چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے؟ - حامد کمال الدین

سلسلۂ مضامین: ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 4

عالم اسلام میں جو کچھ ’بڑے سائز‘ کے ملک پائے جاتے ہیں یا کچھ مضبوط فوجوں یا اہم سٹرٹیجک حیثیت کی مالک ریاستیں ہیں، ان کے ساتھ دشمن کی بےرحمی پچھلے سات عشروں کے دوران ایک حد سے نہیں بڑھ پائی... تو اس کی وجہ دشمن کی ایک مجبوری تھی جس کا نام ہے ’سردجنگ‘۔ یہ وہ مجبوری ہے جس نے نصف صدی تک مغربی بلاک کو خطرۂ موت کی سولی پر لٹکائے رکھا اور جس کے باعث مغربی بلاک آپ کے پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب ہی کیا ’افغان جہاد‘ کی بلائیں لینے پر مجبور ہوا جا رہا تھا بلکہ اس میں اپنی بقاء دیکھنے لگا تھا۔ سو اس کےلیے تو دعائیں دیجیے ’سرد جنگ‘ کو! البتہ یہ مت سمجھیے کہ یہ بڑی بڑی مسلم اکائیاں اپنی اِس ’اسلام سے دُور‘ حالت میں بھی چلیں ان کو قبول تو ہیں۔ ہرگز نہیں ۔

تیسری دنیا میں ’’آزادیوں ‘‘ کا جو ایک فنامنا بیسویں صدی کے وسط میں دیکھا گیا اور بعدازاں چند مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرجانے کی بھی جو ایک صورت بنتی چلی گئی، اس کا دراصل ایک پس منظر ہے: بیسویں صدی یعنی nineteen hundreds کا نصفِ اول دو ’’عالمی جنگوں ‘‘ اور نصفِ دوم پانچ عشروں پر محیط ایک خونخوار گلوبل ’’سرد جنگ‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل استعمار کے شکنجے میں پوری طرح آچکے اور اب بظاہر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے ’’قابو‘‘ عالم اسلام کی گردن چھڑوانے اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھرپور موقع دینے کےلیے ایک خالص خدائی تدبیر تھی؛ اس پر شکر کریں تو صرف خدا کا...

مغربی قوتوں کی عالم اسلام پر ایک خونخوار چڑھائی جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہوئی، بیسویں صدی میں یکلخت پسپا ہوتی ہے، بلکہ ’آزادیوں ‘ کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے، تو اس سے ان قوتوں کی ’شرافت‘ کے بارے میں کوئی دھوکہ نہ کھانا چاہیے۔ وہ شکار جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مارا گیا تھا، اُس کو تو ایسے مزے لےلے کر کھایا جانا تھا کہ الامان والحفیظ۔ ’کالج یونیورسٹیاں‘ بناتے اور ملکہ وکٹوریہ کے در کو پہنچانے والی ’ریل‘ بچھاتے کچھ دیر لگ گئی تو اس لیے کہ یہاں جلدی ہی کسی بات کی نہیں تھی! جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہیے تھیں؛ اور ابھی تو صرف ’انفراسٹرکچر‘ ڈالا جا رہا تھا! یعنی تسلی سے یہاں بسنا اور سیر ہو کر کھانا تھا! لیکن کیا دیکھتے ہیں ، چند ہی عشروں میں (بیسویں صدی nineteen hundreds کا آغاز) ’’عالمی جنگوں ‘‘ کا ایک ہولناک کمرتوڑ عذاب (مَن عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ کے مصداق) مسلمانوں کے سینے پر چڑھی بیٹھی استعماری قوتوں کے عین سر پر آپہنچا (قُلْ هُوَ الْقَادِرُعَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ) اور تھوڑے عرصے میں غاصبوں کی کمر توڑ ڈالی۔ اتنی سیانی قومیں خدائی تدبیر کے آگے یوں بےبس؛ اپنے ہاتھ سے (تیسری دنیا کے جذباتی ’فرقوں ‘ کی طرح) ایک دوسرے کا یوں گلا کاٹتی چلی گئیں کہ سارا عالمی سیناریو ہی بدل کر رہ گیا اور وہ ٹوٹی کمر کے ساتھ ’فی الوقت کےلیے‘ شکار کی جان چھوڑ، شرافت و انسانیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے گھر سدھار گئیں ؛ اور اپنے بڑھاپے کا اندازہ کر کے ’حقوقِ انسانی‘ کا وِرد کرنے لگیں ۔ دنوں میں ’یو۔این‘ کھڑی کی گئی۔ بقیہ کہانی پھر سرد جنگ نے پُر کی، جس کی تفصیلات ہمارے سامنے ہیں ، اور جس کے بطن سے خدا نے ہمارا عالمی جہاد برآمد کرا ڈالا، جوکہ ابھی سرے نہ لگا تھا کہ شمال مغربی برصغیر کی ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک مسلم قوم کو دنیا ’’نیوکلیئر پاور‘‘ کے طور پر دیکھ رہی تھی!

