روایت پسندوں پر ”تلبیسانہ تجدد“ کا الزام - محمد زاہد صدیق مغل

ایک اہل علم استدلال فرماتے ہیں کہ: ”فقہی روایت میں بعض دفعہ یوں ہوتا ہے کہ متقدمین ایک مسئلے میں نصوص کو محتمل مان کر اجتہادی طور پر اضافی وجوہ سے کسی پہلو کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی رائے عمومی قبولیت حاصل کر لیتی ہے تو متاخرین اختلافی رائے کی گنجایش کو ختم کرنے کے لیے نص سے مستنبط نکات کو بھی منطوق اور صریح کا درجہ دینے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اس کی معروف مثالوں میں تین طلاقوں کے یک بارگی وقوع کو قرآن کی آیت کا مدلول اور شرب خمر کی سزا کو حد قرار دینے کے مسائل شامل ہیں۔“

اس استدلال کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرلیا گیا ہے کہ یہ طریقہ کار متجددین کی طرز پر نصوص کی اوپن اینڈڈ تشریح ہے، بس فرق یہ ہے کہ متجددین یہ کام اخلاقی جرات کے ساتھ کرتے ہیں جبکہ روایت پسند تلبیس کے پردوں میں۔ یعنی روایت کے نام پر ایک ایسی pseudo-tradition کو پروان چڑھایا جا رہا ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔

تبصرہ:
یہ طرز عمل روایت پسندی کے ساتھ تضاد کس طور پر ہے؟ اس کا مطلب یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ صحابہ کے ان فیصلوں کے پس پشت نصوص کو واضح کیا جائے۔ جب یہ کہا جا رہا ہے کہ ”صحابہ کے فیصلے استنباطی یا قیاسی ہوتے ہیں“ تو اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ صحابہ کے فیصلے الل ٹپ ہوتے تھے یا یہ قیاس یا استنباط وغیرہ کسی نص پر مبنی ہوتا تھا؟ پہلی صورت ظاہر ہے غلط ہے اور دوسری صورت میں بات وہی ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ اگر مسئلہ طلاق میں حضرت عمر کے کسی فیصلے کے پس پشت نصوص سے استدلال کیا جائے تو اس میں روایت پسندی کا اصول کیسے ٹوٹا؟ بلکہ یہ طرز عمل تو عین اس رویے کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ یہاں کسی معاملے کو حل کرنے کے لیے تیرہ سو سال بعد کی کسی ”علمی دریافت“ کو نہیں بلکہ عین صحابہ کے فہم و فیصلوں کو بنیاد بنا کر نصوص کو سمجھا اور مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ آخر اس طرز عمل کو متجددین کے طرز پر نصوص کی open ended تشریح کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے؟

پھر ان کا فرمانا ہے کہ ”روایت پسند یہ روش (یعنی نصوص کی تشریح) روایتی مؤقف کی ’تائید‘ کے لیے اختیار کرتے ہیں اور ’متجددین‘ انھیں ’چیلنج‘ کرنے' کے لیے“۔ جناب یہی تو بنیادی فرق ہے تجدد اور روایت پسندی کا اور آپ اسے گویا سائیڈ لائن کی چیز قرار دے رہے ہیں۔ تجدید اور تجدد میں یہی تو فرق ہے کہ ایک عمل میں نصوص کی طرف روایت کو سامنے رکھتے ہوئے متوجہ ہوا جاتا ہے اور دوسرے میں انہیں رد کرکے۔ آپ کے مفروضے کا مطلب گویا یہ ہے کہ روایت پسند کبھی نصوص کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہے، تجدید کا عمل تو بدلتے ہوئے احوال میں جاری رہتا ہے اور اس کا مقصد بدلے ہوئے حالات میں نصوص کی بنیاد پر روایت کا احیاء ہوتا ہے نہ کہ ان کا رد۔ الغرض جس مفروضے کو بنیاد بنا کر روایت پسندوں پر ”تلبیسانہ تجدد“ کا فتوی لگایا جا رہا ہے وہ مفروضہ ہی غلط ہے۔

اب رہی یہ بات کہ جب کسی نتیجے کو براہ راست نص کا نتیجہ قرار دیا تو گویا اس کے بعد وہ محتمل و اجتہادی سے نکل کر حتمی ہوگیا، تو یہ بات بھی غلط ہے کیونکہ اس میں پھر یہ دیکھا جائے گا کہ نص سے کیا جانے والا استدلال کس درجے کا ہے، کیونکہ یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ یہ جنہیں آپ کے کہنے کے مطابق ”براہ راست منصوص“ کہا جاتا ہے، اختلاف تو ان میں بھی ہوتا ہے۔ نصوص کے مختلف معانی سے اخذ کردہ اجتہادی و مختلف فیہ مسائل بھی بہرحال ”بیان“ کی سطح پر منصوص ہی سمجھے جاتے ہیں۔ تو اس میں ایسی کیا بات ہے جسے pseudo-tradition یا تلبیس کا نام دیا جاسکے؟ کوئی تجدد کو ”اخلاقی جرات“ کے ساتھ برتنا چاہتا ہے ضرور برتے، مگر اس کے لیے یہ ضروری تو نہیں کہ جو ایسا نہیں کر رہے انہیں بھی اس ”اخلاقی جرات“ میں شریک کیا جائے تاکہ عوام کو یہی لگے کہ ”صرف ہم ہی نہیں یہاں سب کرپٹ ہیں“۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.