خلیج کا بحران اور عوام - محمد عاطف نواز

اسلام کے لفظی معانی سلامتی کے ہیں اور اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے سلامتی اور بھائی چارے کا پیغام ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ "بے شک ایمان والے بھائی بھائی ہیں (اگران کے درمیان تنازع ہو جائے) تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح و صفائی کرا دیا کرو اور اللہ کا تقوی اختیار کرو، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ "(سورۃ الحجرات)

اکیسویں صدی میں دنیا نے جس طرح گلوبل ولیج کی صورت اختیار کرلی ہے اس سے پر امن عالمی معاشرے کے قیام کی ضرورت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ وقت کا تقاضہ تھا کہ مسلم دنیا باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کرتی، لیکن افسوس مسلم ممالک نے حالات کی ضرورت و اہمیت کو بالائے طاق رکھتےہوئے اختلافات کی خلیج وسیع کرنے کو ہی 'سمجھداری' سمجھا ہے۔

یہ ہے قطر، جو حالیہ ہفتوں میں اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے قہر کا شکار ہو رہا ہے۔ اگر ہم نقشے پر سعودی عرب کو دیکھیں تو اس کے مشرق میں صرف 60 کلومیٹر طویل سرحد کا حامل چھوٹا سا جزیرہ نما ملک قطر نظر آئے گا۔ قطر کا کُل رقبہ 11586 مربع کلومیٹر آبادی20، 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے، جس میں سے مقامی آبادی صرف 12 فیصد ہے، باقی تمام غیر ملکی ہیں جو بسلسلہ روزگار قطر میں مقیم ہیں، جن میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ پاکستانی بھی ہیں۔ قطر دنیا میں سب سے زیادہ ایل پی جی بنانے اور برآمد کرنے والا ملک ہے اور اس کا شمار امیر ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔

چند روز قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت چھ ممالک نے اچانک قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ غیر متوقع تو نہیں تھا لیکن اتنی عجلت اور اس شدت کا ہوگا، اس کی توقع نہیں تھی، اس لیے نہ صرف قطری عوام بلکہ دنیا بھر میں اس قطع تعلقی کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا۔ ستم یہ بھی ہوا کہ معاملہ صرف سفارتی تعلقات کے انقطاع تک محدود نہیں رہا، بلکہ سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے قطر کو اپنی فضائی و زمینی حدود استعمال کرنے سے بھی روک دیا۔

تصور کیجیے کہ ایک ایسا ملک جس کی خشکی کی سرحد صرف سعودی عرب سے ملتی ہو اور باقی تین طرف سمندر ہو، یعنی سڑ ک کے راستے وہ 100 فیصد درآمدات کے لیے سعودی عرب کا محتاج ہو اور اکثریتی بحری و فضائی راستے کے لیے وہ سعودی عرب، دوسری طرف بحرین، متحدہ عرب امارات سے استفادہ کرتا ہو، اس کے لیے یہ تمام ممالک خشکی، بحری اور فضائی پابندیاں لگا دیں تو اس ملک کی معاشی، اقتصادی و معاشرتی زندگی کا کیا حال ہوگا؟ قطر میں ڈیری مصنوعات جیسا کہ دودھ، دہی وغیرہ کی زیادہ مقدار سعودی عرب سے ہی درآمد کی جاتی تھی۔ لیکن پابندیوں کی وجہ سے یہ چیزیں وافر مقدار میں موجود نہیں ہیں۔

قطر کی جغرافیائی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے غزہ یاد آرہا ہے، جس کا خشک بارڈر صرف اسرائیل سے ہی ملتا ہے، اور باقی اطراف سمندر ہے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ یہ اسرائیل اور فلسطین کی جنگ نہیں، بلکہ مسلم ہمسایہ ریاستوں کے درمیان معاملات ہیں۔ مسلمان اکثریتی آبادی کا معاشی و اقتصادی بائیکاٹ کرنا ہرگز بھی عقلمندی یا انسانیت نہیں کہلائے گا۔ اگر قطری حکومت نے سفارتی و عالمی قوانین کے برخلاف اقدامات کیے ہیں تو اس کا مطلب نہیں کہ قطر میں موجود 20، 30 لاکھ سے زائد آبادی کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جائے۔ قطر کے جرائم میں سے ایک "جرم" ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے متحدہ عرب امارات میں ایرانی عوام کی ہزاروں کاروباری کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔

حرمین الشریفین کی نسبت سے سعودی عرب کو مسلم اُمہ میں بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن وہ اجارہ داری کی جنگ میں امریکا اور دوسرے ممالک کے ہاتھوں کھیل رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا خود اعتراف کیا ہے کہ قطر کے معاملے میں انہوں نے ریاض سمٹ کے موقع پر سعودی حکومت سے اقدامات کا کہا تھا، جس کے ردعمل کے طور پر یہ سفارتی و معاشی بائیکاٹ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ کی ٹویٹس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ قطر کا بحران جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ کیا مسلم دنیا نے کویت، عراق، یمن، شام، ایران، افغانستان، لیبیا، مصر کے ماضی قریب و بعید کے حالات و واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا؟ کیا بڑے اسلامی ممالک امریکا کے ساتھ مل کر کُرہ ارض پر ایک اور مسلمان ملک کو آگ اور خون میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اسلام کا نام لینے والے، مملکت اسلامیہ کہلوانے اور اس پر اظہارِ تفاخر کرنے والی ریاستیں اسرائیل جیسا کردار ادا کرنے سے اجتناب کریں۔ مسلم دنیا کو فرقہ وارانہ یا علاقائی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنے اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

تنازعات کا حل چہار طرفہ پابندیوں اور بزورِ قوت محال ہے۔ اقوامِ عالم کو اسلام کے نام پر مذاکرات، برداشت، بھائی چارے، نیک سلوک کا درس دینے والے اسلامی ممالک خود اس پر کتنے عمل پیرا ہے، یہ معاملات ہر خاص و عام کی سمجھ کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان میں جو علمائے کرام اور راہنما سعودی عرب کی اسلامی اقدار اور اہمیت کی مالا جپتے نظر آتے ہیں، وہ اپنی مصلحتوں کی وجہ سے خاموش ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان اور ترکی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اہم ممالک ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے معاملات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی آشیر باد سے ہٹ کر امن اور بھائی چارے کی طرف مائل ہوں۔