اتنا ڈراؤنا خواب تو عالمِ صلیب کے یہاں پچھلی تین صدیوں سے کبھی نہ دیکھا گیا ہو گا! مسلمانوں کا ’’عالمی جہاد‘‘ اور مسلمانوں کا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ خدائی تقدیر کے کچھ خصوصی نشان ہیں ، جن کو محض ’اسباب‘ کے تحت بیان کرنا ہم اپنے لیے خاصا دشوار پاتے ہیں ۔ (دونوں ، اپنی الگ الگ حیثیت میں __ ایک دُوررَس طور پر __ ’عالمی توازن‘ کو اس کی اوقات پر لانے کا نقطۂ ابتداء، ان شاءاللہ وبفضلہٖ تعالیٰ)۔

ان دونوں (عالمی جہاد کا سامنے آنا اور نیوکلیئر پاکستان کا ظہور) کی تفسیر ( explanation )’سرد جنگ کے فراہم کردہ مواقع‘ کے سوا کسی چیز سے ممکن نہیں ؛ اور ’سرد جنگ‘ اپنی پیش رَو ’عالمی جنگوں ‘ کی طرح ایک خاص خدائی تدبیر؛ جس نے ’سیانی‘ قوموں کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

حق یہ ہے کہ ہمارا ’’عالمی جہاد‘‘ اور ہمارا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ (مجموعی طور پر) سرد جنگ کے بطن سے برآمد ہونے والا اتنا ہی بڑا ایک واقعہ ہے جتنا کہ عالمی جنگوں کے بطن سے برآمد ہونے والا عالم اسلام کی تابڑتوڑ ’آزادیوں ‘ ایسا ایک بڑا تاریخی واقعہ۔

پھر اس سے کچھ ہی دیر بعد تقدیر کے بطن سے ایک اور واقعہ ایسا رونما ہوا جو کسی کے سان گمان میں تھا اور نہ آ سکتا تھا۔ اِس واقعہ کو بھی محض ’اسباب‘ کی بنیاد پر تفسیر ( explain) نہیں کیا جاسکتا؛ اور یہ تھا ’اتاترک کے ترکی‘ کا منظر سے ہٹتے اور اس کی جگہ ’اردگان کے ترکی‘ کا نمودار ہوتے چلے جانا!

(کچھ بعید نہیں اسی فہرست میں ’فہد و عبداللہ کے دَم کشیدہ سعودی عرب‘ کی جگہ خطرات میں کود پڑنے والا ’سلمان کا سعودی عرب‘ بھی آئے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ’مرسی کا مصر‘ بھی اِس فہرست میں آتا آتا رہ گیا؛ ورنہ آنے والے دنوں کی صورت شاید کوئی اور ہوتی۔ گو پھر بھی ہم ناامید نہیں؛ آج نہیں تو کل ان شاءاللہ ایک واقعہ ہونا ہی ہے۔ پھر تیونس سے نمودار ہونے والی اور لیبیا و مصر سے گزرتی شام تک جا پہنچنے والی ’عرب سپرنگ‘ جو کہ آدھی پونی ’اسلامی سپرنگ‘ بھی تھی، وقتی طور پر چاہے ناکام ہو گئی ہو لیکن خطے میں اسرائیل کے ’مستقبل‘ کےلیے پریشان طبقوں کو بہت کچھ بتا گئی: ان بڑے بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے یہاں کوئی ٹھوس انفراسٹرکچر یا کوئی مضبوط اکانومی تیار حالت میں چھوڑنا جسے کبھی بھی کوئی عوامی رَو اٹھ کر اپنے زیرِ استعمال لے آئے اور آخر اس کے اندر اِن خطوں کے مسلمانوں کی امنگیں اور جذبے بولنے لگیں، ایک سنگین غلطی ہوگی۔ اِن خطوں کو تو مغرب کی دیوی ’جمہوریت‘ کے درشن کروانا غلط ٹھہرا! نیز جس ’اسلامی جذبہ‘ کو عرب دنیا میں اتنے عشرے بےدردی کے ساتھ کچل کر دیکھ لیا گیا مگر وہ پھر اتنا زندہ ہے کہ یہاں کی کسی بھی عوامی رَو کے کاندھے پر سوار ہو لیتا ہے، اس کا تو کوئی اور ہی پائیدار علاج کرنا ہوگا)۔ ’سرد جنگ‘ کی مجبوری اب نہیں ہے! جس کے بعد عالم اسلام کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیل جانے کےلیے ملتِ صلیب کے یہاں گھنٹیاں بجائی دی گئیں ، الا یہ کہ کوئی اور مجبوری ان کے آڑے آ جائے۔ اس مقصد کےلیے روم و فارس کی دوریاں تک ختم کرائی جا چکیں ۔ ہمیں فی الحال نہیں معلوم، روس کا بیچ میں آنا یہاں کس درجہ کا گیم چینجر ہے۔ اتنا واضح ہے کہ روس اس بار خاصی حد تک ایک صلیبی چہرے کے ساتھ ہی میدان میں کودا ہے؛ جس کے ڈھیروں شواہد ہیں ۔

یہ ہے مختصراً اس سوال کا جواب کہ چند مسلم ملک اتنی سی طاقت کا حصول بھی اگر کر پائے تو اس کا موقع انہیں کیونکر ملا. اور یہ کہ پچاس کے عشرے سے لے کر اب تک اگر کچھ غیرمعمولی مجبوریاں نہ ہوتیں تو اس کی گنجائش بھی وہ اِن مسلم ملکوں کو دینے والے نہ تھے۔ واللہ غالبٌ علیٰ أمرِہ۔
(جاری ہے)