نمرہ احمد کے ناول نمل پر ایک کھٹا میٹھا تبصرہ - نسرین غوری

تقریباً 1500 صفحات کا ناول پڑھنا مذاق نہیں ہے اور یہ کارنامہ ہم انجام دے چکے ہیں۔ اس لیے اب آپ کو اس پر ری ویو پڑھنا ہی پڑے گا۔

ایک تو ناول کے سارے ہی کردار بلیک میلر ہیں۔ چاہے وہ ہیرو پارٹی سے ہوں یا ولن پارٹی سے یا پھر تھرڈ پارٹی سے۔ سب کے سب کمپیوٹر و ہیکنگ کے ماہر، سب کے سب انتہائی طاقتور، بااثر اور روابط والے جن کے اندرون ملک اور بیرون ملک نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین ڈیجیٹل گیجٹس کی لائن لگی ہے، اس لیے دروازوں اور ہتھکڑیوں کے لاکس کھولنا، ایک دوسرے کا ای میل ہیک کرنا، موبائلز بگ کرنا، جام کرنا اور اس کی لوکیشن کو کلون کرنا، ایک دوسرے کا کرمنل ماضی چھان ڈالنا اور یک دوسرے کی خفیہ ویڈیوز بنانا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

دوسری طرف ہر دو پارٹیوں یعنی ہیرو پارٹی اور ولن پارٹی کے افراد اپنے خاندان کے افراد سے بے پناہ محبت بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ ناول کی مین تھیم یہ ہے کہ فیملی از دی موسٹ امپورٹنٹ ان یور لائف۔ فیملی کے لیے کسی بھی حد تک جایا جاسکتا ہے اور فیملی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جانی چاہیے۔ ناول کا نام نمل بھی اسی لیے ہے کہ چیونٹیاں مل کر کام کرتی ہیں ان کا مرنا جینا سب ان کی فیملی کے لیے ہوتا ہے۔ چیونٹی کی کوئی انفرادی زندگی یا مفادات نہیں ہوتے۔

سورہ نمل کو بطور خاص اور قرآن کو عمومی طور پر بہت اچھے طریقے سے بیان کیا گیا ہے، اس کی تفسیری صحت کی گواہی تو کوئی مفسر یا عالم دین ہی دے سکتا ہے لیکن کیونکہ انتساب ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے نام ہے تو گمان ہے کہ تفاسیر ان کے لیکچرز کی مدد سے تیار کی گئی ہونگی۔

نمرہ احمد پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریزی یا جاسوسی ناولز سے آئیڈیاز لے کر ناول لکھتی ہیں۔ لکھتی ہوں گی ان کا ایمان ان کے ساتھ لیکن جس طرح وہ اپنے ناولز میں قرآن کے حوالے شامل کرتی ہیں، اور قارئین کو قرآنی احکامات کی طرف راغب کرتی ہیں اس طرح کسی انگریزی یا جاسوسی ناول میں نہیں ہوتا۔ نمرہ احمد کے ناولز میں مجھے یہی چیز سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ قاری کو اس کے دین اور اللہ کے قریب لاتی ہیں۔

اس ناول میں بھی انہوں نے ہیروئن نمبر تین یا چار کو جس طرح نماز کی طرف رغبت دلائی ہے، بتایا ہے کہ ہر ایک کی 'خمر' یا 'چرس' الگ الگ ہوتی ہے، اور ہر وہ چیز جو آپ کو اپنا عادی کرلے، کسی اور طرف دھیان نہ دینے دے وہ خمر ہی ہوتی ہے اور خمر ہی کی طرح ہر نشہ آور شے حرام ہوتی ہے چاہے وہ کسی سے ان باکس میں بظاہر بے ضرر چیٹ کرنے کا نشہ ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح نمرہ احمد نے اسے نامحرم کے ساتھ ان باکس، ان باکس کھیلنے سے منع کیا ہے۔ اس آئینے میں بہت سے لوگوں کو اپنا چہرہ اور کردار نظر آئے گا اور بہت سی لڑکیوں کو یہ ناول اس بظاہر بے ضرر لیکن تباہ کن راستے پر مزید چلنے سے روک دے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اس "خمر" سے کس طرح اپنا پیچھا چھڑانا ہے۔

ناول کی ساری ہیروئنز اور خواتین مضبوط، پر عزم اور اپنے مقصد کے لیے لڑ جانے والی ہیں گو کہ اس کے تانے بانے میں ایک ڈھیلی ڈھالی 'لو اسٹوری' بھی کہیں کہیں ہے۔ لیکن اس میں روایتی خواتین ڈائجسٹوں والا رومانوی ٹچ ناپید ہے۔ ہیروئن کہیں بھی ہیرو کے نظر بھر کے دیکھ لینے سے لال ٹماٹر نہیں ہوتی، نہ ہی ہیرو زبردستی ہیروئن کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر وہ غلطی سےقریب آہی جائے تو ہیروئن نہ جانے اس مظلوم کا کیا حشر کرے۔

بظاہر یہ ایک سنسنی خیز کرائم اسٹوری ہے لیکن اس میں ایک خاندان ہے۔ درحقیقت، دو خاندان ہیں جو ایک دوسرے سے محبت +نفرت کے رشتے سے جڑے ہیں، خاندانی رشتے ہیں، جذبات و محسوسات ہیں، ایک دوسرے سے غیر مشروط محبت ہے۔ رشتوں کی قدر و قیمت ہے اور دین سے رغبت ہے۔ ایک طرح سے یہ سسپنس ڈائجسٹ اور خواتین ڈائجسٹ کا مرکب ہے۔

1500 صفحات کا ناول لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے، اور وہ بھی اس طرح کہ قاری کو فراق کا ایک لمحہ بھی گراں گزرے اور وہ ہر وقت" پھر کیا ہوا" کی جستجو میں رہے۔ بلکہ ناول ختم ہونے کے دو چار دن بعد تک وہ اسی کے تانے بانے میں گم شد رہے۔ اگر کسی انگریزی ناول سے انسپریشن لے کر بھی اتنے خوبصورت انداز میں قاری کو اپنے ساتھ باندھ کر رکھنے والا 1500 صفحات کا ناول لکھنا، ایک ساتھ کئی کہانیاں چلانا اور انہیں مرکزی کہانی سے مربوط رکھنا بھی ٹیلنٹ نہیں ہے تو پھر ہر دوسرا بندہ ایسا ناول کیوں نہیں لکھ لیتا۔ اب نمرہ احمد کو سنجیدگی سے رائٹرز کی فہرست میں شمار کر لینا چاہیے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے عمیرہ احمد ہی نمرہ احمد کے نام سے ناولز لکھتی ہیں۔ دونوں کے ناولز کا مین تھیم دین اسلام ہی ہوتا ہے۔

خفیہ ایجنسیوں والے غالباً نمرہ احمد کے ناولز نہیں پڑھتے ورنہ وہ انہیں تفتیش کرنے کے لیے ایک بار تو ضرور اٹھا لے جائیں کہ آخر انہیں خفیہ ایجنسیوں کے طریقہ ہائے کار کے بارے میں اتنی باریکیوں کے ساتھ تفصیل سے کیسے پتا ہے؟

اس ناول کو پڑھ کر آپ کو کافی سارا کرمنل پینل کوڈ زبانی یاد ہوجانے کا خدشہ ہے اور وکیلوں کی جرح کرنے اور اس جرح سے بچ نکلنے کے طریقوں سے بھی واقفیت ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اگر آپ کا مستقبل قریب میں کسی قابل دست اندازی ءِ پولیس جرم کرنے کا ارادہ ہے تو پہلی فرصت میں نمل پڑھ ڈالیں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ "ملزم قانون کا چہیتا ہوتا ہے" بشرطیکہ وہ امیر اور بااثر ہو۔ اور اسکی پھپھو یا بھائی شہر کے بہترین وکیل ہوں اور کچھ کچھ شریفانہ قسم کی بلیک میلنگ کے طریقے بھی آپ سیکھ جائیں گے۔

ناول کے ہر کردار کے گلے میں ایک نامعلوم گلٹی تھی جو ہر اہم اور غیر اہم موقعے پر ابھر کر ڈوب جاتی تھی۔ 1500 صفحات کے ناول میں کم از کم 700 بار یہ گلٹی کسی نہ کسے کے گلے میں ڈوبتی ابھرتی رہی ہے۔ اگر آپ کے گلے میں بھی ایسی کوئی گلٹی ہے تو برائے مہربانی ایسے اہم "موقعوں" پر اپنے گلے میں مفلر لپیٹ کر رکھئے گا۔

ہائے بے چارہ احمر شفیع، جیسے ناول میں داخل ہوا تھا ویسے ہی ناول سے رخصت ہوگیا۔

Comments

نسرین غوری

نسرین غوری

نسرین غوری ایک بلاگر ہیں۔ خود کو زمانے سے الگ سمجھتی ہیں۔ ہر معاملے پر ان کی رائے بھی زمانے سے الگ ہی ہوتی ہے۔ جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ آؤٹ اسپوکن کے نام سے ان کے بلاگز یہاں موجود ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • دلچسپ ناول پر بہت ہی دلچسپ تبصرہ ۔۔ گلے کی ڈوبتی ابھرتی گلٹی تو ہم نے نوٹ ہی نہیں کی تھی 🙂

    • بلاشبہ ایک عمدہ کاوش تھی لیکن مجھ کو لگتاہے اس کو غیرضروری طوالت دی گئی ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */