تحریک انصاف کی ”لوٹا“ سیاست اور دوسری جماعتیں - بلال ساجد

گاہے خیال ستاتا ہے کہ جو کام تحریک انصاف کر رہی ہے یعنی جیتے ہوئے گھوڑوں کے سہارے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حکومت قائم کرنا، اگر توفیق میسر ہو تو یہی کام جماعت اسلامی بھی کرے گی اور تحریک انصاف سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے اور زیادہ دلائل کے ساتھ کرے گی، لیکن چونکہ اس وقت جماعت اسلامی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ جیتنے والا امیدوار جماعت اسلامی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھے تو ظاہر ہے آپ حسب ضرورت و ذائقہ تحریک انصاف پر تنقید جاری رکھ سکتے ہیں۔

چند ہفتے اُدھر کی بات ہے، دوستوں کی ایک محفل میں اگلے الیکشن کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے بات ہو رہی تھی، عرض کیا کہ پنجاب کی حد تک صورتحال بہت واضح ہے۔ اگر تحریک انصاف 2018ء کے الیکشن سے پہلے ہر حلقے کی سطح پر جیتنے کی منصوبہ بندی نہ کر سکی تو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مسلم لیگ ن اس حوالے سے دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہے۔ خیبر کی حد تک میری ایک سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ اگر الیکشن سے پہلے مسلم لیگ ن، فضل الرحمن، پیپلز پارٹی اور اے این پی (شاید جماعت اسلامی بھی) الیکشن جیتنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکل آتی ہے تو میری ناقص رائے میں تحریک انصاف کے لیے اگلے الیکشن میں خیبر سے جیتنا بھی مشکل ہوگا۔

سوال اٹھا کہ خیبر کی جماعت اسلامی کیا کرے گی؟ میری معلومات اس بارے میں نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن جیسے سائنس کے کچھ بنیادی اصولوں پر سائنس کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے اور انھی اصولوں کو جاننے کی بِنا پر ہم آغا وقار کی پانی سے چلتی گاڑی دیکھ کر بھی انکار کر دیتے ہیں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، کوئی نہ کوئی لوچا ضرور ہے۔ بالکل اُسی طرح سیاسی حرکیات کے بنیادی اصولوں سے واقفیت کی بنیاد پہ عرض کیا کہ جماعت اسلامی کے لیے اکیلے الیکشن میں جانا تو سیاسی موت ہوگی۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ بھی مشکل ہے۔ دو صورتیں ایسی ہیں جن سے جماعت اسلامی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اول، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی صوبائی سطح کا اتحاد بنا کر اگلے الیکشن میں جائیں۔ موجودہ کارکردگی کی بنیاد پہ اگلا الیکشن لڑیں تو دونوں جماعتوں کو فائدہ ہوگا۔ دوم، جماعت اسلامی اور فضل الرحمن کم از کم صوبے کی سطح پہ مذہب کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پہ اتحاد کریں۔ اس کا فائدہ بھی فریقین کو ہوگا!

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

فضل الرحمن کے ساتھ جماعت اسلامی کے اتحاد کا فقرہ درمیان سے اچکتے ہوئے ایک صاحب گویا ہوئے، جماعت اسلامی فضل الرحمن کے ساتھ کِس اصول کے تحت اتحاد کرے گی؟ عرض کیا، وہی جس کے تحت عمران خان تحریک انصاف میں پیپلز پارٹی اور ق لیگ کو بھرے جا رہے ہیں!

میں حیران ہوتا ہوں کہ عمران خان اور فضل الرحمن کے طریقِ سیاست میں کون سا ایسا جوہری فرق ہے جس کی بنیاد پر ہمارے دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور سیاسی حرکیات سے ناواقف جدید پڑھے لکھے طبقے نے ایک کو فرشتہ مان رکھا ہے اور دوسرے کو ابلیس؟ (یہاں فرشتہ و ابلیس کی تقسیم ہر فریق اپنے حساب سے کر سکتا ہے!)

تحریک انصاف اقتدار کی سیاست کر رہی ہے، حکومت بنانے کے لیے سالا کچھ بھی کرے گا کے اصول کو اپنائے ہوئے ہے اور تحریک انصاف کے پہلے پانچ سالہ صوبائی اقتدار میں بھی کرپشن کی اتنی ہی داستانیں پھیل چکی ہیں جتنی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی ہو سکتی ہیں۔ تو ایسے میں تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام میں کون سا ایسا فرق ہے جس کی بنیاد پر ایک سے اتحاد جائز اور دوسرے سے ناجائز ہو جاتا ہے؟

دیکھیں! سیاست اقتدار کا کھیل ہے اور اقتدار نامی پہلوان اسمبلی میں موجود ارکان کی تعداد کا مرہونِ منت ہے۔ ایسے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ بہرحال اسمبلی میں اپنے ممبران کی تعداد بڑھانا ہوگا۔ مسلم لیگ ن بھی یہی کرتی ہے صاحب! آپ خود سوچیں کہ جنرل مشرف کے دور میں جَم کر مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے والے سہیل کمڑیال کے بجائے مشرف کی دہلیز پہ سجدہ ریز کھنڈہ گروپ کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی کوئی دوسری توجیہ بھلا کیا ہوگی؟ تحریک انصاف بھی یہی کرتی ہے ورنہ پچھلے پانچ سال اٹک میں تحریک انصاف کو شب و روز مضبوط کرتے سہیل کمڑیال کے بجائے میجر طاہر صادق کیوں؟ فضل الرحمن اور پیپلز پارٹی بھی یہی کرتے ہیں اور ایم کیو ایم و اے این پی بھی یہی کرتے ہیں!

یہ بھی پڑھیں:   شہباز گل مستعفی، عون چوہدری برطرف

تو سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کرتے ہیں اور ان سب کو عوام کی حمایت بھی حاصل ہے تو جماعت اسلامی کیوں نہ کرے؟ عرض کرتا ہوں کہ جماعت اسلامی کو یہ کرنا چاہیے، ضرور کرنا چاہیے اور تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کرنا چاہیے کیونکہ الیکشن ڈے کی شام ڈھلتے وقت صرف ایک چیز اہم ہوتی ہے۔ آپ جیتے یا ہارے؟ اور یاد رکھیں: فتح کے ہزار باپ اور شکست یتیم ہوتی ہے!

Comments

بلال ساجد

بلال ساجد

بلال ساجد کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ غلام اسحق خان انسٹیٹیوٹ سے انجینئرنگ کی ڈگری کے بعد جنوبی کوریا سے ماسٹرز اور ایم فل کیا۔ کتابیں پڑھنا اور کھانے کھانا پسندیدہ مشاغل اور سائنس و انجینئرنگ کے علاوہ ہر موضوع سے خصوصی شغٖف ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.