لاشعور سے شعور کی طرف پہلا قدم - ام الہدیٰ

کہتے ہیں کہ انسان جب لاشعور کو جان جاتا ہے تو اُسے شعور آجاتا ہے۔ اس ملک کی تاریخ میں پہلی بار بنا کسی رہنما کےاس قوم نے ایسا کوئی قدم اُٹھایا ہے جو کہا جا سکتا ہے کہ یہ بلاشبہ لاشعور سے شعور کی طرف پہلا قدم ہے، کیونکہ عوام نے گلے سے ہجوم کا طوق نکال کر ایک قوم کی طرح سوچا، اپنی اہمیت کو پہچانا اور اور سالہا سال سے چلی آنے والی زیادتی کی روش کے خلاف آواز کی بجائے عملی قدم اُٹھایا۔ ایک کمزور سی اُمید کے ساتھ سب نے اعلان تو کر دیا لیکن یقین کامل سے سب کوسوں دور تھے، کیونکہ سب کے سامنے اس ملک کی ایسی تاریخ موجود تھی جس کا ہر باب بےحسی کی داستان پیش کرتا رہا ہے۔ لیکن شاید اس دفعہ لہو کی حرارت مردہ ضمیروں پر اثرانداز ہو ہی گئی۔ اور مخالفت و حوصلہ شکنی کے الفاظ بھی تندی باد ثابت ہوئے۔ ناانصافی و زیادتی کی پہچان ہوئی اور حق کی آواز بلند ہوئی، اور پھر سب ڈٹ گئے، اور پختہ ارادوں نے ایسے قدم جمائے کہ جو نااُمید تھے حیران رہ گئے، جو مخالف تھے خاموش ہوگئے، اور جو تماشائی تھے وہ ساتھ جڑ گئے۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ، بچپن میں پڑھا جانے والا یہ شعر شاید اب سمجھ گئے تھے۔ تبھی تو سکوت کے پردے چاک ہوئے اور یکجہتی ملت کا راز آشکار ہوا۔

لا شعور سے شعور کی طرف اُٹھنے والے اس ایک قدم نے فرد اور ملت کا فرق واضح کر دیا ہے۔ اپنے حق کی پہچان سے زیادہ دنیا میں کوئی چیز انسان کو دور اندیشی کی نظر نہیں دے سکتی، اور جس دن انسان کو اس نظر کا حصول ہو جائے، وہ ایک فرد کی بجائے ایک قوم کی طرح سوچتا ہے۔ پھر اس کے پیش نظر گھر کی کفالت نہیں قوموں کی امامت ہوتی ہے۔ اُس کی آواز اپنے حق سے پہلے ظلم کے خلاف اُٹھتی ہے۔ پھر وہ خود کی نہیں خودی کی فکر کرتا ہے۔ کیا خوبصورت پیغام ہے قرآن حکیم کا کہ اللہ اُس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا، جسے اپنی حالت کے بدلنے کی فکر نہ ہو. اس ملک کے نوجوانوں نے شاید اب وہ فکر کرنا شروع کر دی ہے، کیونکہ اس فکر سے ہی اس قوم کا مستقبل جڑا ہے۔ اور اگر یہ فکر صحیح راستے پر ہوئی تووہ دور نہیں جب ان شاءاللہ یہ قوم ایک ایسا ملک تعمیر کرے گی جس کی ہاں میں دنیا کی ہاں ہوگی، اور جس کی ناں کو دنیا تسلیم کرے گی، ایسا ملک جہاں لوگوں کو دوسروں کی بجائے اپنی برائی کی فکر ہوگی، جہاں دوسروں تک پپہنچنے کے لیے آغاز خود کی ذات سے ہوگا، جہاں کمزور کو سہارا دینے والے ہاتھ طاقتور پر بھی ہوں گے، جہاں خود سے زیادہ ملت کے معاملات کی فکر ہوگی، ایسا ملک جہاں لوگ دوسروں میں ایمان سے زیادہ اپنے اندر کے فسق کو تلاش کریں گے، جہاں لوگ اپنی سر زمین کے لیے اپنے ذات کے کھو جانے کا ڈر نہ رکھیں گے۔ جہاں تعلیم کا نصاب اور نظام ایک سا ہوگا، جہاں چھوٹے اور معصوم ذہنوں کو جنسی کے بجائے روحانی تعلیم دی جائے گی، جہاں لوگ دین سیکھنے کے لیے فنکاروں اور مسجد کے حجروں کے بجائے لائبریری کا رخ کریں گے، جہاں قرآن حکیم کو ثواب سے زیادہ رہنمائی کے لیے پڑھا جائے گا، جہاں بابرکت مہینے میں ٹی وی پر دین کو کھیل تماشا نہیں بننے دیا جائے گا، جہاں غیرت کے نام پر قتل کی نوبت آنے سے پہلے ہی اصلاح کر دی جائے گی، جہاں بابائے قوم کی تصویر والا کاغذ رشوت زنی کی بجائے زکوٰۃ کے لیے استعمال ہوگا، جہاں سب کے لیے قانون ایک ہوگا، جہاں معیشت کا نظام سود کے بجائے سات آسمانوں سے اوپر والی ذات کا ہوگا، جہاں ہر ایک نظریہ ملت و قوم کے نظریہ کے بعد ہوگا، جہاں سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ نہیں سب سے پہلے لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگایا جائے گا، کیونکہ اسی کلمہ کے لیے ہی تو یہ ملک بنا۔ اور اگر یہ کلمہ ہی نہ ہوا تو اس پاکستان کی کیا اہمیت ہوگی؟

مگر یہ سب اُسی صورت ممکن ہے، اگر ہم اپنے رہنما صحیح چن لیں، ایسے حکمران جن کے دامن صاف ہوں اور جن کے کردار پر کوئی اُنگلی اُٹھانے والا نہ ہو، اور ایسا صرف اسی صورت ممکن ہے اگر ہم ووٹ ڈالتے وقت اپنی اس امانت کا خیال رکھیں، اور یہ امانت ایک امین شخص کو ہی سونپیں، کیونکہ سوال ملک و ملت کی بقا کا ہے، اگر یہ نوجوان مل کر 60 سالہ پرانی فروٹ مافیا سے ٹکر لے سکتے ہیں تو متحد ہو کر اس پورے نظام کو تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ ضرورت صرف ایک درست فیصلے کی ہے، کہ جماعت، شخصیات اور نظریات کے بجائے لا الہ الا اللہ کو ترجیح دی جائے جو سر زمین پاکستان کی بنیاد ہے۔ا ور یہ ادراک کر لیا جائے کہ بنیاد کو نظر انداز کر کے کوئی بھی عمارت تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.