تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو - نسرین غوری

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاندان، محلہ، ہمسائیگی اور برادری کی اہمیت ابھی تک موجود ہے۔ کوئی ایک خاندان بھی سب سے کٹ کر الگ تھلگ ہوکر نہیں رہ سکتا۔ جہاں ایک گھر میں پکے کھانے کی خوشبو کو ہم دوسرے کے گھر جانے سے نہیں روک سکتے وہاں ہم ایک گھر کی رسوائی کو دوسرے کے گھروں تک پھیلنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟

ایک شادی کے گھر میں کھاتے پیتے گھرانے کی ادھیڑ عمر خاتون سب سے الگ تھلگ پلنگ پر بیٹھی تھیں۔ میزبان خواتین سمیت کوئی بھی ان کی طرف متوجہ یا مخاطب نہ ہوتا تھا۔ مہمانوں میں سے ایک خاتون کو ان کا اس طرح الگ تھلگ بیٹھنا عجیب سا لگا۔ انہوں نے خاتون سے سلام دعا کے بعد دریافت کیا کہ وہ سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں؟ خاتون نے جواب دیا کہ "شاید آپ مجھے نہیں جانتیں، میں فلاں کی فلاں بیٹی ہوں جس نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی"۔ یہی وجہ ہے لوگ ان خاتون کے ساتھ میل جول زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی برسوں پہلے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی، اور اب ان کے اپنے بچے شادی کے لائق تھے۔ اس واقعے کو برسوں گزر گئے، والدین نے شاید ان کا گناہ معاف کردیا تھا مگر معاشرے نے انہیں اب بھی معاف نہیں کیا تھا۔ برادری کو اب بھی یاد تھا کہ انہوں نے برادری کا قانون توڑا تھا۔ ان کی اولاد کے لیے برادری کا کوئی فرد رشتہ دینے کو تیار نہیں تھا۔

چند برس پہلے کراچی میں ایک نوجوان لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر (وہی جسے اردو میں آشنا کہتے ہیں تو بہت معیوب لگتا ہے لیکن انگریزی میں اس کی معیوبیت، محبوبیت میں بدل جاتی ہے) اپنے والدین کو ذبح کردیا تھا۔ کئی سال تک اس کا کیس عدالت میں چلا اور بالآخر اسے عمر قید ہوگئی۔

ایک شادی شدہ 35 سالہ عورت، دو بچوں کی ماں، جس کی بیٹی خود دو سال بعد شادی کی عمر کی ہوجائے گی اور جس کی چھ چھوٹی بہنیں ابھی شادی کی عمر کو پہنچ رہی ہیں، موبائل فون اور فیس بک پر کسی سے افئیر چلانے کے بعد گھر سے بھاگ کر کراچی آگئی اور اسی شخص کے ساتھ اس کے گھر پر رہ رہی ہے۔ اس نے عدالت میں شوہر پر جھوٹے سچے الزام لگا کر خلع کا مقدمہ بھی دائر کردیا ہے۔ اس کا باپ میرے سامنے بیٹھا اپنی بیٹی کے کیے پر پردہ ڈالنے کی کوشش بھی کررہا تھا اور ساتھ اس کے لیے فکر مند بھی تھا کہ کسی طرح میں اس سے رابطہ کر کے اسے سمجھا بجھا کر گھر واپس آنے پر رضامند کرلوں۔ چند سال پہلے جو بندہ لمبا چوڑا، سیاہ بال، کلین شیوہوتا تھا اور جس کے چہرے پر ہر وقت ایک مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی آج میرے سامنے شکن آلود لباس، سفید بال، سفید بڑھی ہوئی داڑھی میں پریشان حال بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے اس کی مزید چھ بیٹیوں کا تاریک مستقبل بھی تھا جسے بچانے کے لیے وہ میرے تعاون کا طلبگار تھا۔ اب اگر اس خاتون کا شوہر یا باپ یا بھائی اسے قتل کر ڈالیں تو ایک دنیا اس کی حمایت میں، اس کے قاتل کی مذمت میں فصلی بٹیروں کی طرح نکل آئے گی۔ این جی اوز شخصی آزادی اور انسانی حقوق کے حق میں بیانات دیں گی، موم بتی مافیا اس کی تصویر سامنے رکھ کر چراغ جلائے گی، اخباروں میں تصاویر شائع ہوں گی اور کچھ دن بعد کسی نئے اسکینڈل کے ساتھ یہ ساری مافیائیں ایک نیا واویلا کرنے چل پڑیں گی۔

