کوئی پی ٹی آئی کو سمجھائے - محمد اشفاق

ڈان لیکس کے ہنگامے کے غیرمتوقع انجام نے جہاں الیکٹرانک میڈیا کے چند چینلز اور اینکرز کی امیدیں خاک میں ملا دیں، وہاں سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامیوں کا اشتعال اور مایوسی بھی قابل فہم تھی. بدقسمتی سے اس اشتعال کا زیادہ نشانہ آرمی چیف بنے کہ ان سے بہت سی غیرحقیقی توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں، حالانکہ خود خان صاحب ہی نے قوم کو خوشخبری سنائی تھی کہ جنرل صاحب جمہوریت کے حامی ہیں.

یہ صورتحال افسوسناک ہونے کے ساتھ مضحکہ خیز اس لیے تھی کہ وہی جماعتیں اور اصحاب جو فوج کی عزت اور تقدس کے دفاع کے لیے سرگرم تھے، تنازعے کے تمت بالخیر ہوجانے پر لٹھ لے کر فوج کے پیچھے پڑ گئے. ”بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا“ کے مصداق حکومت جو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا فورس سے پہلے ہی نالاں تھی، اس بار اس نے فوج اور آرمی چیف کے تقدس کا نعرہ لگایا اور ایف آئی اے کو کارروائی کا اشارہ دے ڈالا.

تادم تحریر اطلاعات یہ ہیں کہ کوئی دو سو کے قریب سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی فہرست تیار ہوگئی ہے، جس میں وزن برابر کرنے کو چند ایک نام حکومتی جماعت کے حامیوں کے بھی شامل کیے گئے ہیں، تاہم جیسا کہ اندازہ تھا، بڑی تعداد پی ٹی آئی کے حمایتیوں کی ہے- عمران خان صاحب نے جہاں کوئٹہ میں خطاب کے دوران حکومت کو کسی کارروائی سے باز رہنے کی تلقین کی یا دھمکی دی ہے، وہیں جناب فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کو ہراساں کرنے پر ایف آئی اے کو عدالت لے کر جائے گی، اور شاید کارکنوں کی پیروی بھی پارٹی سطح پر کی جائے. کئی ایک وجوہات کی بناء پر یہ اقدام پی ٹی آئی کے حق میں بہتر نہ ہوگا.

ایک تو یہ حقیقت ہے کہ اکثر متنازعہ پوسٹس اور ٹویٹس تنقید نہیں بلکہ دشنام طرازی اور الزام تراشی کے زمرے میں آتی تھیں، حکومت نے بھی نہایت ہوشیاری سے ہزاروں یا لاکھوں میں سے صرف انھی لوگوں کو ٹارگٹ کیا ہے جن کی پوسٹس کا دفاع ممکن نہیں ہے.

یہ بھی پڑھیں:   زکواۃ بمقابلہ احساس پروگرام - پروفیسر عمران احسن خان نیازی - (ترجمہ: مراد علوی)

دوم جناب فواد چوہدری صاحب یہ فرما کر کہ متنازعہ مواد نفرت انگیز نہیں بلکہ توہین آمیز ہے، گویا بالواسطہ طور پر اعتراف خود ہی فرما چکے ہیں، یہ دلیل عدالت میں پیش کرنا اپنے کارکنوں پر خودکش حملے کے مترادف ہو سکتا ہے.

سوم یہ کہ حکومت بہت ہوشیاری سے یہ تاثر پختہ کر چکی ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کو اداروں کے وقار اور تقدس سے کوئی غرض نہیں ہے، پی ٹی آئی جب بطور جماعت اپنے کارکنوں کے دفاع میں اترے گی تو دانیال عزیز، مریم اورنگزیب، حنیف عباسی جیسے حکومتی بزرجمہر یہ تاثر پھیلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے کہ یہ کارکنوں کی انفرادی آراء نہیں تھیں، بلکہ جماعتی حکمت عملی تھی، جس کے تحت ادارے کو ٹارگٹ کیا گیا، اسی لیے اب جماعت خود ان کی وکالت کر رہی ہے.

چہارم یہ کہ بین الاقومی صحافتی تنظیموں، میڈیا واچ ڈاگز، انسانی حقوق کے اداروں کی اکثریت اس معاملے پر ان ایکٹوسٹس کا ساتھ دے گی، حکومت اور عدالتوں کے لیے سو دو سو بندوں کو کئی سال کی قید کی سزا سنانا قطعی آسان نہیں ہوگا. غالب امکان یہ ہے کہ ایکٹوسٹس کی اکثریت باعزت بری ہو جائے گی اور چند ایک انتہائی غلیظ اور بےہودہ مواد پھیلانے والوں کے علاوہ سب بچ جائیں گے، جبکہ جب سب کا دفاع اجتماعی طور پر کیا جائےگا تو پی ٹی آئی نہ صرف خود موردالزام ٹھہرے گی، بلکہ شاید اس طرح کارکنوں کی اکثریت بھی سزا سے نہ بچ پائے.

بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ جلسے جلوسوں اور بیانات کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے، اس معاملے میں عدالت پہنچ جانا بہت بڑی غلطی ہوگی، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جبکہ فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ دونوں ہی کے سامنے دباؤ کا شکار ہے. فارن فنڈنگ اور فوج کو بدنام کرنا، ان دونوں الزامات کو ملا کر نون لیگ پارٹی کو کم از کم اداروں کی نظر میں مشکوک اور بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی.

یہ بھی پڑھیں:   والدین کے لیے وقت نکالیں - منزہ گل

ہارون الرشید صاحب اکثر حکومت و اداروں سے ایک خوبصورت سوال کرتے ہیں، اس معاملے میں یہی سوال پی ٹی آئی سے کیا جانا بہتر ہوگا.
الیس منکم رجل رشید؟