دلیل کو سالگرہ مبارک - بشارت حمید

محترم عامر خاکوانی بھائی سے ایک غائبانہ بلکہ قاریانہ تعلق ان کے ایکسپریس اخبار میں چھپنے والے کالموں کے ذریعے سے قائم ہوا۔ پھر جب وہ دنیا نیوز میں آ گئے تو یہ تعلق ان کے ساتھ ہی ادھر منتقل ہوگیا۔ پچھلے سال جب انہوں نے دلیل ویب سائٹ کے اجراء کا اعلان کیا تو اس وقت بھی یہ خیال میرے ذہن میں نہیں تھا کہ میرے جیسا قاری کبھی کچھ لکھ بھی سکتا ہے اور پھر اگر کبھی لکھے بھی تو اسے شائع کون کرے گا۔

دلیل کی لانچنگ کے چند دن بعد فیس بک کی پوسٹ پر کیے گئے اپنے ایک طویل کمنٹ کو تحریر کی شکل دے کر ایسے ہی بنا سوچے سمجھے دلیل پر بھیج دیا۔ دلیل کی انتظامیہ نے نظر کرم کی اور اس تحریر کو شائع کر دیا، جس پر ایک خوشی کا احساس دل میں پیدا ہوا اور خیال آیا کہ مجھے بھی کچھ لکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے میرے لیے دلیل ایک حوصلہ افزائی کرنے والے استاد اور ایک موٹیویٹر کی حیثیت رکھتی ہے اور میں بجا طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اگر دلیل پر میری پہلی تحریر شائع نہ ہوتی تو مزید لکھنے کا خیال اسی وقت دم توڑ جاتا۔

انھی دنوں استاذہ نیر تاباں کے آرٹیکل نظر سے گزرے اور فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے لکھنے کے بارے میری بہت رہنمائی کی، اگر میں اب چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ لیتا ہوں تو اس میں دلیل کے ساتھ ساتھ نیر تاباں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔

آرٹیکلز کی اشاعت کے حوالے سے میرے ساتھ دلیل کی انتظامیہ کا بہت زیادہ تعاون شامل حال رہا۔ اردو ٹائپنگ اور املا کے لحاظ سے انہوں نے میرے لکھے ہوئے پر بہت زیادہ اعتماد کیا اور میں نے جو بھی لکھ بھیجا، ویسے کا ویسا ہی شائع ہوا۔ اس اعتماد پر میں دلیل ایڈمنز کا بہت شکر گزار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   پیارے نبیﷺ کی سالگرہ - جویریہ یوسف

میری رائے میں دلیل نے بہت حد تک اپنے قیام کے مقاصد کو پورا کیا ہے۔ میرے جیسے بے شمار گمنام لکھاریوں کو ایک مستند پلیٹ فارم مہیا ہوا کہ جس پر محنت کر کے ہر اچھا لکھنے والا اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ دلیل کی ایک اور کامیابی یہ ہے کہ اپنے اوپر غیر جانبداری کا جعلی لیبل چسپاں کرنے کے بجائے بالکل واضح انداز میں دائیں بازو کی نمائندگی کا علم بلند کیا اور اس کا بھرپور خیال رکھا ہے کہ ہمارے معاشرے میں دین کی بنیادی اقدار سے مطابقت رکھنے والی سرگرمیوں کے فروغ میں اپنا کردار کما حقہ ادا کیا جائے، باقی یہ کہ بہتری کی گنجائش تو ہر وقت رہتی ہے اور رہنی بھی چاہیے۔

ایک کام جو میرے خیال سے اس وقت نہیں ہونا چاہیے تھا یا پھر اسے کم سے کم وقت میں مکمل کر لینا چاہیے تھا، وہ دلیل کا شروع کے دنوں میں سرور اور ویب سائٹ لے آوٹ کی تبدیلی میں زیادہ وقت کا صرف کرنا تھا۔ ان دنوں دلیل بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی تھی، لیکن غیر ضروری طور پر ان تبدیلیوں میں زیادہ وقت صرف ہونے کی وجہ سے مقبولیت بھی کم ہوئی اور لکھاریوں کو بھی کچھ مایوسی ہوئی۔ پھر سے دوبارہ اسی رفتار سے لکھنے اور پڑھنے والوں کی توجہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر دلیل ٹیم نے اپنی محنت سے دوبارہ وہ کر دکھایا اور دلیل نے رینکنگ میں ایک مرتبہ پھر پہلی پوزیشن حاصل کی.

بہرحال عامر خاکوانی کے دلیل کی ادارت چھوڑنے کے باوجود مجموعی طور پر دلیل کا میدان میں آنا، مقبولیت حاصل کرنا اور اسے برقرار بھی رکھنا اللہ تعالٰی کی مدد اور سب ساتھیوں کی محنت کا ثمر ہے۔ میری طرف سے دلیل کو سالگرہ کی ڈھیروں مبارکباد، اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالٰی دلیل کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.