ہمارے معاشرے کی بُنت ایسی ہے کہ یہاں کسی کی بیٹی یا بہن یا بیوی کے اس طرح کسی کے ساتھ گھر سے بھاگ جانے پر اس گھر کے مردوں کو ساری برادری اور محلے کے سامنے سر نیچا کر کے زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ جہاں اگر بڑی بہن کو صرف طلاق ہوجائے تو چھوٹی بہنوں کے رشتوں کا کال پڑ جاتا ہے، کجا بڑی بہن گھرسے بھاگ جائے وہ بھی شادی کے اتنے سالوں بعد۔ ۔

مذکورہ خاتون نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا ہوگا کہ اس کے اقدام کے بعد اس کی بہنوں کا کیا ہوگا؟ اس کی اپنی بیٹی کو بیاہنے کون آئے گا؟ انہیں ساری عمر اس بات کا طعنہ سننا پڑے گا، بلکہ یہ ان کا تعارف بن جائے گا، کہ یہ اس فلاں خاتون کی بیٹی یا بہن ہے جو فلاں کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ اس کی فیملی کو برادری میں اور محلے میں عظیم ذلت کا سامنا کرنے پڑے گا۔ کیا یہ اس پوری فیملی کا سماجی قتل یا سماجی ریپ نہیں ہے جو اس خاتون کے ہاتھوں ہوا؟

جب کسی ناخواندہ خاندان یا دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والی پہلی تعلیم یافتہ لڑکی یا
پہلی نوکری پیشہ کوئی لڑکی اپنی زندگی کے ایسے فیصلے خود کرنے لگتی ہے تو وہ اپنے پیچھے آنے والی بے شمار لڑکیوں پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کر آتی ہے۔ کیا ایسی بیٹیوں اور ان کو سپورٹ کرنے والی این جی اوز نے ان خاندانوں اور پیچھے رہ جانے والی بہنوں اور خاندان کی دیگر لڑکیوں کے بارے میں سوچا ہے کہ ان کا یہ ایک غلط قدم ان کے پیچھے آنے والی کتنی ہی لڑکیوں کی زندگی تباہ کرسکتا ہے، ان پر تعلیم، ترقی اور بعض اوقات تو زندگی کے دروازے بھی بند کرسکتا ہے۔

کیا ان خاندانوں کے سماجی قتل یا سماجی ریپ کے لیے اس معاشرے میں کوئی انصاف ہے؟ کیا ایسے قاتلوں کے لیے کوئی سزا ہے؟ کیا ان خاندانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے کوئی ادارہ ہے؟ کیا ان کے حقوق کے لیے کوئی این جی او آواز اٹھائے گی؟ گھر سے بھاگ کر شادی کرلینے والی کے تو 'انسانی حقوق' ہوتے ہیں لیکن پیچھے جن کی زندگیاں تباہ ہوتیں ہیں ان کے کوئی حقوق نہیں ہوتے، وہ تو شاید انسان بھی نہیں ہوتے۔

Comments

نسرین غوری

نسرین غوری

نسرین غوری ایک بلاگر ہیں۔ خود کو زمانے سے الگ سمجھتی ہیں۔ ہر معاملے پر ان کی رائے بھی زمانے سے الگ ہی ہوتی ہے۔ جس سے کسی کا بھی متفق ہونا ضروری نہیں۔ آؤٹ اسپوکن کے نام سے ان کے بلاگز یہاں موجود ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */