے لبرل یا سیکولر نہیں سمجھا جاتا حالانکہ سیکولرازم اور لبرلزم کے تمام مفکرین، محققین یہی مندرجہ بالا خوبیوں کو ہی لبرلزم یا سیکولرازم کہتے ہیں، لیکن پھر بھی مجھ جیسے طالب علم کو سیکولر اور لبرل نہیں سمجھا جاتا۔ان سب حالات کے باوجود بھی مجھے بعض اوقات لبرل دوستوں کی طرف سے 'مولوی' تک کہا جاتا ہے اور اپنے قافلے میں شامل کرنا تو درکنار قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جاتا۔ میں تو تذبذب کا شکار ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ان سب کی وجوہات جاننے کے لیے سیکولرازم کے مفکرین کے مضامین پڑھنے اور لیکچرز سننے کے علاوہ سوشل میڈیا چھان بھی مارا لیکن صرف مندرجہ بالا خوبیاں رکھنے والے کو ہی سیکولر کہا جاتا ہے پھر مجھے سیکولر کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ جبکہ مولوی برادری بھی مجھ جیسے کلین شیو، دیسی انگریز بنے بندے کو مولوی بھی نہیں سمجھتے۔ البتہ ایک فرق نظر آیا کسی نے دھتکارا نہیں۔ ان حالات میں تو اب "میں کیہڑے پاسے جاواں، میں منجی کتھے ڈھاواں" کی گردش میں آ چکا ہوں۔
سیکولر سوچ ویسے تو بظاہر ایسی ہی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی اصلیت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ان کے قریب اور ان کے پاس کچھ وقت گزارا جائے۔ سیکولر سوچ کے حامل لوگوں کے ساتھ ویسے بھی زندگی میں پالا پڑتا رہتا ہے لیکن کچھ عرصہ تو انتہائی قریب رہا ہوں۔ شاید میرے سرائیکی ہونے کی وجہ سے انہوں نے میرے علاقوں کی محرومی اور پسماندگی سے مجھے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن چند روز بعد ہی دیکھا کہ وہ مجھ سے کافی نالاں ہو چکے ہیں۔ مجھے اپنے درمیان پا کر خوف میں آ گئے، وجہ کیا تھی؟ میری فیس بک پر مختصر تحریریں جو بطور ایک مسلمان لکھتا تھا۔ میرا اپنے کام سے باز نہ آنا اور ان کے چہروں پر لاوا پگھلتے دیکھنا بالآخر مجھے ظاہر کرگیا کہ آپ جیسے بندے کو ساتھ نہیں رکھ سکتے، ورنہ اپنا قبلہ بدلیں۔
جناب قبلہ کیسے بدلوں؟ میں تو مسلمان ہوں مسلمانوں کا قبلہ تو ایک ہوتا ہے؟ نہیں نہیں، قبلے کا مطلب ہے تم جو تحریریں لکھتے ہو وہ بالکل ہی مناسب نہیں ہیں اور آفس میں نماز پڑھنے سے ماحول خراب ہوتا ہے، میرے صاحب نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
"سر! وہ تحریریں تو کبھی بھی آپ کے خلاف نہیں لکھیں "
"تحریریں مذہبی بالکل نہیں ہونی چاہئیں۔ ہمیں لوگوں کو اس مذہب جیسے کام سے نکال کر معاشرتی شعور دینا ہے"۔ باس نے کہا
"سر! معاشرتی شعور تو اسلام سے بڑھ کر کوئی فلسفہ یا مذہب نہیں دے سکتا۔۔۔۔"
"ہمیں مذہب سے نکلنا ہے!!" باس نے کہا
عرض کیا کہ سیکولر سوچ تو برداشت، اظہار رائے اور انفرادی مذہبی آزادی کو سمجھا جاتا ہے۔ خیر ہوا یہ کہ اس گروہ کو چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی اور توکل علی اللہ کر کے آگے نکل چلا اور الحمدللہ منزل کے راستے پہنچ بھی گیا۔
یہ صورتحال کو دیکھ کر مکمل تحقیق کرنے کا موقع میسر آیا کہ بظاہر تو یہ سیکولر سوچ کے حامل جہاں انسانی حقوق کے ساتھ مذہب کو انفرادی معاملہ سمجھتے ہیں لیکن مذہب کو انفرادی طور پر نہ خود اختیار کرتے ہیں اور نہ کسی کو اختیار کرنے دیتے ہیں۔ سیکولرز کے سامنے مسجد جانے والا ہر انسان روایت پرست، جاہل اور مذہبی سمجھا جاتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کی رسومات کو بڑے خوب طریقے سے منا رہے ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہب کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ سیکولرز فلاحی تنظیمیں زکٰوۃ اور افطاریوں کو حلال سمجھتی ہے لیکن اعمال کو غلط۔
دور سے جتنا یہ سیکولر اور لبرل سوچ کے دعوے دار انسانیت پرست اور انسانی حقوق کے علمبردار نظر آتے ہیں، حقیقت بالکل بھی ایسی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کسی مسلمان کے نام سے ہوجائے تو ایک موم بتی لیے ایک فوج ظفر موج نکل کھڑ ہوتی ہے لیکن دنیا کے کسی کونے میں مسلمانوں کو مار دیا جائے یا ٹکڑے کردیا جائے کشمیر، افغانستان، فلسطین، شام میں تاریخی دہشت گردی پر ان کے ہیومن رائٹس سوئے رہتے ہیں۔
پاکستان میں سیکولر سوچ کو پھیلانے کے لیے صرف سیکولر ہی نہیں ہیں بلکہ چند نیم عالم بھی ہیں جو آج کل سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں اور خوب کردار ادا کر رہے ہیں۔
سیکولرز بظاہر انسانی حقوق اور غربت و پسماندگی کے لیے آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کا پہلا مقصد مذہب سے نفرت ہے اور پاکستان میں فقط اسلام کے خلاف نفرت پھیلانا۔