کلبھوشن یادیو اور عالمی عدالت کی بے رخی ۔ علی عبداللہ

ایران-پاکستان سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار ہونے والے بھارتی بحریہ کے افسر اور جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت نے آرمی ایکٹ 1952ء سیکشن 59 اور سیکرٹ ایکٹ 1923ء سیکشن 3 کے تحت پھانسی کی سزا سنائی۔ بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ کو پاکستان میں غیر قانونی داخلے اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر یہ سزا سنائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا تھا۔ ابتداء میں ہندوستان نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے بھارتی پاسپورٹ اور دیگر شواہد، جن میں کلبھوشن کا اعترافی ویڈیو بیان بھی شامل تھا، سامنے لائے جانے پر بھارت نے مزید مزاحمت کی اور 10 مئی کو اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔ جس کی باقاعدہ سماعت کے بعد آج بروز 18 مئی عالمی عدالت انصاف نے عارضی طور پر پاکستان کو کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی عدالت کے صدر رونی ابراہم نے پاکستانی حکومت کو جلد از جلد اس پر عملدرآمد کرنے اور اس کی رپورٹ ٹریبیونل کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس فیصلے نے عالمی عدالت انصاف کے طریقہ انصاف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ تمام شواہد اور ثبوت ہونے کے باوجود عالمی عدالت کا یہ رویہ حیران کن ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عالمی عدالت تمام شواہد کو مد نظر رکھ کر مکمل فیصلہ سناتی یا پھر ویانا کنونشن کے تحت کیس خارج کر دیتی لیکن اس فیصلے سے واضح ہو رہا ہے کہ بھارت عالمی عدالت انصاف پر بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی بیرسٹر خاور قریشی کے مطابق ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالت کا دائرہ کار محدود ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور واضح ہو گیا ہے کہ بھارت دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کلبھوشن کو دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی جاسوس پکڑا گیا ہو اس سے قبل کئی بھارتی جاسوس پکڑے جا چکے ہیں جن کی اکثریت جیل میں ہی فوت ہوئی یا پھر ان میں سے کچھ کو رہا کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 1946ء میں قائم ہونے والی عالمی عدالت انصاف جو کہ نیدر لینڈ کے شہر ہیگ میں واقع ہے کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کرنا اور انہیں قبول کرنا ہر ملک کے لیے لازم نہیں ہے۔ عالمی طور پر اس عدالت کے اکثر و بیشتر فیصلوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکا کی جانب سے جرمن باشندہ کو سنائی جانے والی سزائے موت کا کیس جرمن حکام نے عالمی عدالت میں پیش کیا تھا، جس پر عالمی عدالت نے فیصلہ جرمنی کے حق میں دیا مگر امریکی حکام نے اسے نظر انداز کر کے جرمن باشندے کو سزائے موت دی تھی۔
آخری بار پاکستان اور ہندوستان 1999ء میں عالمی عدالت انصاف میں گئے تھے جب بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان نیوی کا جہاز مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعہ میں 16 افراد کی ہلاکت بھی ہوئی تھی لیکن عالمی عدالت نے یہ کیس سماعت کے بغیر ہی خارج کر دیا گیا تھا۔ انڈین سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے سیکرٹری جنرل نرندرا سنگھ کے مطابق ہندوستان کا کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں اٹھانا عقلمندانہ اقدام نہیں ہے۔ کیونکہ 1999ء میں خود ہندوستان نے عالمی عدالت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تمام ممالک جو کامن ویلتھ آف نیشنز کے ممبر ہیں یا رہ چکے ہیں ان کے حکومتی تنازعات عالمی عدالت سننے کی مجاز نہیں ہے۔ لہٰذا اگر فیصلہ بھارت کے حق میں بھی ہو تب بھی ہر حکومت اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کیس کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
لہٰذا پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ بغیرکسی بیرونی دباؤ کے تمام واضح ثبوت اور شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا قدم اٹھائے جس سے ملکی سلامتی اور خطہ میں امن کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔ اور نہ ہی آئیندہ کوئی ملک اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کر سکے۔ اگر کلبھوشن کسی دباؤ کے تحت رہائی پالیتا ہے تو یہ بات یقینی ہو جائے گی کہ پاکستانی حکومت دہشت گردی کے سامنے بے بس ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کے معاملے میں کمزور ہے۔ اور آنے والے وقتوں میں کئی کلبھوشن، سربجیت، کشمیر سنگھ اور رام راج جیسے لوگ ملکی امن و امن اور سلامتی کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com