سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کیوں؟ ثمینہ رشید

ابھی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے کچھ سرگرم کارکنان کی حراست کی خبریں گردش میں تھیں کہ مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا پہ سرگرم ترین رکن ڈاکٹر فیصل رانجھا کو بھی ان کے ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران ایف آئی اے نے گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی۔ بعد ازاں ان تمام لوگوں کو رہا کر دیا گیا. مگر مزید گرفتاریوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے.

کئی دنوں سے اس حوالے سے خبروں کی بازگشت سنی جا رہی تھی کہ حکومت سوشل میڈیا پہ مخالف سیاسی کارکنوں کے خلاف کچھ کاروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ اور اسی ضمن میں ہی پچھلے چند دنوں میں ایف آئی اے نے ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں سے نہ صرف پوچھ گچھ کی بلکہ کچھ لوگوں کوگرفتار بھی کیا۔ بظاہر سب لوگوں کو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے لیکن عزائم مختلف نظر آتے ہیں۔ اس کریک ڈاؤن کے خدشے کا اظہار عمران خان نے حال ہی میں کوئٹہ کے جلسے میں خطاب کے دوران بھی کیا تھا اور اس کے خلاف تحریک چلانے اور عدالتوں میں کیس لڑنے کا عندیہ دیا تھا۔ مصدقہ طور پہ ان کی پارٹی کے چند کارکنان کو ایف آئی اے نے حراست میں لے لیا ہے، لیکن ڈاکٹر فیصل رانجھا کی گرفتاری کے بعد ن لیگی سوشل میڈیا ونگ جو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار کر رہا تھا، خود مذمت اور احتجاج کے اُسی راستے کے مسافر بن گیا۔ لیکن کس کے خلاف؟ ایف آئی اے کے؟

اس سے جو سب سے دلچسپ صورتحال سامنے آئی، وہ یہ ہے کہ خود ن لیگ کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ایف آئی اے کی کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں، اور تنقید کا پہلو یہ ہے کہ جیسے ایف آئی اے بھی کوئی فوجی ادارہ ہے. اس پر مجھ جیسی عوام کو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اس لطیفے پہ ہنسنا ہے یا سر پیٹنا ہے۔ ایف آئی اے کا ادارہ براہ راست فیڈرل گورنمنٹ کے ماتحت آتا ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو براہ راست جواب دہ بھی ہے۔ اس کے باوجود اب ایف آئی اے کی اس کارروائی کو لے کر حکومت کے اپنے ہی لوگوں کا اس پہ تنقید کرنا چہ معنی دارد۔ اور ٹرینڈز کے ذریعے واپسی کے مطالبے کیسے. آپ کی حکومت تھی، پارٹی لیڈرشپ ایکشن لیتی اور ڈاکٹر صاحب باہر آ جاتے. مگر ہم نے دیکھا کہ اس کو بھی ن لیگی کارکنان نے فوج کے کھاتے میں ڈال کر اعلان کیا کہ اس سے ن لیگی کارکنان کی تعداد اور عزم میں اضافہ ہوگا. ایسے شعور کے کیا کہنے.

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا؟آصف محمود

سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کے حوالے سے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ وفاقی حکومت نے چند روز قبل پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر تذلیل و تضحیک پر مبنی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی سلسلے میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے، اس کے بعد ان لوگوں کی فہرست بناتی ہے جنھوں نے حکومت کے خیال میں فوج پر تنقید کی۔ اطلاعات کے مطابق اس فہرست میں تین سو کے قریب لوگ شامل ہیں، جن میں صحافی اور کچھ ٹی وی اینکرز بھی شامل ہیں۔ اب ان میں سے بعض لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے اور ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ تحویل میں لے کر چھان بین کی جا رہی ہے۔ کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

یہ سب کرنے کے بعد خود حکومتی لوگوں کا ایف آئی اے کو برا بھلا کہنے کا کیا مقصد ہے؟ اس ضمن میں چند پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

اوّل یہ کہ حکومت یہ سارا کام اپنی مرضی سے ایک پالیسی کے تحت کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اس ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتی ہے۔

بظاہر فوج کے خلاف لکھنے والوں کے لیے کریک ڈاؤن کرکے اسٹیبلشمنٹ فرینڈلی ہونے کا تاثر دینا
لیکن ساتھ ہی ایف آئی اے پر لعن طعن کرکے پسِ پردہ فوج کو ہی اس کارروائی کا ذمہ دار قرار دینا
اور اس کے ساتھ اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی سیاسی تنقید سے چھٹکارا حاصل کرنا،
اور پھر اپنے اکادکا کارکنوں کو گرفتار کرکے واویلا کرنا تاکہ عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے، اور کارکنوں کی قربانی دینے میں ہمارے ملک کے حکمران ویسے بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔

یوں تو سوشل میڈیا کو کافی عرصے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. پہلے بھی کئی لوگوں کو خفیہ طور پہ اٹھایا جاتا رہا ہے لیکن اس مرتبہ یہ سلسلہ خود حکومت نے شروع کیا ہے اور خود ہی مظلومیت کا لبادہ بھی اوڑھ لیا ہے۔ ممکن ہے کہ روایتی ووٹر حکومت کے ارکان کے جھوٹ کے پلندے پہ آنکھ بند کر کے حقِ وفاداری کا فریضہ جاری رکھیں، لیکن جس سوشل میڈیا پر حکومت نے پابندی لگانے کی کوشش کی ہے، وہاں اس سلسلے میں شروع ہونے والے احتجاج کو کنٹرول کرنا حکومت کے لیے آسان نہ ہوگا۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.