بجٹ - ضیغم قدیر

بجٹ کیا ہے؟ اکثر کو علم نہیں ہوتا لیکن علمائے سیاست کے نزدیک بجٹ اس دستاویز کا نام ہے جس کو پڑھے بغیر اپوزیشن تنقید کا نشانہ بنائے اور حکومتی اراکین تعریفوں کے پل باندھیں، بجٹ کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ اس کے آنے سے پہلے ہی اپوزیشن اسے قبول نہیں کرتی اور حکومتی وزراء اس کو ہزاروں مرتبہ قبول کرلیتے ہیں۔ بعض احباب کے نزدیک بجٹ اس شے کا نام ہے جس کے ذریعے سےتمام اشیاۓ ضروریہ 40 فیصد مہنگی کر کے آدمی کی تنخواہ دس فیصد بڑھا دی جاتی ہے۔
کہتے ہیں کہ ٹھگ اور حکومت کبھی گھاٹے میں نہیں رہتے بلکہ اپنے آپ کو منافع ہی دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت آپ بجٹ اور سیاستدانوں کے بیانات سے حاصل کرسکتے ہیں۔
ہماری اپوزیشن بجٹ پر اس جھگڑالو بیوی کی طرح برتاؤ کرتی ہے جو شوہر کے لاۓ گفٹ کے عام سے شاپر کو دیکھتی ہے، شاپر میں چپھے تحفے کونہیں۔ میں نے سوچا کیوں نہ بجٹ پہ ہی لکھا جاۓ؟ مگر مجھے بجٹ کی تعریف کا پتہ ہی نہیں تھا کیوں کہ یہ بھی ہندی فلموں کی طرح ایک بونگا سا ہارر سین اور ہالی وڈ فلموں کی طرح ایک جاندار ٹوئسٹ رکھتا ہے جو ایک غریب کو ہلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
سو اپنے ابو سے بجٹ کا پوچھا تو وہ کہنے لگے اگر تم سرکاری ملازم ہو اور تمہاری پینشن یا تنخواہ بڑھنی ہے پھر تو اس کا ضرور پوچھو مگر یاد رکھنا بجٹ میں ہمیشہ پہلے خوشی ہوتی ہے، باقی کا بجٹ ڈرامہ غم میں ہی گزرے گا۔ امی سے پوچھا تو کہنے لگیں اپنے ابو کے وعدے یاد کرلو جو انہوں نے ہم سے کیے تھے۔تمہیں بجٹ کی بخوبی سمجھ آجاۓ گئی۔ مطلب کہ بجٹ سے کوئی بھی خوش نہیں(شاید)۔
کہتے ہیں کہ جب وزیر خزانہ بجٹ تقریر پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ ان سکول کے بچوں سی جلدی دیکھاتا ہے جنہیں سبق سناتے ہوۓ کچھ آجاتا ہے اور وہ جلدی جلدی سبق ختم کرتے ہیں اور باقی کی پڑھائی استاد محترم مکمل کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بجٹ میں بھی عوام کو سبق سکھایا جاتا ہے ۔ بيچاری عوام کلاس روم میں ذلیل ہوتی رہتی ہے اور حکومت کچھ کرنے فارن ٹور پہ چلی جاتی ہے!
پاکستان میں نصیبو اور عطااللہ کو سنے بغیر بہت سی جگتیں ماری جاتی ہیں، بالکل اسی طرح بجٹ تقریب والے دن اپوزیشن وزیرخزانہ کوسنے بغیر شیم شیم کے نعرے لگاتی ہے۔ ایک بار بجٹ تقریب میں یہی نعرے سنے تو بے اختیار منہ سے نکل گیا "ابو! کیا ادھر بھی نصیبو آ گئی ہے جو لوگ اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہے ہیں؟"
اس بار بجٹ میں گاڑیاں سستی ہوئی ہیں مطلب کہ ایک غریب جو دووقت کی روٹی نہیں کھا سکتا ایک نئی گاڑی لے سکے گا اور اس بجٹ میں سب سے زیادہ ظلم خواتین پہ ہوا ہے کہ بیوٹی پراڈکٹس مہنگی کر دی گئی ہیں۔ لگتا ہے کہ حکومت حسن کی دشمن ہے یا دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھنا جانتی ہے کیوں کہ بقول آل پاکستان بیوٹیشن اتھارٹی "تم کتنی کریمیں مکاؤ گے ہر گھر سے سو سو ڈبی نکلے گی" ہاں! کریموں سے یاد آیا ایک بار فائزہ بیوٹی کریم کا سیلز مین جو جاننے والا تھا، ملنے آیا اس نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ ضلع نارووال میں فقط دسمبر کے مہینے میں ایک کروڑ کی کریمیں بکی ہیں۔ میں بھی کہوں نارووال میں جنوری میں ہی بہار کیوں آگئی؟
سنا ہے کہ بجٹ سے پہلے ایک سروے کا نتیجہ آیا تھا جس میں بتایا گیا کہ ملک میں غربت کی شرع کم ہوگئی ہے۔ اگر یہ سروے والے اپنے سروے میں یہ دیکھیں کہ آدھے لوگ گرمی میں اور آدھے سردی میں ذلیل ہورہے ہیں تو ان کی رپورٹ میں یہ لکھا آۓ گا کہ ملک کی عوام پرسکون زندگی گزار رہی ہے(سردی+گرمی=نیوٹرل)۔
اس بجٹ میں غریب کا خاص خیال رکھا گیا ہے لیکن کیسے؟ اس پر جے آئی ٹی تشکیل دینی چاہیے۔ ویسے غریب دن بھر ایک ہی کام کی چیز دیکھ سکتا تھا لیکن اب اس کے بننے سنورنے کا مال ہی مہنگا ہوگیا ہے تو غریب کے گھر تو لڑایاں ہی ہونی ہیں۔ البتہ اس منصوبے سے آبادی پہ خاطر خواہ کنٹرول ہو سکے گا۔ خیر، غریب کی تنخواہ میں 1000 روپے اضافہ ہوا ہے جبکہ صدر ممنون کی تنخواہ میں 200، حالانکہ خاموش تو دونوں ہی رہتے ہیں پھر اتنا بڑا فرق کیوں؟
خیر موجودہ بجٹ انتہائی متوازی تھا جس میں عوام کے کام کی کوئی بات نہیں تھی۔ ہاں! اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو وقتی طور پہ خوش ہونے کے لیے اپنی تنخواہ میں اضافے کا بیان ہزاروں دفعہ سن سکتے ہیں مگر یہ مت سنیے گا کہ بیوٹی پراڈکٹس مہنگی ہوگئی ہیں۔
حالانکہ یہ بجٹ ہمیں قطعی قبول نہیں کیوں کہ یہ 'انگریجی' میں ہے جو ہمارے اپوزیشن رہنماؤں کو آتی نہیں اور جن کو قبول ہے وہ بھی اسی اسمبلی کے اراکین ہیں۔۔ ذرا سوچیے!

ٹیگز